Taasir Urdu News Network – MD ARSHAD 27 APRIL
نئی دہلی ، 26 اپریل (ہ س)۔ تین طلاق پر بنائے گئے قانون کو چیلنج کرنے کے معاملے میں مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے قانون وقت کی ضرورت ہے، ایسے میں 3 سال تک کی سزا سے تین طلاق کو روکنے میں مدد ملے گی۔مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ تین طلاق کو غیر آئینی قرار دینے کے باوجود اس پر مکمل پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں داخل ایک حلف نامہ میں کہا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد بھی ملک بھر میں تین طلاق کے سینکڑوں معاملے سامنے آئے ہیں۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے تین طلاق ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ بورڈ نے کہا ہے کہ طلاق بدعت کو جرم قرار دینا غیر آئینی ہے۔ اس معاملے پر جمعیۃ علماء ہند سمیت تین عرضیاں پہلے ہی زیر التوا ہیں۔ عدالت نے ان پر 13 ستمبر 2019 کو نوٹس جاری کیا تھا ۔درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل سلمان خورشید نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے جس پریکٹس کو کالعدم قرار دے دیا ہے اس کے لیے سزا کا بندوبست کیوں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ تین سال کی سزا والا سخت قانون خاندان کے مفاد میں نہیں ہے۔جمعیۃ علماء ہند کی عرضی میں تین طلاق کے قانون پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ تین طلاق پر پابندی لگانے والا حالیہ قانون آئین کی بنیادی روح کے مطابق نہیں ہے۔ ایڈووکیٹ اعجاز مقبول کے توسط سے دائر درخواست میں اس قانون پر پابندی کے لیے گائیڈ لائن جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کو نافذ کرنے کی ایسی کوئی صورت نہیں تھی کیونکہ اس طرح کی طلاق کو سپریم کورٹ پہلے ہی غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلامی قانون کے مطابق شادی ایک سول معاہدہ ہے اور یہ معاہدہ طلاق کے ذریعے ختم ہوتا ہے۔ اس لیے دیوانی غلطیوں کے لیے مجرمانہ ذمہ داری کا تعین کرنا مسلمان مردوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایکٹ کے سیکشن 4 کے مطابق 3 سال قید کا پروویژن بہت زیادہ ہے کیونکہ سنگین مقدمات میں بھی اس سے کم سزا کا انتظام ہے۔ ایکٹ کے سیکشن 7 کے مطابق اسے ناقابل ضمانت جرم سمجھا جاتا ہے ، جب کہ سنگین جرائم جیسے اغوا وغیرہ قابل ضمانت ہیں۔