Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 19 APRIL
ان دنوں ریاست بہار کے سارن ضلع کے سرکاری دفاتر کے ورک کلچر میں بہتری لانے کے سلسلے میں وہاں کےنو مامور ڈی ایم امن سمیر کی کوششوں کا چرچا خوب ہو رہا ہے۔ڈی ایم نے حکومت بہار کے ضوابط کے مد نظر ایک سرکلر جاری کرکےسارن ضلع میں مامور تمام سرکاری افسران و ملازمین کو یہ کہہ دیا ہے کہ دفتر کے اوقات میں مہذب لباس میں رہیں۔ گلے میں شناختی کارڈ لگائے رہیں۔آپ کی سلیقہ مندی سے یہ پتہ چلے کہ آپ ایک مہذب سرکاری عملہ ہیں۔عام لوگوں میں اور آپ میں نمایاں فرق ہونا چاہئے۔
ڈی ایم امن سمیر نے اپنے سرکلر کے ذریعہ سرکاری دفتروں اور اسپتالوں میں کام کرنے والےاہلکاروں کو مہذب طریقے سے دفتر میںآنے کا حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلاک اور ضلع ہیڈکوارٹر کا کوئی بھی ملازم یا افسر ایسا لباس پہن کر دفتر نہ آئے کہ کسی کو معلوم نہ ہو کہ یہ سرکاری آدمی ہے یا کوئی عام آدمی۔ جو ڈاکٹر ہیں انہیں ڈاکٹروں کی طرح نظر آنا چاہئے۔ اگر وہ اے این ایم ہیں تو انہیں اے این ایم جیسا نظر آنا چاہئے۔ یہ اچھی بات ہے کہ ڈی ایم کے مذکورہ حکم کا اثر اب دھیرے دھیرے نظر آنے بھی لگا ہے۔ اچانک معائنہ کے دوران ڈی ایم کی ہدایت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکڑے جانے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی بھی شروع ہو گئی ہے۔ سارن ضلع کی ڈپٹی ڈیولپمنٹ کمشنر پرینکا رانی نے بھی ڈی آر ڈی اے آفس کے تمام ملازمین کو جینز پینٹ پہن کر دفتر نہیں آنے کی ہدایت دی ہے۔
ڈی ایم امن سمیران دنوں صبح 10 بجے اور شام 4 بجے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے روزانہ کے کاموں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس وجہ سے دفاتر میں دیر سے آنے اور شام 5 بجے سے پہلے دفتر سے نکلنے والے افسروں اور اہلکاروں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈی ایم نے دفتر میں کام کرنے والے تمام عہدیداروں اور اہلکاروں کو گلےمیں شناختی کارڈ ڈال کر کام کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جن کارکنوں کے شناختی کارڈ اب تک نہیں بنے ہیں ان کے شناختی کارڈ بنانے کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔ ڈی ایم نے ہدایت دی ہے کہ افسران فیلڈ میں اتنا ہی وقت گزاریں گے جتنا وہ دفتر میں گزارتے ہیں۔ڈی ایم کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی وقت کسی بھی بلاک کا اچانک معائنہ کر سکتے ہیں۔ اس لیے سب کو ہمیشہ ضوابط کا خیال رکھنا چاہیے۔ قابل ذکر ہے کہ ڈی ایم امن سمیر نے سارن ضلع کے ڈی ایم کی حیثیت سے جوائن کرنے کے ساتھ ہی صدر بلاک کا اچانک معائنہ کیا تھا۔ اس دوران غیر حاضر پائے جانے والے 7 ملازمین کی تنخواہ روک دی گئی۔ڈی ایم کے اس کردار سے ضلع کے سرکاری افسران و ملازمین میں ہڑکمپ مچا ہواہے۔
واضح ہو کہ حکومت بہار وقت وقت پر اپنے افسران و ملازمین کے لئے دفتری کلچر کے مطابق لباس اور وضع قطع اختیار کرنے کی ہدایت دیتی رہی ہے۔2019 میں جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ (جی اے ڈی)، حکومت بہار کے ایڈیشنل سکریٹری شیو مہادیو پرساد کے دستخط سے ایک سرکلر جاری ہوا تھا۔سرکلر کے ذریعہ افسران و ملازمین کو ہدایت دی گئی تھی کہ غیر سنجیدہ لباس میں دفتر آنے سے گریز کریں۔ دفتری اوقات میں دفتر کے کلچر اور اور دفتر کے تقاضوں کا خیال رکھیں۔ سرکلر میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ حکومت بہار کے تمام افسران وملازمین جینز اور ٹی شرٹ پہن کر دفتر آنے سے گریز کریں۔ایسے لباس میں دفتر آئیںجو باوقار، آرام دہ، سماجی طور پر قابل قبول اور موسم کی ضرورت کے مطابق ہوں۔
اپنے افسران و ملازمین کے لباس کے معاملے میںحکومت بہارکی یہ سنجیدگی کوئی اتفاقیہ نہیں ہے۔اس سے پہلے بھی ریاستی حکومت ڈریس کوڈ پر توجہ دیتی رہی ہے۔ 2018 میں بھی ، اس وقت کے چیف سکریٹری انجنی کمار سنگھ نے ایک سرکلر جاری کیا تھا ،جس میں حکومت بہار کے افسران و ملازمین کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ہفتے میں کم از کم دو بار کھادی کے کپڑے پہنیں تاکہ قومی کپڑے کو فروغ دیا جا سکے۔اس سے قبل 2007 کے اوائل میں بھی بہار کے اس وقت کے چیف سکریٹری اشوک کمار چودھری نے ڈریس کوڈ پر ایک سرکلر جاری کیا تھا۔ سرکلر میں ڈریس کوڈ کا ذکر تھا۔ اس میں دھوتی وکرتا، قمیض،کوٹ کے ساتھ دھوتی، یا مردوں کے لیے کوٹ ٹراؤزر درج کیا گیا تھا، اس میں مزید کہا گیا تھا کہ گہرے رنگ والے کپڑوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔ گرمیوں کے دوران، وہ بش شرٹ،ٹراؤزر یا شیروانی وچوڑی دار پاجامہ کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ خواتین کو دفتر میں’’سادہ سوتی یا ریشمی ساڑھیوں کے بغیر بارڈر یا سادہ بارڈر‘‘ کے ساتھ معقول لمبائی کے بلاؤز یا دوپٹہ کے ساتھ شلوار قمیض میں آنا چاہیے۔مرد سفید یا کریم چوڑیدار پاجامہ کے ساتھ سیاہ شیروانی اور سیاہ، سفید یا کریم پتلون کے ساتھ سیاہ بٹن اپ کوٹ (بند گلا) پہن سکتے ہیں۔ شیروانی اور کوٹ گرمیوں کے لیے سفید رنگ کے ہو سکتے ہیں۔
آج حکومت بہار کے سکریٹریٹ سے لے کر بلاک اور سرکل دفاتر تک کا حال دیکھ لیجئے۔ لباس اور وضع قطع کے معاملے میںافسران کتنے غیر سنجیدہ ہیں، آپ کو اندازہ لگ جائے گا۔ شناختی کارڈ سے تو 90 فیصد افسران و ملازمین مبریٰ ہو چکے ہیں۔ایسے ماحول میں سارن ضلع کے ڈی ایم امن سمیر اگر اپنے ضلع میں مامور افسران و ملازمین کو ڈریس کوڈ اور شناختی کارڈ کی یاد دلا رہے ہیں تو یہ بہت اچھی بات ہے۔حکومت بہار کو بھی ڈریس کوڈ کے سلسلے ایک بار پھر سخت رویہ اختیار کرنا چاہئے۔
********************

