TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –6 MAY
ہگلی6/اپریل ( محمد شبیب عالم ) زراعتی دفتر سے ملی اطلاع کے مطابق ہگلی ضلع میں قریب 56 ہزار ہیکٹر زمین پر دھان کی کھیتی ہوتی ہے ۔ وہیں ” موچا ” طوفان کے آنے کی اطلاع کے مدنظر اس دھان کی فصل کو تباہ برباد ہونے کے خوف میں یہاں کے کسان شدید گرمی اور دھوپ کی پرواہ کئے بغیر اس فصل کو کاٹنے میں مشغول ہیں ۔ حالانکہ ممکنہ طور پر یہ طوفان کہاں کس علاقے کو نشانہ بنائے گا اس کی پیش گوئی نہیں کی گئی ہے۔ تاہم ہوڑہ اور ہگلی کے کسان تیار دھان کی فصل کو کاٹ کر جلدی سے سمیٹنے کی تیاریوں میں لگ گئے ہیں۔ برکی مشین کے زریعے دھان کی کٹائی کہیں کہیں کی جارہی ہے۔ اضلاع میں دھان کے نقصانات سے بچنے کےلئے یہ مہم شروع کی گئی ہے۔ محکمہ زراعت کا اندازہ ہےکہ ہگلی ضلع میں تقریباً 56000 ہیکٹر اراضی پر دھان کی کاشت کاری کی جاتی ہے ۔ ہگلی ضلع کے آرم باغ، گوگھاٹ، تارکیشور، پرشوڑا، جنگی پاڑہ اور دوسرے کئی علاقوں میں کسان دھان کی فصل کاٹنے میں مصروف ہیں ۔ بہت سارے علاقوں میں کٹائی مکمل ہے ۔ زراعتی دفتر سے ملی اطلاع کے مطابق ابھی بھی تیس فیصد دھان کے فصل کی کٹائی مکمل نہیں ہوئی ہے ۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا جارہا ہےکہ اس سال دھان کے فصل کی پیداوار اچھی ہوئی ہے۔ اس معاملے میں آرم باغ رام نگر کے ایک کسان بدیاپتی باروئی کا کہنا ہےکہ ( بورو دھان ) اسی سے نوے فیصد پک جانے یعنی جیسے ہی بادامی رنگ اختیار کرتی ہے ہم دھان کاٹنا شروع کردیتے ہیں ۔ لیکن اس بار طوفان آنے کی اطلاع پاکر کچھ پہلے ہی دھان کی کٹائی شروع کردیئے ہیں ۔ ایک اور کسان کا کہنا ہےکہ دو چار دن اور تاخیر سے دھان کاٹنے سے بہتر ہوتا مگر طوفان کی آمدن کے خوف سے وقت سے پہلے دھان کی کٹائی شروع کردیئے ہیں اس لئے کہ اگر طوفان آگیا تو ہمارا سب کچھ ختم ہوجائے گا محنت کےساتھ ساتھ فصل بھی ہاتھ سے چلا جائے گا اسی وجہ سے دھوپ گرمی کی پرواہ کئے بغیر دھان کی کٹائی میں سرگرم ہیں۔ ضلع ڈیپوٹی ایگریکلچر ڈائریکٹر پریا لال مردھا نےکہا کہ جمعہ تک ستر فیصد دھان کی کٹائی مکمل ہوچکی ہے ۔ باقی بچے دھان کی کٹائی ہنگامی پیمانے پر کی جارہی ہے ۔ اس کےلئے خصوصی مہم بھی چلائی جارہی ہے ۔ امید کرتے ہیں کہ اس خوفناک طوفان کی آمد سے قبل دھان کٹائی مکمل کرلی جائے گی ۔ وہیں اس معاملے میں ڈی ایم مکتا آریہ کا کہنا ہےکہ ہمارے ضلع کے میں یہ طوفان آئے گا اس کے معاملے میں محکمہ موسمیات ، آب و ہوا دفتر سے کسی خاص طرح کی اطلاع نہیں ملی ہے ۔ لیکن پھر بھی ہم وقت رہتے احتیاطی تدابیر اختیار کررہے ہیں تاکہ مشکل وقت اور نقصان سے بچا جا سکے۔