پاکستان میں حالات بے قابو ہوئے توملک کے ایٹمی اثاثوں پر امریکہ میں خدشات بڑھ جائیں گے: ماہرین

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –11  MAY

واشنگٹن،11مئی: سابق وزیر اعظم عمران خان کی ڈرامائی انداز میں حراست کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پاکستان میں جمہوریت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے اور اگر امن و امان کے حالات شدید خراب ہوتے ہیں تو مغرب میں پاکستان کے ایٹمی اثاثو ں کی سیکیورٹی کے بارے میں خدشات جنم لے سکتے ہیں۔واشنگٹن میں امریکی اور پاکستانی ماہرین کہتے ہیں کہ عمران خان کی مقبولیت کے پیش نظر ان کے خلاف کاروائی اور اظہار رائے اور احتجاج کے خلاف کریک ڈاون نہ صرف ملک میں جمہوری اقدار کا نقصان ہے بلکہ موجودہ عالمی تناظر میں پاکستان کے بین الااقوامی تعلقات میں سرد مہری کا باعث بن سکتا ہے۔واشنگٹن کے دی مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے پاکستان اور افغانستان اسٹڈیز کے ڈائریکٹر مارون وائن بام کہتے ہیں کہ یہ بات تو سمجھ آتی ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلیشمنٹ عمران خان کی سیاست کو بہت زیادہ دیر تک عدم استحکام پھیلانے نہیں دے سکتی تھی لیکن جس انداز سے پی ٹی آئی راہنما کوحراست میں لیا گیا ہے اس سے بہت سے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔وائن بام کے مطابق ان حالات میں سیاسی طور پر عمران خان کے لیے عوام میں مزید ہمدردی پیدا ہو گی جب کہ ملک کو درپیش چیلنجز بھی مزید خرابی کی طرف جا سکتے ہیں۔’’ ایک تو یہ ہے کہ یہ کاروائی دنیا کے نظروں میں پاکستان کیتشخص کو ظاہر کرتی ہے کہ ملک اپنے معاملات سے کیسے نمٹتا ہے، دوسرا یہ کہ اس سے پیدا ہونے والی صورت حال کے پہلے سے چلے آ رہے اقتصادی اور سیکیورٹی چیلنجز پر بھی اثرات ہوں گے کیونکہ بحرانی کیفیت تحریک طالبان پاکستان جیسے انتہا پسند گروپوں کے لیے سازگار ہو گی کہ وہ اپنے حملوں میں اضافہ کر سکیں‘‘۔وہ کہتے ہیں کہ واشنگٹن اس وقت دیکھ رہا ہے کہ حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اور ملک میں جمہوریت اور سیکیورٹی کہاں تک متاثر ہو گی۔ڈاکٹر وائن بام نے کہا کہ اگر فوج کی توجہ سیکیورٹی چیلنجز سے ہٹی رہی تو اس سے مزید پریشانیاں پیدا ہوں گی۔’’ اگرچہ پاکستانی فوج کا یہ تاثر ہے کہ یہ ایک منظم ادارہ ہے لیکن سیاسی افرا تفری، امن و امان میں بگاڑ اس حد تک بڑھ جائے کہ حالات بے قابو ہوںے لگیں کہ ا?رمی کمزور پڑ جائے یا منقسم ہو جائے تو امریکہ میں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوگا‘‘۔