ہندوستان میں رہنا ہے تو وندے ماترم کہنا ہوگا، عزت دینی ہوگی بھگوا کو : راکیش سنہا

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –23  MAY

بیگوسرائے، 23 مئی: راجیہ سبھا کے رکن پروفیسر راکیش سنہا نے کہا ہے کہ کانگریس کے بہت سے لیڈروں کی سیاسی روٹی صرف راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے بارے میں باتیں کر کے ہی چلتی ہے۔ پاکستان سے محبت کرنے والے دگ وجے سنگھ بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔
اپنے آبائی ضلع بیگوسرائے آئے پروفیسر راکیش سنہا نے منگل کے روز کہا کہ دگ وجے سنگھ وزیراعظم نریندر مودی پر انگلیاں اٹھا کر لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ نریندر مودی نے گجرات فسادات میں سخت کارروائی کی اور پولیس کو گولی چلانی پڑی۔ اس گولی میں یہ نہیں دیکھا گیا کہ یہ کس پر چلائی جا رہی تھی، صرف تشدد کرنے والوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
دگ وجے سنگھ چاہتے ہیں کہ کسی خاص مذہب کے پرتشدد اور دہشت گردانہ رویے کو نہ صرف معاف کیا جائے بلکہ انہیں مہمان بنا کر رکھا جائے۔ دگ وجے سنگھ قصاب کے ساتھ بھی کھڑے تھے۔ اسی لیے تیستا سیتلواڑ نے کہا تھا کہ دگ وجے سنگھ نے قصاب کو رہا کرنے کے لیے جو مہم شروع کی ہے، وہ انسانی حقوق کی بلندی ہے۔
دہشت گردوں کے لیے مگرمچھ کے آنسو بہانے والے اور پاکستان کے لیے مسلسل ہمدردی ظاہر کرنے والے دگ وجے سنگھ کو بتانا چاہیے کہ بٹلہ ہاو?س میں دہشت گردوں کے مارے جانے پر سونیا گاندھی کی آنکھوں میں آنسو کیوں تھے۔ اس ملک میں جب پاکستان کا جھنڈا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگتے ہیں تو اس پر دگ وجے سنگھ کیا کہتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ ہم ہندوستان کو ایک خوشحال، طاقتور اور سیکولر جمہوریت بنانا چاہتے ہیں جس میں تمام مذاہب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے۔ تمام مذاہب کو بھی آئین کے ساتھ یکساں سلوک کرنا ہوگا۔ کسی مذہب کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ آئین اسے خصوصی مراعات دے۔ اس کے لیے الگ کالج اور ادارہ دیں۔
اس ملک میں رہنا ہے تو وندے ماترم اور جن گن من کو قبول کرنا پڑے گا۔ ملک میں رہنا ہے تو مہارانا پرتاپ سے لیکر شیوا جی سے ہوتے ہوئے ویر کنور سنگھ تک کو قبول کرنا پڑے گا۔ سبھاش چندر بوس اور ہندوستان کی شان ترنگا کو قبول کرناہی پڑے گا۔ اس ملک کی ثقافت میں بھگوا کی کافی اہمیت ہے۔ اس ثقافتی پرچم کے تئیں عزت دینی پڑے گی۔
جو یہ جذبہ نہیں رکھتے ہیں، رامائن، مہا بھارت، پران اور گیتا سے اپنے آپ کو الگ رکھتے ہیں، ایسے لوگ ہندوستانی ثقافت اور تاریخ، ہندوستان کے حال اور مستقبل سے ہی نہیں بلکہ خود سے بھی کٹ جانا چاہتے ہیں۔