تاثیر،۲۸ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
بہار شریف (محمد دانش)ندا فائونڈیشن۔و سپر مائینڈ اسکول واقع محلہ نئی سرائے،بہار شریف کے وسیح و عریض میدان میں وطن عزیز کی 75ویں یوم جمہوریہ کی تقریب سعید منعقد ہوئی ۔اس موقع پر شہر کے معروف و مقبول سرجن ڈاکٹر سرفراز ،صوفیہ کلنک ،کالج موڑ بہار شریف نے پرچم کشائی کی ۔دیش گان جن گن من حاضرین مشترکہ طور پر گائے۔بعد ازیں اسکول سپر مائنڈ کی کچھ طالبات سر محمد اقبال کا خلق کردہ قومی ترانے سنائیں۔یہ قومی ترانے سنانے والی طالبات کے اسمائے گرامی عروج رضوی،فرخندہ ،عالیہ قدوس،امرین،فرحہ۔ علمہ ،لائبہ،انعمت ،ریحان،اسمائیل ،سند ،ارقم اسد اور احمرہیں۔اس کے بعد ڈاکٹر سرفراز نے طلباء و طالبات و اساتزہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوم جمہوریہ کیوں منایا جاتا ہے ۔دراصل آج ہی کے روز یعنی 26 جنور 1950ء کو آئین ہند کو تسلیم کیا گیا کہ اب سے وطن میں جو بھی کام ہوگا وہ اسی آئین کے مطابق انجام پزیر ہوگا۔چنانچہ ہمیں ہر حال میں آئین ہند کی پابندی کرنی ہوگی ۔اس کے بعد مذکورہ بالا اسکول کے روح رواں مونس الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ ہمارے شہر میں نہ اسکول کی کمی ہے اور نہ ہی مدارس دینیہ کی۔لیکن جو بات ناچیز کو کھلتی آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ ان سارے اسکولوں و مدارس دینیہ میں تعلیم یعلم کا تو زبردست نظم ہے ۔یہاں اچھے اچھے اسکول و مدارس ہیں۔جن کا معیار تعلیم بہت ہی اعلیٰ ہے ۔لیکن صد افسوس ان اسکولوں اور مدارس میں تربیت اور اسلامی ماحول و فضا کا زبردست فقدان ہے ۔یہ کمی میرے ذہن کو برابر جھنجھوڑتے رہی ہے۔بلکہ اگر یہ کہوں تو شاید غلط نہیں ہوگا کہ یہ کمی ناچیز کو بالکل ہی ناگوار گزر رہی تھی۔یہی سبب ہے کہ میں نے اس سپر مائنڈ اسکول کی داغ بیل ڈالی اور بفضلہی تعالیٰ یہ اسکول اپنے قیام کے مقاصد میں بہت حد تک کامیاب بھی نظر آرہا ہے ۔ناچیز کی مقامی گارجین سے استدعا ہے کہ آپ اپنا اخلاقی ،مشاورتی اور دیگر تعاون کو اسی طرح جاری رکھیں۔
اس طرح شہر کے معروف و مقبول فیزیشین جناب مبشر حیات نے کہا کہ اس ترقی یافتہ زمانے میں بھی ہمارے معاشرے خصوصاً مسلم معاشرے کے زیریں پائدان پر کھڑے بچے وقت سے قبل ضعیفی کے شکار ہو رہے ہیں۔اج بھی ہمارے معاشرے میں دو اہم مسائل بدستور قائم ہیں ۔جن کا حل تلاش کرنا اسی معاشرے کے باشعور ،ذی علم و فراست اور اصحاب دولت و ثروت کا ملی و سماجی فریضہ ہے۔جس سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں ہے۔ہماری نئی نسل کے سامنے کئی مسائل و مشکلات در پیش ہیں۔نہ ان کی اقتصادی حالت مستحکم ہے اور نہ ہی ان کی جسمانی حالت اطمینان بخش ہے۔سن میں تغذیہ کی کافی کمی ہے۔چنانچہ مفکران و مدبرانہ ملت کو بہت ہی گہرائی سے غور و خوض کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔چنانچہ ہم سبھوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اپنے معاشرے کی نئی نسل کی زندگی بچائیں اور اسے عالمی سطح پر سر بلند کر کے جینے کے لائق بنائیں۔یہ کوئی غیر نہیں ہمارے اپنے ہی ہیں۔
اسی طرح شہر کے کافی مشہور و مقبول ماہر دندان ڈاکٹر توحید کاظمی نے اظہار خیال فرماتے ہوئے کہا کہ آج معاشرے کا ہر انسان ہمہ اوقات ایک مصنوعی قیامت سے دو چار ہو رہا ہے۔اج ہمارے معاشرے میں جتنے بھی مسائل درپیش ہیں وہ انسانوں کے ہی پیدا کردہ ہیں ۔اس کا جو سب سے اہم سبب ہے وہ ہے معاشرے میں تعلیم و تربیت کا فقدان ۔جب ہماری نئی نسل عرفان زات اور عرفان حق سے محروم ہے تو وہ اپنی معاشرتی و خانگی ذمہ داری سے کیا آگاہ ہوگی ۔نتیجہ کے طور پر ہمارے معاشرے کا خاندان در خاندان ہی محفوظ و منظم نہیں ہے۔اس میں کئی قسم کی بگاڑ در آ گئی ہے۔اگر خاندان ہی محفوظ و منظم نہیں ہوگا تو معاشرہ و ملک پر اس کے منفی اثرات مرتب ہونے لازمی ہیں۔جب معاشرہ ہی افراط و تفریط کا شکار ہوگا تو وطن عزیز کا غیر محفوظ و غیر مستحکم ہونا فطری عمل ہوگا۔اسی لئے ہماری قومی و ملی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو بہتر سے بہتر تعلیم و تربیت سے نوازیں اور اپنے قدم پر کھڑے ہونے کا اہل بنائیں

