کانگریس : ہم کامیاب ہوںگے

تاثیر،۲۵فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

دہلی میں عام آدمی پارٹی نے کانگریس کے ہاتھ کو اپنے ساتھ کر لیا ہے۔یعنی آئندہ لوک سبھا انتخابات کے مد نظر دونوں پارٹیوں کے درمیان3۔4 کے فارمولے پر بات پکی ہو گئی ہے۔ دونوں پارٹیوں نے مشترکہ طور پر اس کا باضابطہ اعلان بھی کر دیا ہے۔ اعلان کے مطابق عام آد می پارٹی نئی دہلی، جنوبی دہلی، مغربی دہلی اور مشرقی دہلی میں اپنے امیدوار کھڑے کرے گی، جبکہ کانگریس شمال مغربی، شمال مشرقی اور چاندنی چوک سیٹوں پر بی جے پی کے ساتھ مقابلہ کرے گی۔دونوں پارٹیوں کے درمیان سیٹ شیئرنگ پر بات چیت فائنل ہو جانے کے بعد سیاست کے بازار میں یہ چرچا شروع ہو گیا ہے کہ کانگریس اور عام آدمی پارٹی دہلی کی تمام سات سیٹوں پر جیت کے لیے ایک ہی کشتی میں سوار تو ہو گئی ہیں، لیکن اسے عبور کرنا دونوں پارٹیوں کے لیے بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر موجودہ انتخابی تانے بانے کے مطابق اس وقت ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے۔ اگر گزشتہ دو لوک سبھا انتخابات کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو سبھی سات سیٹیں بی جے پی کے حق میں جاتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔
دوسری جانب کانگریس اور آپ کے لیڈر جیت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ ریاستی کانگریس کے صدر ارویندر سنگھ لولی کا کہنا ہے کہ اگر انتخابات مضبوط اتحاد متحدہ اور انتشار کی گنجائش کے بغیر لڑے جائیں تو اس تصویر کچھ الگ ہوتی ہے۔ اس لیے اس بار بی جے پی پریشان ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ دہلی کی تمام سات لوک سبھا سیٹوں پر اتحاد کے تقاضوں کی پیروی کرتے ہوئے، کانگریس اور عام آدمی پارٹی دونوں کے کارکنان اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ’’انڈیا‘‘ اتحاد تمام سات سیٹوں پر فتح یاب ہو۔بر سبیل تذکرہ ان کا یہ بھی کہنا ہے جس طرح ایجنسیوں کو اپنے سیاسی ایجنڈے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے، وہ بالکل غلط ہے۔اور یہ صرف عام آدمی پارٹی کے ساتھ نہیں ہو رہا ہے بلکہ سب کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ دہلی کے انچارج دیپک بابریا کا کہنا ہے کہ دہلی میں کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے درمیان جس خوش اسلوبی کے ساتھ سیٹ شیئرنگ کا معاہدہ ہوا ہے، اس سے بی جے پی گھبراہٹ کا شکار ہے ۔کیونکہ یہ ’’انڈیا‘‘ اتحاد کی جیت کا واضح اشارہ ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج بی جے پی کے حق میں گئے تھے۔ کانگریس اور عام آدمی پارٹی کو ایک بھی سیٹ نہیں مل پائی تھی۔بیشتر سیٹوں پر کانگریس کو تیسری پوزیشن ملی تھی۔2024 کے انتخابات میں جن تین سیٹوں پر کانگریس قسمت آزمائی کرے گی ، ان کا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ 2014 میں ’’چاندنی چوک‘‘ سے کانگریس تیسرے نمبر پر رہی تھی۔ یہاں کانگریس کو 17.95 فیصد ووٹ شیئر ملے تھے جبکہ عام آدمی پارٹی کو 30.72 فیصد ووٹ ملےاور بی جے پی کو 44.60 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اسی طرح 2019 میں، کانگریس اس سیٹ پر دوسرے نمبر پر رہی تھی۔اسے 29.66 فیصد اور عام آدمی پارٹی 14.74 سینٹو ووٹ ملے تھے۔ وہیں بی جے پی کو 52.92 فیصد ووٹ لیکر سب سے آگے تھی۔ 2014 میں ’’ شمال مشرقی ‘‘ سیٹ پر، کانگریس 16.05 فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ تیسرے نمبر پر تھی۔ عام آدمی پارٹی کو 34.41 فیصد ووٹ ووٹ ملے تھے۔ بی جے پی کے حق میں 45.38 فیصد ووٹ پڑے تھے۔ تاہم 2019 میں کانگریس اس سیٹ پر دوسرے نمبر پر رہی تھی۔ اسے 16.05فیصد وو ٹ اور عام آدمی پارٹی کو 13.05 فیصد وٹ حاصل ہوئے تھے۔ بی جے پی کو 53.86 فیصد ووٹ لیکر بہت آگے تھی۔ اسی طرح ’’ نارتھ ویسٹ‘‘ سیٹ پر 2014 میں کانگریس 11.61 فیصد ووٹ کے ساتھ تیسرے اور 38.55 فیصد ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھی۔ بی جے پی کو 46.44 فیصد ووٹ ملے تھے۔ 2019 میں بھی، کانگریس یہاں تیسرے نمبر پر رہی، اسے صرف 16.88 فیصد ووٹ اور عام آدمی پارٹی کو 21.01 فیصد ووٹ ملے۔ حالانکہ یہاں بی جے پی کو 60.49 فیصد ووٹ ملے تھے۔
پچھلے دو لوک سبھا انتخابات میں شکست فاش کے بعد کانگریس اور عام آدمی پارٹی کا دہلی میں ایک ساتھ چناؤ لڑنے کے سلسلے میںچند سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس بار دونوں کا مظاہرہ بہتر ہوگا۔ دونوں پارٹیوں کے ایک ساتھ آنے سے بی جے پی کی اس بار واک اوور ملنے کی امیدیں ختم ہو گئی ہیں۔ یہی نہیں، اگر دونوں پارٹیوں کے ووٹر متحد ہو جائیں تو بی جے پی کو سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ 2014 میں بھی حالات ایسے تھے کہ اگر دونوں پارٹیاں مل کر الیکشن لڑتیںتو بی جے پی کے لیے دہلی میں ایک بھی سیٹ جیتنا مشکل ہوتا۔
اِدھرمغربی بنگال اور مہاراشٹر میں سیٹ شیئرنگ کے معاملے میں بات ابھی تک نہیں بن سکی ہے۔ممتا بنرجی کی پارٹی ٹی ایم سی کے ساتھ اورمہاراشٹر میں شیو سینا اور این سی پی کے ساتھ بات آگے نہیں بڑھ پا رہی ہے۔ حالاں کہ انھیں منانے کی کوششیں جاری ہیں۔ جہاں تک مہا راشٹر کی بات ہے تو وہاں بھی راہل گاندھی نے تعطل کو حل کرنے کے سلسلے میں شیوسینا لیڈر ادھو ٹھاکرے سے بات کی ہے۔ کانگریس کا مقصد ممبئی میں لوک سبھا کی چھ میں سے تین سیٹوں پر چناؤ لڑنا ہے۔ دوسری طرف، ادھو ٹھاکرے ریاست کی 18 سیٹوں پر الیکشن لڑنا چاہتے ہیں، جس میں ممبئی کی چار سیٹیں شامل ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اس تعطل کو ختم کرنے اور درمیانی راستہ نکالنے پر بات چیت کی ہے۔تاہم یہ مانا جا رہا ہے کہ یوپی میں سماج وادی پارٹی اور دہلی، ہریانہ اور گجرات میں عام آدمی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے کے باوجود کانگریس ہائی کمان کے چیلنجز کم ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ تاہم، راہل گاندھی سمیت کانگریس ہائی کمان کے ذریعہ سیٹوں کی مفاہمت کی کوششیں جاری ہیں۔ ممتا بنرجی کو اتحاد میں واپس لانے کی کوششیں ہو رہی ہے۔کانگریس کو امیدہے کہ ہم کامیاب ہوں گے۔
*********************