گیس سلنڈر کی قیمت میں کمی : تحفہ یا حکمت عملی؟

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –29 AUG      

مرکز ی حکومت نے کافی دنوں کے بعد ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 200 روپے کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ کل وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقد کابینہ کی میٹنگ میں لیا گیا۔ فیصلے کے مطابق پردھان منتری اجولا یوجنا (پی ایم یو آئی) کے مستفید ین کو 200 روپے کا اضافی فائدہ ملے گا۔ انہیں پہلے سے ہی بطور سبسیڈی 200 روپئے کا فائدہ مل رہا تھا۔ اس طرح اب ان کے اکاؤنٹ میں بطور سبسیڈی 400 روپے آئیں گے۔ کل سے پہلے تک دہلی میں بغیر سبسیڈی کے 14.2 کلوگرام ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 1,103 روپے تھی۔مگر اجولا یوجنا کے استفادہ کنندگان کوایک سلنڈر کے لیے 703 روپے ادا کرنے ہوں گے۔ دہلی کے عام صارفین کے لیے ایک گیس سلنڈر کی قیمت 903 روپے ہوگی۔ گیس سلنڈرکی قیمت میں کمی کا اطلاق کل یعنی 29 اگست سے شروع ہو گیا ہے۔
ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں کی گئی کمی کو سیاسی مبصرین مرکزی حکومت کی انتخابی حکمت عملی سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مشن 2024  کے تحت مرکزی حکومت نے اپنے سب سے زیادہ بھروسہ مند ووٹروں کی مدد کرنے کی مشق شروع کر دی ہے۔پی ایم نریندر مودی تقریباً ہر تقریر میں اس اجولا یوجنا کا ذکر ضرور کرتے ہیں۔ چنانچہ پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات اور پھر 2024 میں لوک سبھا انتخابات کے مد نظر ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں کمی کرکے مرکز نے اپنا بڑا انتخابی داؤ کھیلا ہے۔ اجولا اسکیم کے تحت سلنڈر کی قیمتوں کو لے کر اپوزیشن ایک طویل عرصے سے مرکزی حکومت کو گھیر رہی تھی۔کرناٹک اسمبلی انتخابات کے دوران مہنگا ایل پی جی سلنڈر چناوی ایشو بن گیا تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ کانگریس نے وہاں زبردست واپسی کی۔ٹھیک اسی طرح مہنگا ایل پی جی سلنڈر آنے والے راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے انتخابات میں بھی ایک مسئلہ بن رہا ہے۔ راجستھان میں اشوک گہلوت حکومت غریبوں میں 500 روپے فی سلنڈر کے حساب سے اجولا کھانا پکانے والی گیس تقسیم کر رہی ہے۔ راہل گاندھی سے لے کر ممتا بنرجی اور دوسرے اپوزیشن لیڈر تک مہنگے ایل پی جی سلنڈر کو ایشو بنا کر مرکزی حکومت کو گھیر تے رہے ہیں۔
مرکزی حکومت کو اگلے سال الیکشن لڑنا ہے۔ جن لوگوں کو اجولا اسکیم کے تحت سلنڈر ملتے ہیں، وہ بی جے پی کے مضبوط ووٹر مانے جاتے ہیں۔ بی جے پی انہیں فائدہ مند ووٹر کہتی ہے۔ ان ووٹروں کے ذریعے ہی بی جے پی نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں زبردست واپسی کی تھی۔ ایسے میں سلنڈر کی قیمتوں میں کمی کرکے حکمران جماعت اپوزیشن کو بھی جواب دینا چاہتی ہے۔ پچھلے مہینے، مرکزی حکومت ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں کے حملوں کی زد میں آئی تھی۔ انتخابات سے پہلے بی جے پی ایسا کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتی ہے، جس سے اسے 2024 میں جھٹکا لگے۔حالانکہ مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر کا کہنا ہے کہ ایل پی جی سلنڈرکی قیمت گھٹائے جانے کا کوئی تعلق الیکشن سے نہیں ہے۔
درحقیقت گزشتہ ایک ماہ میں کئے گئے کئی سروے میں بی جے پی کی حکومت لگاتار تیسری بار بر سر اقتدار آتی نظر آرہی ہے، لیکن اس کے ووٹ فیصد اور جیت کے اعداد و شمار کم ہوتے جارہے ہیں۔ ایسے میں الیکشن میں ابھی تقریباً 7 ماہ باقی ہیں۔ان چند مہینوں میں بی جے پی نےلبھاؤنے اقدامات کے ذریعے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ یعنی 2023 کے آخر میں ہونے والے تین اہم ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو اس کا فائدہ ملنے کی امید ہے۔ دوسری جانب اب اپوزیشن پارٹیوں کی ریاستی حکومتوں نے بھی فائدہ مند اسکیم کو لاگو کرنا شروع کردیا ہے۔
  قابل ذکر ہے کہمارچ 2023 میں، مرکزی کابینہ نے اجولا منصوبہ کے تحت مستفید ہونے والوں کے لیے 200 روپے فی سلنڈر کی سبسیڈی کو ایک سال کے لیے بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ حکومت نے غریبوں کو صاف ایندھن کا فائدہ فراہم کرنے کے لیے مئی 2016 میں یہ اسکیم شروع کی تھی۔ مالی سال 2022-23 میں اس کا کل خرچ 6,100 کروڑ روپے تھا، جو مالی سال 2023-24 میں بڑھ کر 7,680 کروڑ ہو جائے گا۔  ملک میں 14.2 کلوگرام ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں آخری تبدیلی یکم مارچ 2023 کو ہوئی تھی۔ اس سے پہلے جولائی 2022 میں ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کیا گیا تھا۔
اِدھر گزشتہ تین سالوں میں دھیرے دھیرے ملک میں ایل پی جی سلنڈر کی قیمت دوگنی ہو گئی ہے۔ لوگ طویل عرصے سے گھریلو گیس سلنڈر کی قیمت میں ریلیف کا انتظار کر رہے تھے۔کل سے پہلے تک14.2 کلوگرام کے سلنڈر کی قیمت دہلی میں 1103 روپے، کولکتہ میں 1129 روپے، ممبئی میں 1102.50 روپے، چنئی میں 1118.50 روپے اور پٹنہ میں 1201 تھی۔ گزشتہ سال جولائی میں ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 50 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے مئی میں بھی اس میں 50 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ یکم نومبر کو اس کی قیمت 594 روپے تھی۔ اسے 2 دسمبر 2020 کو بڑھا کر 644 روپے کردیا گیا۔  پھر 15 دسمبر 2020 کو یہ قیمت 694 روپے ہوگئی۔ فروری 2021 میں اس کی قیمت میں تین بار اضافہ کیا گیا تھا اور یہ 794 روپے ہو گئی تھی۔اور اب یہ ایل پی جی سلنڈر عام آدمی کے لئے اتنا مہنگا لگنے لگاتھاکہ اس کا احساس خود حکمراں جماعت بی جےپی کے لیڈروں کو بھی ہونے لگا تھا۔ ساتھ ہی انھیں یہ ڈر بھی ستانے لگا تھا کہ مہنگا گیس سیلنڈر کہیں انھی کے لئے ہی مہنگا ثابت نہ ہو جائے۔
*******************