Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 02 MARCH
بہار، مغربی بنگال، کرناٹک،اتر پردیش،گجرات، مہاراشٹر……….یہ وہ ریاستیں ہیں ، جہاں کے حالات اب صاف صاف بتانے لگے ہیں کہ انتخابات اب قریب ہیں۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جہاں رام نومی کے موقع پر فرقہ وارانہ فسادات کے خوب کھیل کھیلے گئے۔ نفرت اتنی بھڑکائی گئی ہے مذہب اور دھرم کے نام پر سماجی تانا بانا بکھرتا ہوا نظر آنے لگا ہے۔ایک بھائی اپنے دوسرے بھائی کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ رام نومی کے دن، بنگال کا ہاوڑہ ہو یا بہار کا نالندہ اور سہسرام، مہاراشٹر کا اورنگ آباد ہو یا گجرات کا وڈودرا۔ ہر جگہ رام کے نام پر سیاست کی گئی ۔ایک منصوبہ بند سازش کے تحت تشدد کا بازارگرم کرنے میں کوئی کور کسر نہیں چھوڑا گیا۔اگر اب ملک کو اس بنیاد پر تقسیم کیا جائے گا کہ فلاں علاقہ ایک مذہب والوں کا ہے اور فلاں دوسرے مذہب والوں کا ، تو ایسا ہی ہو تا رہے گا، جس طرح ابھی ہوا ہے یا کیا گیا ہے۔
ایک طرف فسادات ہوئے اور دوسری طرف لہو لہان سر زمین پر سیاست کی کھیتی شروع ہو گئی۔فسادات کی آڑ میں ووٹوں کو پولرائزڈ کرنے کا کاروبار شروع ہوگیا ۔ سیاست کے اس کھیل میں ابھی بہار سب سے آگے ہے۔ایک سیاسی جماعت کے لوگ یہ کہتے ہوئے سنے جا رہے ہیںکہ 2025 میں جب ہماری حکومت ہوگی تو ہم فسادیوں کو الٹا لٹکا دیں گے اور اس کے جواب میں دوسری سیاسی جماعت کے ذمہ دار کہہ رہے ہیں کہ ایک منصوبہ کے تحت ریاست میں فسادات کی آگ کو بھڑکایا گیا ہے۔ لیکن پبلک تو اس بات کو خوب جانتی ہے کہ اس پردے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ریاست بہار کےسہسرام ، نالندہ، گیا اور بھاگلپور میں رام نومی کے جلوس کے دوران پرتشدد جھڑپیں ، لوٹ پاٹ اور آگ زنی کے واردات ہوئے۔ اس کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ماحول کو پر امن بنانے کی کوششیں کی جاتیں۔ سبھی سیاسی جماعتوں کے لوگ ایک ہوکر عوام سے امن و امان بحال کرنے کی اپیل کرتے ، لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں سماج میں لگی اس آگ میں اپنی اپنی سیاست کی روٹیاں سینکنے میں مصروف ہو گئی ہیں۔ حالانکہ ادھر ایک دو روز سے کہیں بھی کسی ناخوشگوار واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں مل رہی ہے، لیکن سیاست ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔
آر جے ڈی نے بی جے پی پر بہار میں فسادات پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔ ساتھ ہی سی ایم نتیش کمار نے کہا کہ شرپسندوں کو بخشا نہیں جائے گا۔دوسری جانب بی جے پی نے وزیر داخلہ امت شاہ کے سہسرام کے دورے کو منسوخ کرنے کی سازش بتائی ہے۔ ہفتہ کو بی جے پی کے ریاستی صدر سمراٹ چودھری نے کہا کہ ہمارے لوگوں کو سیکورٹی نہیں مل رہی ہے۔ اس لیے وزیر داخلہ کا پروگرام منسوخ کرنا پڑا۔اس کا جواب دیتے ہوئے جے ڈی یو کے ترجمان نیرج کمار نے کہا کہ امیت شاہ جی کا دورہ افواہیں پھیلانے کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا ہے۔ سمراٹ چودھری کا کہنا ہے کہ ان کے لوگوں پر بمباری کی گئی ہے۔ پٹنہ میں بی پی ایس سی کے پروگرام میں پہنچے سی ایم نتیش کمار
نے کہا کہ یہ بہت افسوسناک ہے کہ یہ سب ہوا۔ ہم نے کہا ہے کہ کون گڑبڑ کرتا ہے، تحقیقات کریں۔ سارا دن اچھا گزر رہا تھا۔ تھوڑا بہت ادھر ادھر ہوا کرتا تھا، اس پر بھی کارروائی ہوتی تھی۔سمراٹ چودھری کا کہنا ہے کہ سمراٹ اشوکا ہمارے آئیڈیل ہیں۔ ہم نے ان کا پروگرام بڑے جوش و خروش سے طے کیا تھا، لیکن بدقسمتی سے بہار حکومت نے سیکورٹی فراہم نہیں کی۔ جس جگہ پروگرام ہونا ہے وہاں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ اس کی وجہ سے مرکزی وزیر داخلہ کا پروگرام منسوخ کرنا پڑا۔ عظیم اتحاد کے رہنما اور آر جے ڈی ایم ایل اے بھائی وریندر کا الزام ہت کہ جب بھی الیکشن کے دن نزدیک آتے ہیں، بی جے پی فسادات کا پس منظرتیار کرنا شروع کر دیتی ہے۔ وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایسا کر کے وہ الیکشن جیت جائیں گے۔ لیکن بہار میںعظیم اتحاد کی حکومت ہے ۔ ان کا ارادہ کامیاب نہیں ہوگا۔ ہم ان نا دہندگان کے ساتھ سختی سے نمٹیں گے۔کچھ اسی طرح کا الزام آر جے ڈی کے ترجمان چترنجن گگن کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ سماج دشمن عناصر بہار کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رام نومی کا تہوار خوشگوار ماحول میں گزرا، لیکن تفرقہ پھیلانے والے اور بدتمیز عناصر کو ہضم نہیں ہو سکا۔ اس لیے ایک سازش کے تحت دو مذہبی برادریوں کے درمیان نفرت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
بہر حال سیاسی جماعتوں کی طرف سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے کے ساتھ ساتھ 2024 کے لوک سبھا اور 2025 کے اسمبلی انتخابات کے حوالے سے اپنے اپنے فائدے کی باتیں تو خوب ہو رہی ہیں لیکن سماج کو جوڑنے کی پہل کہیں سے بھی ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔یہ صورتحال معصوم عوام کے لئے ایک پیغام ہے۔ سماج میں امن و امان کے قیام کے لئے اب عوام کو ہی آگے آنا ہوگا۔
**********************