’’انڈیا‘‘ اتحاد میں جشن کا ماحول

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –13 SEPT     

نئی دہلی میں پچھلے دنوں منعقد جی ۔20 کے سر براہی اجلاس کے شور کی وجہ سےجھارکھنڈ کے ضلع گریڈیہہ کی ڈمری اسمبلی پر ’’انڈیا ‘‘ اتحاد کی زبردست کامیابی پر بجائے گئے ڈھول نگاڑے کی آواز بہت دور تک نہیں جا سکی تھی۔حالانکہ اس کامیابی کے بعد حکمراں جماعت جوش و خروش سے بھری ہوئی ہے۔جس دن نئی دہلی میں منعقدجی ۔20 اجلاس کی شاندار کامیابی پر پوری دنیا میںبھارت کی واہ واہی ہو رہی تھی، ٹھیک اسی دن ’’انڈیا‘‘ کیمپ میں زبردست خوشی اور جوش و خروش کا ماحول تھا۔ ضمنی انتخاب میں بے بی دیوی کی جیت سے’’انڈیا‘‘ اتحاد کی جانب سے جھارکھنڈ میں ڈھول نگاڑے بج رہے تھے۔ دوسری طرف ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ شتروگھن سنہا، جو جامتاڑہ کے چترنجن میں منعقد ایک پروگرام میں شرکت کے لیے آئے تھے، نے جامتاڑا کے ایم ایل اے ڈاکٹر عرفان انصاری سے ملاقات کی تھی۔ دونوں رہنماؤں نے ڈمری ضمنی انتخاب میں’’انڈیا‘‘اتحاد کی جے ایم ایم امیدواربے بی دیوی کی جیت پر ایک دوسرے کو مبارکباد دی تھی۔ اس موقع پر شتروگھن سنہا نے کہا تھا ’’انڈیا‘‘ کی جیت نے بی جے پی کو’’ خاموش‘‘ کر دیا ہے۔ لگے ہاتھ جامتاڑا کے ایم ایل اے ڈاکٹر عرفان انصاری نے بھی یہ کہہ دیا کہ بی جے پی چاہے کتنی ہی کوشش کر لے، وہ ہمارے جذبے کو کم نہیں کر سکے گی۔ ملک کے عوام اب بیدار ہو چکے ہیں۔ آنے والے انتخابات میں پورے ملک سے بی جے پی کی بالادستی کا صفایا ہو جائے گا۔ ملک بھر میں بی جے پی حکومت کے خلاف عوامی غصہ اپنے عروج پر ہے، جو انتخابی نتائج سے صاف نظر آرہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جھارکھنڈ کی ڈمری اسمبلی سیٹ پر ہوئے ضمنی انتخاب میں’’انڈیا‘‘ اتحاد کی جے جے ایم امیدوار بے بی دیوی نے ’’این ڈی اے‘‘کی یشودا دیوی کو شکست دی ہے۔ بے بی دیوی نے این ڈی اے لیڈر کو ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دی ۔ بےدیوی نے 17 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ڈمری سیٹ پر 5 ستمبر کو ضمنی انتخاب ہوا تھا،جس میں 64.84 فیصد ووٹ ڈالے گئے تھے۔اس کے رزلٹ کا اعلان 10 ستمبر کو کیا گیا تھا۔ جے ایم ایم گزشتہ کئی سالوں سے یہاں جیت درج کرتی آ رہی ہے۔
جے ایم ایم کی جیت پر پورے ’’انڈیا‘‘ اتحاد میں جوش خروش کا ماحول تھا اور انھیں دنوں آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو کی دیوگھر میں موجودگی سے جھارکھنڈ کی سیاست میں گرمی آگئی تھی ۔ ساتھ ہی مخالف کیمپ میں کافی ہلچل بھی دیکھی جا رہی تھی۔ لالو پرساد یادو گزشتہ اتوار کی سہ پہر دیوگھر پہنچے تھے۔ان کے ساتھ بہار کی سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی اور رکن پارلیمنٹ بیٹی میسا بھارتی بھی تھیں۔ تینوں بابا بیدیا ناتھ کا درشن کرنےوہاں گئے تھے، لیکن پارٹی لیڈروں کا ماننا تھا کہ ’’انڈیا‘‘ اتحاد کی کامیابی کے موقع پر پارٹی سپریمو کے یہاں آنے کا گہرا مطلب ہے۔بس کیا تھا، آر جے ڈی لیڈر سے ملاقات کے لیے کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد وہاں پہنچ گئی۔ ایسی صورتحال میںلالو پرساد یادو کو اپنے حامیوں کے پیار کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہنا پڑا تھا کہ ان کی صحت ابھی پوری طرح ٹھیک نہیں ہے، اس لیے کچھ فاصلہ رکھیں، تاکہ وہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں این ڈی اے کو شکست دے سکیں۔ جھارکھنڈ کے سابق وزیر اور دیوگھر سے آر جے ڈی امیدوار سریش پاسوان کا کہنا تھا کہ آر جے ڈی سپریمو کے دیوگھر کے دورے کا کچھ گہرا مطلب ضرور ہے۔’’انڈیا‘‘ اتحاد کا مقصد بی جے پی کو شکست دینا ہے۔آر جے ڈی کے ریاستی سکریٹری اور مادھوپور اسمبلی حلقہ کے سابق امیدوار سنجے بھاردواج کا کہنا تھا کہ وقت کا انتظار کریں۔’’انڈیا‘‘ اتحاد بہت مضبوطی کے ساتھ سامنے آئے گا۔ اس میں نتیش کمار اور لالو پرساد کا رول اہم ہوگا۔ بہار کے نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو بہار۔جھارکھنڈ میں آر جے ڈی کا جھنڈا لہرائیں گے۔اس موقع سے لالو پرساد نے ریاست کے آر جے ڈی لیڈروں اور کاکنوں سے سنجیدہ بات چیت کی اور پارٹی کو خاص طور پر ’’انڈیا‘‘ اتحاد کو مضبوط کرنے کی ہدایت کی۔
لالو پرساد کے دیوگھر پہنچنے کی خبر کے ساتھ ہی نہ صرف جھارکھنڈ بلکہ بہار کے بھاگلپور، بانکا، نوگچھیا، جموئی، شیخ پورہ، مونگیر اور آس پاس کے دیگر اضلاع سے بھی ان کے حامی ان کے استقبال کے لیے پہنچ گئے تھے۔جھارکھنڈ اسمبلی سیٹ کے ضمنی انتخاب میں ’’ انڈیا‘‘ اتحاد کی جانب سےجے ایم ایم امیدوارکی زبردست کامیابی پر آر جے ڈی لیڈروں اور کارکنوں میں بھی زبردست جوش و خروش تھا۔حالانکہ بی جے پی کے لیے بڑا جھٹکا یہ ہے کہ جھارکھنڈ کے ریاستی بی جے پی صدر بابولال مرانڈی کا تعلق گریڈ یہہ ضلع سے ہی ہےاور حال ہی میں بی جے پی اعلیٗ کمان نے ریاست کی کمان انہیں کو سونپ دی ہے۔ وہ ریاست کے پہلے وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔ بعد میں انھوں نے بی جے پی چھوڑ کر اپنی ایک الگ پارٹی بنا لی تھی، لیکن اب پھر بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں۔ ان کا تعلق آدیباسی سماج سے ہے۔ بی جے پی نے آدیباسی چہرے کو آدیباسیوں کے خلاف کھڑا کر دیا ہے، لیکن 2024 میں بی جے پی کی یہ حکمت عملی کتنی کامیاب ہوگی، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ویسےجھارکھنڈ کے ضمنی انتخاب میں ’’انڈیا‘‘ اتحاد نے فی الحال بی جے پی کو پچھاڑ دیا ہے۔چنانچہ ’’انڈیا‘‘ اتحاد سے وابستہ جماعتوں میں جشن کا ماحول اب صاف صاف نظر آ رہا ہے۔
**************