TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –7 MAY
باگیشور دھام کے پیٹھادھیشور دھیریندر کرشنا شاستری کو بہار بلاکر پروگرام کرائے جانے کو لیکر سیاست طول پکڑتی جا رہی ہے۔ عظیم اتحاد کے رہنما مان رہے ہیں کہ کرشنا شاستری پچھلے کچھ دنوں سے ملک میں مذہبی منافرت کی آگ لگانے کا کام کر رہے ہیں۔اس لئے اگر وہ بہار میں آکر سماج میں نفرت کی آگ بھڑکانے کا کام کریں گے تو انھیں گرفتار کیا جائے گا۔دوسری طرف اپوزیشن میں بیٹھے بی جے پی، وی آئی پی اور ایل جے پی کے لیڈر نتیش کو چیلنج کر رہے ہیں کہ اگر ہمت ہے تو شاستری کو گرفتار کر لیں۔ اب دیکھنا یہی ہے کہ سیاست کی اس ضد میں بہار کا کتنا بھلا ہونے والا ہے۔
بعض سیکولر سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بہار میں دھیریندر کرشنا شاستری کے پروگرام کے پیچھے سیاست کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔جس طرح کرناٹک میں ان دنوں تمام عوامی مدعوں کو پیچھے کرکے محض ’’دھرم‘‘ کی آڑ میں انتخابی جنگ جیتنے کی کوشش کی جا رہی ہے اسی طرح کا ماحول پورے ملک میں بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔بہار کی مٹی ایک خاص سیاسی جماعت کے لئے تھوڑی سخت محسوس ہو رہی ہے اس لئےاس کو تھوڑا نم کرنے کے لئے بابا دھیریندر کرشنا شاستری کی’’ ہنومنت کتھا‘‘ کی ضرورت پڑ رہی ہے۔سیاست کے دگج اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں دھیریندر کرشنا شاستری اپنی کتھا کے درمیان بڑی باریکی سے سیاسی باتیں کہہ جاتے ہیں۔یعنی زور کا جھٹکا دھیرے سے مارنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت دھیریندر کرشنا شاستری کو سماجی ہم آہنگی والے سماج کے لئے نقصان دہ مانتے ہیں تو مرکز کی بر سر اقتدار سیاسی جماعت بابا کی کتھا کو شاید سماج سے زیادہ اپنے اور اپنی سیاسی جماعت کی صحت کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ بہار کے سابق ڈپٹی سی ایم اور راجیہ سبھا ممبر سشیل کمار مودی نے نتیش کمار کو کھلا چیلنج دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر نتیش کمار میں ہمت ہے تو وہ باگیشور دھام کے بابا دھیریندر کرشنا شاستری کو پٹنہ پہنچتے ہی گرفتار کر لیں۔ انہوں نے آر جے ڈی لیڈروں کی باگیشور دھام کے بابا کو بہار میں داخل نہیں ہونے دینے کی دھمکی پر اپنا ردعملد ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجرنگ دل پر پابندی کا مطالبہ، رام چرت مانس کی مذمت، رام مندر کی مخالفت، ساسارام اوربہار شریف میں پتھراؤ کے شکار کئی رام بھکتوں کو فسادی قرار دینا اور برہمنوں کو غیر ملکی قرار دینا یکطرفہ کارروائی سے ثابت ہوتا ہےکہ عظیم اتحاد کی حکومت ووٹ بینک کے لیے پوری طرح سے ہندو مخالف ہو چکی ہے۔
سوشیل کمار مودی کی اس مخالفت میں چھپی ایک باریک سیاست چلا چلا کر یہ کہہ رہی ہے کہ بابا کی ہنومنت کتھا کے پردے کے پیچھے سے 2024 کے پارلیمانی اور 2025 کی بہار کی اسمبلی انتخابات کی تیاری ہو رہی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو بابادھیرندر کرشنا کے پروگرام پر روک کے حوالے سے یہ قطعی سوال نہیں کرتے کہ کیا یہی سیکولرازم ہے؟ کیا لالو اورنتیش نے فیصلہ کر لیا ہے کہ انہیں ہندوؤں کا ایک ووٹ نہیں چاہیے؟ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ دہشت گرد تنظیم پی ایف آئی کی سرگرمیوں اور ملک کو کربلا میں تبدیل کرنے جیسے بیانات پر خاموش رہنے والوں کو بجرنگ دل پر بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
ایل جے پی (رام ولاس) کے قومی صدر چراغ پاسوان کہتے ہیں وہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ حکومت کو جلتے ہوئے مسائل کیوں نظر نہیں آتے۔ عوام کے ایمان، عوام کی آستھا کا بار بار مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ بیہودہ بیانات دئیے جا رہے ہیں۔ یہ کسی کی ذاتی آستھا کا معاملہ ہے۔ کون کس چیز پر یقین رکھتا ہے، اس کا تعین کرنے والا تیسرا شخص کون ہے۔ جس پر میری آستھا ہوگی ضروری نہیں کہ تمہیں بھی ہو۔ یہ بہت ذاتی معاملہ ہے۔ کیا یہ دیکھنا حکومت کا کام ہے کہ کون سا بابا آرہا ہے اور کون سا نہیں؟ یہ عوام پر منحصر ہے۔ جب حکومت مداخلت کرنے لگتی ہے تو ثابت ہو جاتا کہ یہ سلگتے ہوئے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے کی جا رہی ہے۔ یہ بالکل غلط ہے۔ادھر وکاشسیل انسان پارٹی (وی آئی پی) کے سپریمو اور سابق وزیر مکیش ساہنی بھی بابا باگیشور کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ ساہنی کا کہنا ہے کہ باگیشور دھام کے بابا کو چاہئے کہ وہ اپنے پاس موجود ایشوریہ طاقتوں سے بہار کا بھلا کریں۔ مکیش ساہنی نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ گاندھی میدان حکومت کی طرف سے ایک مخصوص مذہب کو منظم کرنے کے لیے فراہم کیا جاتا ہے، لیکن جب کوئی ہندو سنت بہار آ رہا ہے تو اسے گرفتار کر کے جیل بھیجنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ بہار آنے والے ہر ایک کا خیر مقدم کرتا ہے۔ جس کو بہار آنا ہے وہ آ جائے۔
چنانچہ بی جے پی اور اس کی حمایتی جماعتیں ایک طرف ہیں تو دوسری طرف عظیم اتحاد ہے۔ عظیم اتحاد حکومت کے وزراء چندر شیکھر، سریندر یادو، سریندر رام، تیج پرتاپ اور آر جے ڈی کے ریاستی صدر جگدانند سنگھ دھیریندر شاستری کو جیل بھیجنے کی بات کرتے ہیں تو اپوزیشن کے رہنماؤں کو برا لگتا ہے۔اسی لئے کہتے پھر رہے ہیں کہ جس کو روکنا ہے روک لے۔حالانکہ اس سب کے درمیان نوبت پور میں شاستری کے پانچ روزہ (13 مئی سے 17 مئی) ہنومنت کتھا کی تیاریاں آخری مرحلے میں ہے۔سیاست کی آواز بھی دھیرےدھیرےاونچی ہوتی جا رہی ہے۔