تاثیر،۱۰ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
تھمپو، 10 جنوری: بھوٹان میں ہونے والے عام انتخابات میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی جیت کے ساتھ اقتدار میں واپس آگئی ہے۔ بھوٹان میں منگل کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں۔ لوگوں کو امید ہے کہ رہنما ہمالیائی ملک میں معاشی بحران پر قابو پانے کے وعدے پورے کریں گے۔
قومی نشریاتی ادارہ بھوٹان براڈکاسٹنگ سروس کے اعداد و شمار کے مطابق پی ڈی پی نے 47 رکنی قومی اسمبلی میں 30 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ بھوٹان ٹینڈرل پارٹی نے 17 نشستیں حاصل کی ہیں۔ 2008 میں روایتی بادشاہت سے پارلیمانی حکومت میں منتقلی کے بعد بھوٹان میں یہ چوتھے قومی انتخابات ہیں۔ بھوٹان کا الیکشن کمیشن بدھ کو حتمی نتائج جاری کرے گا۔
سابق وزیر اعظم شیرنگ توبگے کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق سرکاری ملازم پیما چیوانگ کی سربراہی میں بھوٹان ٹینڈرل پارٹی ہی انتخابات میں شامل ہیں۔ نومبر میں ہونے والی ووٹنگ کے پرائمری راونڈ میں حکمراں سینٹر لیفٹ دروک نیامروپ تشوگپا پارٹی سمیت تین دیگر جماعتوں کے ساتھ ووٹنگ کے آخری مرحلے سے باہر ہو گئی تھی۔ بھوٹان چین اور بھارت کے درمیان واقع ہے اور دونوں ہمسایہ ممالک تقریباً 80 لاکھ کی آبادی والے اس لینڈ لاک ملک میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔
ملک میں انتخابی مہم کا بنیادی مدعا معاشی بحران رہا۔ ورلڈ بینک کے مطابق بھوٹان میں گزشتہ پانچ سالوں میں شرح نمو 1.7 فیصد رہی ہے۔ بے روزگاری کے باعث نوجوانوں کی اعلیٰ تعلیم اور ملازمتوں کی تلاش میں بیرون ملک ہجرت ملک کی معاشی صلاحیت کو کمزور کر رہی ہے۔
معاشی چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے بھوٹان کے بادشاہ جگمے کھیسر نامگیال وانگچک نے دسمبر میں گیلیفو میں ایک میگا سٹی کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا جس میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ کاربن سے پاک صنعتیں ہوں گی۔ یہ شہر بھارتی ریاست آسام کی سرحد پر واقع ہوگا۔

