TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –9 JUNE
ادھو ٹھاکرے گروپ کے ممبر آف پارلیمنٹ سنجے راوت نے کولہاپور ضلع میں تشدد کے معاملے پر مہاراشٹر حکومت کو جم کر گھیرا ہے۔ سنجے راوت یہ مانتے ہیں کہ کولہاپور تشدد میں مقامی لوگوں کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ اس کے لیے باہر سے لوگ لائے گئے۔ اگر ریاستی حکومت کے پاس انٹیلی جنس کی کمی ہے تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہم انہیں معلومات فراہم کریں گے۔ آخر آپ کی حکومت آنے کے بعد ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کسی ایک شخص کی تصویر لہرانے سے آپ کا ہندوتوا خطرے میں پڑ گیا ہے۔ اورنگ زیب کو دفن ہوئے چار سو سال گزر چکے ہیں۔ 400 سال گزر جانے کے بعد بھی آپ کو الیکشن جیتنے کے لیے اورنگ زیب ہی نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بجرنگ بلی نے کرناٹک میں آپ کی مدد نہیں کی۔ اس لیے آپ کو یہاں اورنگ زیب کی ضرورت ہے۔ ادھو ٹھاکرے کہتے ہیں کہ الیکشن جیتنے کے لیے آپ کو افضل خان، بہادر شاہ ظفر، ٹیپو سلطان کی ضرورت ہے۔ آخر آپ مہاراشٹر میں کیسی سیاست کرنے جا رہے ہیں؟ آپ کے آس پاس کے لوگ فسادی ہیں۔ سب سے پہلے آپ ان کو کنٹرول کریں۔ اگر آپ واقعی ریاست کے لوگوں کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ان فسادات کو روکیں۔
قابل ذکر ہے کہ مہاراشٹر میں فساد جیسی صورتحال کے حوالے سے،ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے بدھ کے روز کہا تھاکہ ریاست میں کچھ لیڈروں کے بیانات اور ایک مخصوص طبقہ کی طرف سے اورنگ زیب اور ٹیپو سلطان کی تعریف کرنا محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے کہا تھا کہ مغل حکمران اورنگ زیب کی شان میں اضافہ کرنے والے عمل کو مہاراشٹر میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ گفتگو کی رو میں دیویندر فڑنویس کچھ ایسے الفاظ بھی استعمال کر گئے ، جو ان کے عہدے سے میل نہیں کھاتے ہیں اور ایک مخصوص طبقہ کے لوگ ان پر اپنا اعتراض ظاہر کر سکتے ہیں۔
اِدھر مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے چند مبصرین نے بڑی سنجیدگی سے لیا ہے۔ان کا ماننا ہے کہ یہ پورا کھیل ملک میں نفرت پھیلا کر دھرم کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اورنگزیب کے نام سے اگردیویندر فڑنویس یا ان جیسے لوگوں کی اتنی ہی دقت ہے تو اورنگزیب کی سیاسی ، سماجی اور مذہبی (ہندو)خدمات کے اعتراف میں جتنے فرامین موجود ہیں ، انھیں دریا برد کر دینا چاہئے۔ان کا کہنا ہے کہ دیویندر فڑنویس جیسے لوگوں کو اورنگزیب کے سلسلے میں لوگوں کے درمیان غلط فہمی پھیلانے سے پہلے کچھ محققوں کی رائے جان لینی چاہئے۔وہ مشہور کتاب ’’انڈین کلچر اینڈ دی مغل ایمپائر‘‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس میں مصنف اڑیسہ کے سابق گورنر پروفیسربی این پانڈے لکھتے ہیں کہ’’ جب میں الہ آباد میونسپلٹی کا چیئرمین تھا (1948 سے 1953 تک) تو میرے سامنے داخل خارج کا ایک معاملہ لایا گیا، جو سومیشور ناتھ مہادیو مندر کی جائیداد سے متعلق تھا۔ مندر کے مہنت کی موت کے بعد اس جائیداد کے دو دعویدار کھڑے ہو گئے تھے۔ ایک نے کچھ ایسے کاغذات جمع کرائے جن میں مغل بادشاہ اورنگزیب کے فرمان بھی شامل تھے۔ بادشاہ نے اس مندر کو نقد اور جاگیر عطیہ کے طور پر دیا تھا۔ میں نے سوچا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اورنگ زیب جیسا ظالم حکمران جو مندروں کو تباہ کرنے میں بدنام ہے، ایک مندر کو یہ کہہ کر جاگیر دے دیتا ہے کہ یہ عبادت اور انتظام و انصرام کے لیے دی جا رہی ہے۔ وہ خود کو بت پرستی سے کیسے جوڑ سکتا تھا۔اس کے بعد میں نے سر تیج بہادر سپرو سے مشورہ لینا مناسب سمجھا،جنھیںعربی اور فارسی پر عبور حاصل تھا۔دستاویزات کا مطالعہ کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ اورنگ زیب کے یہ فرمان اصلی ہیں۔ اس کے بعد اس نے اپنے منشی سے بنارس کے شیو مندر جنگمبڑی کی فائل لانے کو کہا جس کا کیس 15 سال سے الٰہ آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا تھا۔ جنگمبڑی مندر کے مہنت کے پاس اورنگ زیب کے کئی فرمان بھی تھے، جن میں مندر کو جاگیر دی گئی تھی۔ ان دستاویزات نے مجھے اورنگ زیب کی ایک نئی تصویر پیش کی، جس نے مجھے حیران کر دیا۔ ڈاکٹر سپرو کے مشورے پر میں نے ہندوستان کے مختلف بڑے مندروں کے مہنتوں کو ایک خط بھیجا، جس میں ان سے درخواست کی کہ اگر ان کے پاس اورنگ زیب کے وہ فرمان موجود ہیں، جن میں ان مندروں کو جاگیریں دی گئی تھیں، تو وہ برائے مہربانی ان کی فوٹو سٹیٹ کاپی کرکےمجھے بھیج دیں۔ اب میرے سامنےحیرت کا ایک ذخیرہ کھڑا تھا،کیونکہ میں ان میں اُجین کا مہاکلیشور مندر، چترکوٹ کا بالاجی مندر،گوہاٹی کا اومانند مندر، شترنجائی کے جین مندراور شمالی بھارت میں پھیلے جین مندروں اور دیگر بڑے مندروں اور گرودواروں کو دی گئی جاگیروں کے فرمان تھے۔ یہ فرمان 1659 سے 1685 کے درمیان جاری ہوئے تھے۔ ان دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ مورخین نے اورنگ زیب کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے وہ تعصب پر مبنی ہے اور اس طرح ان کی تصویر کا غلط رخ پیش کیا گیا ہے۔ ‘‘اس طرح اورنگزیب کے نام پر ملک میں پھیلائی جا رہی مذہبی منافرت کی اصلی تصویر لوگوں کے سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔مگر انھیں منافرت آمیز سیاست کے علاوہ کچھ اور سے کیا لینا دینا ؟!
****************