TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN -09 SEPT
واشنگٹن/ماسکو ، 09 ستمبر: ہندوستان میںجی- 20 سربراہی اجلاس کے آغاز کی خبر دنیا بھر کے اخبارات میں چھائی ہوئی ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس واقعہ میں بھی مغربی میڈیا نے خامیاں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے جس پر روس کے ایک اخبار نے آئینہ دکھا کر سرزنش کی ہے۔
بھارت کے دارالحکومت دہلی میں شروع ہونے والے جی- 20 سربراہی اجلاس میں دنیا بھر سے رہنما پہنچ چکے ہیں۔ جی- 20 سربراہی اجلاس کی کوریج کے لیے دنیا بھر سے میڈیا بھی ہندوستان پہنچ گیا ہے۔ دنیا کے اخبارات میں جی 20 کا بھی خوب چرچہ ہے۔ نیویارک ٹائمز نے اپنے ہوم پیج پر امریکی صدر جو بائیڈن کی ہندوستان آمد کی خبر کو جگہ دی ہے۔ جی- 20 سے متعلق ایسی خبریں بھی سامنے آئی ہیں جن میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا حوالہ دیا گیا ہے۔
اخبار نے کئی تصویریں بھی لگائی ہیں جن میں دہلی میں مودی کے پوسٹر اور حفاظتی انتظامات کے لیے لگائی گئیں پابندیاں بھی شامل ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے بھی جی 20 کی تقریب پر خصوصی خبر لکھی ہے۔ برطانوی اخبار دی گارجین نے برطانوی وزیراعظم رشی سنک اور امریکی صدر جو بائیڈن کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقاتوں کو ترجیح دی ہے۔ پاکستانی اخبار ڈان نے جی- 20 سے متعلق دیگر خبروں کے ساتھ یہاں آنے اور نہ آنے والے رہنماؤں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے خبر شائع کی ہے۔
دریں اثنا روسی اخبار رشین ٹائمز نے جی- 20 سے متعلق منفی پہلوؤں کو شائع کرنے پر مغربی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ رشین ٹائمز نے مغربی میڈیا کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان پہلی بار دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں کی تنظیم جی-20 کی میزبانی شاندار طریقے سے کر رہا ہے لیکن مغربی میڈیا ان باتوں پر توجہ دینے کے بجائے صرف منفی خبریں چل رہی ہیں ہاں یہ بہت افسوس ناک ہے۔ چینی اخبار گلوبل ٹائمز نے بھی جی- 20 پر بحث کرتے ہوئے امریکہ کو نشانہ بنایا ہے۔

