تاثیر،۱۴فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
دارالعلوم سبیل الفلاح میں تکمیل حفظ قرآن کے موقع پر منعقد پروگرام سے فقیہ العصر کا خطاب ۔۔۔۔۔۔۔۔
جالے ( ارشد فیضی)
موجودہ وقت میں ملک عدم رواداری کی جس بھیانک راہ پر چل پڑا ہے اور مسلمانوں کے تئیں نفرت وتعصب کی ملک بھر میں جو دیوریں کھڑی کی جارہی ہیں یقین کیجئے اگر ہم نے وقت رہتے اس حساس صورت حال کو سمجھنے اور ملک کو اس خطرناک بھنور سے نکالنے کی ایماندارانہ جد وجہد نہ کی تو دیکھتے ہی دیکھتے تو نہ صرف ہندوستان عالمی سطح پر اپنا وہ وقار واعتبار کھو دیگا جس کی بنیاد پر دنیا اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے بلکہ ہر ہندوستانی کو اس افسوسناک منظرنامے کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی یہ باتیں آج علم وادب کی بستی جالے میں تکمیل حفظ قرآن وتقسیم عنوان کے تحت دارالعلوم سبیل الفلاح میں منعقد ایک اہم پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہیں، پروگرام کا آغاز حافظ عمر فاروق کی تلاوت اور محمد صدیق کے نعتیہ کلام سے ہوا جبکہ محمد معاذ عاقب،تنظیم الہدی اور مہرین بیگم نے مختلف عنوانات سے تقریریں پیش کیں،ان سب کے علاوہ اس موقع پر بیت بازی ،سیرت کوئز اور قرآن کوئز کا دلچسپ مقابلہ بھی ہوا،جسے عوام نے پسند کیا اور کامیاب طلبہ قیمتی انعامات سے نوازے گئے،نظامت کا فرض مولانا عفان قاسمی نے نبھایا ،جبکہ تعلیمی رپورٹ ناظم تعلیمات مفتی عامر مظہری نے پیش کی،اپنے صدارتی خطاب میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسی ایمان سوز ہے، سوریہ نمسکار، یوگا اور وندے ماترم کا اسکول ،کالج اور یونورسٹی میں نافذ کرنا جمہوریت کے خلاف اقدام ہے۔ یوگا ہندوئوں کا طریقہ عبادت ہےاس لئے اسے ورزش بتاکر دھوکہ دینے کا جواز پیدا نہیں کیا جا سکتا،انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی پالیسی یہ بھی ہے کہ ہندوستان کو برہمن راشٹر قرار دیا جائے جو کہ آئین کی دفعہ ۲۸ کے خلاف ہے،انہوں نے کہا کہ یہ جمہوری ملک ہے یہاں تمام مذاہب کے رہنے والوں کا پورا حق ہے ، ملک پر کسی کی ایک مذہب کی تہذیب تھوپنا دراصل جمہوریت کا قتل ہے، ملک میں بھلے ہی نفرت کا ماحول تیزی سے پروان چڑھ رہا ہو اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا دور جاری ہو مگر میں آپ سے موجودہ منظرنامے میں بس اتنا ہی کہونگا کہ جس طرح آگ کو آگ سے نہیں بجھایا جا سکتا اسی طرح نفرت کا مقابلہ بھی نفرت سے ممکن نہیں اس لئے ہمیں آپسی اتحاد اور بھائی چارے کے ذریعہ ملک کی تصویر کو بدلنا ہوگا اور برادران وطن کو یہ سمجھانے کی فکر کرنی ہوگی کہ قران کا رشتہ کسی ایک طبقہ سے نہیں بلکہ پوری انسانیت سے ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پوری انسانیت کے لئے نبی بنا کر بھیجے گئے تھے اور میں پوری ذمہ داری سے یہ بھی کہ دینا چاہتا ہوں کہ جو لوگ اس ملک کو کسی سازش کے تحت ہندو راشٹر بنا دینے کی مہم میں مشغول ہیں ان کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا کیونکہ اس ملک میں نہ صرف مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں بلکہ ان میں سے بیشتر کا مزاج آج بھی جمہوری ہے اور وہ اس کے جمہوری اقدار کی روایت پر مکمل بھروسہ رکھتے ہیں،انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں حکومتی سطح پر مسلمانوں کو اپنے مذہبی عقائد سے دور کر دینے کی جو سازشیں رچی جا رہی ہے وہ نہایت خطرناک ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں اگر حکومت کا یہی رویہ رہا اور منفی سمت میں اس کے بڑھتے قدم کو روکنے کی حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو آنے والے دنوں میں اس ملک کو کئی طرح کے انتشار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے انہوں نے کہا کہ معاملہ چاہے وندے ماترم کہنے کے لئے مسلمانوں کو مجبور کرنے کا ہو یا سوریہ نمسکار کو ضروری قرار دینے کا یہ تمام چیزیں اسی سلسلے کی کڑی ہیں جن کے ذریعہ ملک میں فرقہ پرستوں کی ٹولیاں اپنے منصوبے تک پہونچنے کی کوشش کر رہی ہیں اس لئے ہمیں پوری احساس ذمہ داری کے ساتھ اس صورت حال کا حل نکالنے کی طرف آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہوگی

