پٹنہ کے تاریخی انجمن اسلامیہ ہال میں اردو بیداری ہفتہ کے آخری دن اردو ایکشن کمیٹی بہار کے زیر اہتمام شاندار اختتامی اجلاس کا انعقاد

TAASIR :– S M HASSAN –28 NOV

پٹنہ28 نومبر (پریس ریلیز) اردو ایکشن کمیٹی بہار کے زیراہتمام اردو بیداری ہفتہ کے آخری دن منگل کو پٹنہ کے تاریخی انجمن اسلامیہ ہال میں ایک شاندار اختتامی اجلاس ہوا جس کی صدارت اردو ایکشن کمیٹی بہار کے سرپرست اور بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کے چیر مین الحاج ارشاد اللہ نے کی اور نظامت کا فریضہ اردو ایکشن کمیٹی کے کارگزار صدر اور سینیر صحافی ڈاکٹر ریحان غنی نے انجام دیا۔ اس اختتامی اجلاس میں ریاستی حکومت سے بہار اردو اکادمی اور اردو مشاورتی کمیٹی کی جلد سے جلد تشکیل نو کا مطالبہ کیا گیا تاکہ اردو کے فروغ کے کام کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اجلاس میں حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ پرائمری سے یونیورسیٹی کی سطح تک اردو کی تعلیم کو یقینی بنایا جائے۔ہائی اسکولوں میں اردو کی لازمیت کو پھر سے بحال کیا جائے۔ اردو کی ترقی اور اس کے عملی نفاذ کی نگرانی کے لیے اردو نفاذ کمیشن قائم کیا جائے۔ سرکاری تقریبات میں بینر اورسرکاری منصوبوں سے عوام کو باخبر کرنے والی ہورڈنگ اردو میں بھی لگائی جائیں۔ضلع اور اسٹیٹ گذٹ اردو میں بھی شائع کیا جائے۔تمام سرکای نوٹیفکیشن، سرکلر اور حکم نامے اردو میں بھی جاری کیے جائیں، اردو مشاورتی کمیٹی کو آئینی اختیارات دیے جائیں، محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کی طرف سے جتنے بھی سرکاری مواد اخبارات کے لیے جاری کیے جاتے ہیں وہ سب اردو میں بھی جاری کیے جائیں، اردو سیکھنے والے سرکاری ملازمین اور افسروں کو اضافی انکریمنٹ دیا جائے، سرکاری دفاتر میں محکموں اور افسروں کے نام کی تختیاں اردو میں بھی لگائی جائیں۔ اپنی صدارتی تقریر میں الحاج محمد ارشاد اللہ نے کہا کہ وزیر اعلی نتیش کمار کو اردو سے دلچسپی ہے اور وہ اس کی ترقی اور فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں وقف بھون بنایا جارہا ہے۔مختلف اضلاع میں اقلیتی ہاسٹل قائم کیے گئے ہیں اور سماج کے ہر طبقہ کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کام کر رہی ہے۔ارشاد اللہ نے کہا کہ ریاست کے مختلف اضلاع میں اقلیتی رہائیشی اسکول قائم کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی نتیش کمار کو اردو سے بے پناہ محبت ہے اور وہ اردو کی ترقی کے لیے ہر سطح پر کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اردو آبادی سے اس موقع پر یہ عہد کرنے کی اپیل کی کہ ہم اپنے بچوں کو اردو لکھنا پڑھنا سکھائیں گے۔ الحاج محمد ارشاد اللہ نے اردو ایکشن کمیٹی بہار کی کارکردگی کی تعریف کی اور کہا کہ قومی تنظیم کے مدیر اعلیٰ جناب ایس ایم اشرف فرید کی قیادت میں اردو کارواں آگے بڑھ رہا ہے اور پورے بہار میں اردو بیداری ہفتہ منا کر اردو ایکشن کمیٹی نے اردو آبادی کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی مادری زبان کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اردو بیداری ہفتہ کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے اردو آبادی سے اپیل کی کہ وہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں جو اچھے کام ہو رہے ہیں اس سے عوام کو واقف کرائیں۔اس سے قبل اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مظہر الحق عربی فارسی یونیورسیٹی کے سابق پرو وائس چانسر پروفیسر توقیر عالم نے کہا کہ ماضی میں سالار اردو الحاج غلام سرور نے اردو کو الیکشن اشو بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اردو ایکشن کمیٹی بہار کے صدر جناب ایس ایم اشرف فرید کی قیادت میں یہ کارواں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ اردو ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام جو اردو بیداری ہفتہ منایا گیا اس اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔اس موقع پراردو ایکشن کمیٹی بہار کے صدر اور کثیر الاشاعت اخبار قومی تنظیم کے مدیر اعلی جناب ایس ایم اشرف فرید نے برمنگھم سے محبان اردو کے نام اپنے پیغام میں اردو عوام کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پٹنہ سمیت پورے بہار میں 22 سے 28 نومبر تک اردو بیداری ہفتہ کے دوران بیداری کانفرنس، نکڑ سبھائیں اور جلسے کرکے اردو کے سلسلے میں اپنی بیداری کا ثبوت دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اردو اور اقلیتوں کے لیے بہت کچھ کیا ہے لیکن انہیںا بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں ہر طرف امن و شانتی ہے یہی وجہ ہے کہ یہ ریاست تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اردو بیداری ہفتے کے دوران اردو آبادی کو جو پیغام پہنچا ہے اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امارت شرعیہ بہار اڈیسہ و جارکھنڈ کے قائم مقام ناظم مولانا شبلی القاسمی نے دعا کی کہ اردو بیداری کی یہ تحریک خداکرے کہ عوامی تحریک بن جائے۔انہوں نے امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی علیہ رحمہ کے اس قیمتی قول کو دہرایا کہ اردو کو آج خون دینے والے مجنوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے پورے بہار میں اردو بیداری ہفتہ منائے جانے کے لیے اردو ایکشن کمیٹی بہار کے صدر جناب ایس ایم اشرف فرید اور ان کے رفقا کو مبارک باد دی اور مشورہ دیا کہ اردو کے سلسلے میں جو سرگرمیاں جاری ہیں انہیں آئیندہ بھی برقرار رکھا جائے۔امارت شرعیہ بہار اڈیسہ اور جھارکھنڈ کے نائب ناظم اور ہفت روزہ نقیب کے مدیر اعلیٰ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نے کہا کہ ہمیں اردو کے سلسلے میں آئندہ کا لائحہ عمل طئے کرنا چاہیے اور اردو کے تعلق سے جتنی تنظیمیں ہیں ان سے بھی رابطہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اردو ایکشن کمیٹی کو لسانی اور ملی تنظمیوں کے نمائندوں کے ساتھ ایک نشست رکھنی چاہیے اور اس میں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ اردو ایکشن کمیٹی بہار جناب ایس ایم اشرف فرید کی قیادت میں مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کی کوششوں کو قبول فرمائے۔جماعت اسلامی ہند حلقہ بہار کے امیر مولانا رضوان احمد اصلاحی نے کہا کہ اردوا یکشن کمیٹی کے زیر اہتمام منعقد کیے گئے اس اختتامی اجلاس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں سماج کے ہر طبقہ کے لوگ موجود ہیں۔ کانفرنس کی نظامت کرتے ہوئے اردو ایکشن کمیٹی کے کارگزار صدر ڈاکٹر ریحان غنی نے بہت تفصیل سے بتایا کہ اردو بیداری ہفتہ کے دوران 22 سے27نومبر تک داناپور ،پھلواری شریف، سبزی باغ، خانقا ہ حضرت دیوان شاہ ارزانی، عالم گنج اور پٹنہ سیٹی کے یتیم خانہ خادم الاسلام میں اردو بیداری کانفرنس، نکڑ سبھائیں اور مذاکرے کا اہتمام کرکے اردو آبادی کو مادری زبان اردو کے تعلق سے بیدار کرنے کی جو کوشش کی ہے اس کے اچھے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی انجمن اسلامیہ ہال میں اردو ایکشن کمیٹی کا جو اجلاس ہورہا ہے وہ اردو تحریک کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔انہو ں نے اس موقع پر کہا کہ اگر ان پر چاپلوسی کا الزام بھی لگ جائے تو بھی وہ یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہیں گے کہ ریاست میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی حکومت میں امن و شانتی اور خیر سگالی کا ماحول قائم ہے جو کسی بھی ریاست کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بہار کے تمام 38اضلاع میں اردو ڈائرکوریٹ کی توسط سے اردو کے فروغ کے سلسلے میں مثبت کام ہو رہے ہیں اور حکومت اردو کی ترقی اور فروغ کے لیے خطیر رقم خرچ کر رہی ہے۔ لیکن حکومت کو اردو کے سلسلے میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران اردو ایکشن کمیٹی نے جو صدا لگائی ہے وہ ایوان اقتدار تک پہنچے گی اور اردو کی مسائل جلد حل ہوں گے۔اردو ایکشن کمیٹی بہار کی مجلس عاملہ کے رکن اور کاروان ادب ویشالی کے جنرل سکریٹری انوارالحسن وسطوی نے کہا کہ تقریبا بیالیس سال کے بعد کسی لسانی تنظیم نے اردو آبادی کو زبان کے تعلق سے بیدار کرنے اور جگانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کا کہ اردو آبادی ایک عرصہ تک ذہنی آسودگی کا شکار رہی جس سے اردو کو بے حد نقصان پہنچا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئیند بات ہے کہ جناب ایس ایم اشرف فرید کی قیادت میں اردو ایکشن کمیٹی بہار نے اردو آبادی کو بیدار کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اردو آبادی کو الحاج ارشاد اللہ اور حکومت پر پورا اعتماد ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اردو آبادی کے مسائل سے حکومت کو واقف کرائیں گے۔ اس موقع پر اپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے اردو ایکشن کمیٹی کے سکریٹری ڈاکٹر انوار الہدیٰ نے الحاج محمد ارشاد اللہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے انجمن اسلامیہ ہال میں اردو بیداری ہفتہ کا اختتامی اجلاس منعقد کرنے کی نہ صرف اجازت دی بلکہ عملی طور پر بھی اردوایکشن کمیٹی کے ساتھ انہوں نے تعاون کیا۔

انہوں نے کہا کہ داناپور سے پٹنہ سیٹی تک اردو بیداری ہفتے کے دوران جو پروگرام منعقد کیے گئے اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔اس موقع پربہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کے چیر مین الحاج محمد ارشاد اللہ اور دوسرے مہمانوں نے نوجوان صحافی ضیاء الحسن کو اردو ایکشن کمیٹی بہار کو بھرپور عملی تعاون دینے کے لیے انہیں شال پیش کر کے اعزاز سے نوازا۔اختتامی اجلاس میںموڈرن ویلفیر اکیڈمی کے ڈائرکٹر اور عالم دین مولانا محمد مکرم حسین ندوی، مشہور شاعر اثر فریدی،ڈاکٹر نور الاسلام ندوی، عبدالباقی ، خرم ملک، اردو ایکشن کمیٹی بہار کی مجلس عاملہ کی رکن ڈاکٹر ثریا جبیں، کمیٹی کے سکریٹری اسحاق اثر،رعنا ناز نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس موقع پراردو ایکشن کمیٹی ویشالی کے صدر عظیم الدین انصاری، جنرل سکریٹری توقیر صیفی، اردو ایکشن کمیٹی کے رکن ڈاکٹر عبد الباسط حمیدی، ڈاکٹر نقی احمد جون،نوجوان صحافی سید جاوید حسن، ضیاء الحسن، شیث احمد ،ساجد پرویز ، نور اللہ ، مبین الہدیٰ، اردو ایکشن کمیٹی کے رکن شاہ فیض الرحمن، ڈاکٹر فہیم الدین(الحرا پبلک اسکول، شریف کالونی)محمد افروز عالم ،ندیم اختر خان، محمد زاکر حسین، عمر اقدس جیلانی(باڑھ) ، محمد مظاہر اقبال (داناپور) مقصود عالم(داناپور) ڈاکٹرمحبوب عالم، اشرف صدیقی، افرو ز عالم (حاجی پور)،محمد غیاث الدین، نعیم اختر،شارق اقبال عارف، نور عالم ابراہیم، محمد منت اللہ(سوپول) محمد عاصم دربھنگوی، ساجد عظیم آبادی، محمد شاہنواز احمد (مسوڑھی)، محمد فخر عالم، محمد اظہر الدین انصاری، شہاب شمسی، محمد عطاء اللہ، صدام حسین، محمد عطاء الرحمن ایڈو کیٹ، محمد منور خاںّ(مونگیر) سمیت داناپور پٹنہ سیتی تک کثیر تعدادمیں محبان اردو نے شرکت کی اور بہار میں اردو تحریک کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کا عہد کیا۔ اس موقع پر موڈرن ویلفیر اکیڈمی اور الحرا پبلک اسکول شریف کالونے کے طلبہ و طالبات نے بھی شرکت کی۔ ڈاکٹر انوار الہدیٰ کے اظہار تشکر اور مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی کی دعا پر اختتامی اجلاس کا اختتام ہوا۔