اڈپی ضلع میں آوارہ کتوں کا قہر، 2 افراد کی موت

TAASIR NEWS NETWORK  UPDATED BY- S M HASSAN –30 SEPT  

اڈپی، 30 ستمبر:اڈپی ضلع میں آوارہ کتوں کے قہر کی ایک چونکانے والی رپورٹ ملی ہے جس کے مطابق وہاں امسال جنوری سے اگست کے دوران آوارہ کتوں نے 11,407 افراد پر حملہ کیا ہے اور اس کے نتیجے میں دو افراد موت کا شکار بھی ہوچکے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ مقامی افسران خصوصاً دیہی علاقوں بلدی افسران اس تعلق سے توجہ نہیں دے رہے ہیں اور کھانے کی تلاش میں آوارہ گردی کرنے والے کتے آئے دن سڑکوں اور گلیوں میں لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس معاملے پر بولتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینیمل ہسبنڈری کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر شنکر شیٹی نے کہا :” سی ایم سی ، ٹی ایم سی، ٹاون پنچایت، گرام پنچایت جیسے مقامی بلدی اداروں کو موثر طریقے پر کتوں کی نس بندی کا پروگرام لاگو کرنا چاہیے۔ انہیں مقامی طور پر سرکاری افسران کے تعاون سے گرام پنچایت سطح پر یہ کام انجام دینا چاہیے۔ محکمہ حیوانات پروری پورے ضلع میں گرام پنچایتوں کو اس کے لئے ضروری تکنیکی حمایت دینے کے لئے تیار ہے۔اڈپی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ناگ بھوشن اوڈوپا نے بتایاکہ حالانکہ ہم نے اینیمل برتھ کنٹرول اور اسٹرلائزیشن (نس بندی) پروگرام کے لئے ٹینڈر طلب کیے ہیں ، لیکن زیادہ تر غیرسرکاری اداروں (این جی او) نے اس میں دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔ گرام پنچایتوں کو مقررہ وقت میں اے بی سی پروگرام مکمل کرنے کے لئے فنڈ مختص کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جب بھی کسی کو کتا کاٹے تو فوری طور پر اس کا علاج کروانا چاہیے۔ اگر علاج میں تاخیر ہوئی تو اس کے بہت برے نتائج ہو سکتے ہیں۔ کتا کاٹنے کی صورت میں سرکاری اسپتالوں میں اس کا مکمل اور بہترین علاج فراہم کیا جاتا ہے۔