TAASIR NEWS NETWORK UPDATED BY- S M HASSAN –30 SEPT
کاروار ، 30 ستمبر:نیشنل ہائی وے 66 پر کاروار شہر اور بینگا کے درمیان تعمیر شدہ سرنگ جو غیر محفوظ ہونے کی بات کہتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے بند کر رکھی ہے اسے کھولنے کا مطالبہ لے کر ایم ایل سی گنپتی اْلویکر کی قیادت میں کل صبح عوامی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ پولیس کے بھاری بندوبست کے ساتھ مظاہرین کو زبردستی سرنگ کھولنے سے باز رکھنے میں ضلع انتظامیہ کامیاب رہی۔ اس موقع پر گنپتی الویکر اور دیگر مظاہرین کو حراست میں لے گیا اور پھر بعد میں انہیں رہا کیا گیا۔ خیال رہے کہ شہر کے نیشنل ہائی وے پر تعمیر شدہ سرنگوں کو گزشتہ تقریباً ڈھائی مہینے سے ضلع انتظامیہ نے حفاظتی نقطہ نظر عوامی آمد و رفت کے لئے بند رکھا ہے۔ اس پر سیاسی کھیل کا الزام لگاتے ہوئے ایم ایل سی گنپتی الویکر نے دھمکی دی تھی کہ اگر ضلع انتظامیہ نے ان سرنگوں کو فوری طور پر نہیں کھولا تو وہ 29 ستمبر کو عوامی احتجاج کے ذریعے خود ہی کھلوائیں گے۔ ضلع انتظامیہ نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیاری کر لی تھی۔ لہٰذا کل جب عوامی ہجوم کے ذریعے سرنگ کے آگے لگائی گئی رکاوٹوں کو ہٹانے کی کوشش کی گئی تو پولیس نے مظاہرین کو گرفتار کرنے کے لئے آگے بڑھی جس کے بعد مظاہرین اور پولیس کے درمیان تکرار اور تناو کا ماحول پیدا ہوگیا۔ اس موقع پر پولیس نے کچھ نرمی اختیار کرتے ہوئے سرنگ کھولنے کے معاملے پر ضلع انتظامیہ اور افسران کے ساتھ میٹنگ ختم ہونے تک مظاہرین کو پرامن احتجاج کا موقع فراہم کیا۔ مظاہرے کے موقع پر گنپتی الویکر نے کہا کہ ایک سال قبل مقامی ایم ایل اے کے ذریعے جس سرنگ کا افتتاح کیا گیا تھا اب کسی اور کے دباو میں اس سرنگ کو بند کرنا غلط بات ہے۔ اگر ضلع انچارج وزیر (منکال وِئیدیا) اور مقامی ایم ایل اے (ستیش سائل) میں اگر دم ہے تو پھر ٹول وصولی بند کرکے دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سرنگ کا راستہ کھولا نہیں جاتا تب تک احتجاج جاری رہے گا۔ اگر پولیس نے گرفتاریاں کیں تو پھر انکولہ – کاروار بند منایا جائے گا۔ جب دوپہر تک ضلع انتظامیہ اور افسران کی میٹنگ کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا تو مظاہرین نے نیشنل ہائی وے 66 پر راستہ روکو دھرنا دینے کی کوشش کی۔ جب مظاہرین پر قابو پانا مشکل ہوا تو پولیس نے گنپتی الویکر اور دیگر مظاہرین کو اپنی حراست میں لیا ، جنہیں بعد میں رہا کیا گیا۔ دھرنا ختم ہونے کے بعد گنپتی الویکر نے بتایا کہ احتجاجی مظاہرے کے دوران ضلع ڈپٹی کمشنر نے موقع پر پہنچ کر بتایا کہ این ایچ اے آئی نے سرنگ محفوظ ہونے کے جو دستاویزات سونپے ہیں اس میں کچھ الجھن باقی ہے۔ اس کے سلسلے میں وضاحت طلب کی گئی ہے۔ ڈی سی نے یقین دلایا ہے کہ اس ضمن میں آئندہ دو دنوں کے اندر مناسب اقدام کیا جائے گا۔ اس لئے ہم نے عبوری طور پر احتجاجی مظاہرے کو ملتوی کیا ہے۔ دوسری طرف ڈپٹی کمشنر گنگو بائی نے بتایا کہ سرنگ محفوظ ہونے کے تعلق سے کی گئی جانچ اور دیگر نکات پر این ایچ اے آئی سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے دو دن کی مہلت مانگی ہے۔ ان کی طرف سے جواب آنے کے بعد سرنگ میں آمد و رفت کے تعلق سے ضروری اقدام کیا جائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ آج احتجاجی مظاہرے کے پس منظر میں این ایچ اے آئی ، ٹھیکیدار کمپنی آئی آر بی کے افسران اور عوامی نمائندوں کے ساتھ ڈپٹی کمشنر نے اپنے دفتر میں جو میٹنگ طلب کی تھی اس میں این ایچ اے آئی کے اعلیٰ افسران شامل نہیں ہوئے۔

