تاثیر،۲۷فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
مرادآباد،27فروری :سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما شفیق الرحمان برق کا آج 93سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ وہ کئی ہفتوں سے مرادآباد کے ایک اسپتال میں زیر علاج تھے اور ونہی ان کی موت ہوئی ۔ ڈاکٹر شفیق الرحمان برق سنبھل میں پیدا ہوئے ۔ اور کئی بار اترپردیش اسمبلی کے ممبرمنتخب ہوئے۔ بعدازاں انہیں سماجوادی پارٹی نے مرادآباد سے ٹکٹ دی اور وہاں سے دومرتبہ منتخب ہوئے۔ وہ ایک سچے اور نڈر رہنما تھے۔ اور بابری مسجد بازیابی تحریک کے سرگرم کارکن تھے۔ مسٹر برق کو گردے کے مرض میں مبتلا تھے۔ اس نے اپنا سیاسی کیئر چودھری چرن کے ساتھ شروع کیا اور وہ جنتا دل پارٹی سے بھی منسلک رہے۔ سماجوادی پارٹی نے شفیق الرحمن برق کے انتقال پر اظہارِ افسوس کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سماجوادی پارٹی نے ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر، کئی بار کے رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق صاحب کا انتقال، انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کی روح کو سکون حاصل ہو۔ غمزدہ رشتہ داروں کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی طاقت ملے۔ پرخلوص خراج عقیدت۔‘‘بتایا جاتا ہے کہ طویل بیماری کی وجہ سے شفیق الرحمن برق کے کئی اعضا نے کام کرنا بند کر دیا تھا۔ ان کا علاج پوتی کی دیکھ ریکھ میں ہو رہا تھا اور ہر طرح سے ان کا خیال رکھا جا رہا تھا۔ ان کے کنبہ میں ایک بیٹے کے علاوہ پوتا اور پوتا بھی ہیں۔ اس وقت ان کا پوتا رکن اسمبلی ہے اور پوتی ڈاکٹر ہے۔واضح رہے کہ شفیق الرحمن برق کی پیدائش 11 جولائی 1930 کو اتر پردیش کے سنبھل میں ہوئی تھی۔ وہ سماجوادی پارٹی سے لوک سبھا انتخاب جیت کر پارلیمنٹ پہنچے تھے۔ شفیق الرحمن برق چار بار رکن اسمبلی اور پانچ بار رکن پارلیمنٹ رہے ہیں۔ انھوں نے پہلی بار سماجوادی پارٹی کی ٹکٹ پر 1996 میں لوک سبھا انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی۔ 2014 میں انھوں نے بی ایس پی کی طرف سے لوک سبھا انتخاب لڑا تھا اور اس میں بھی جیت حاصل کی تھی۔

