تاثیر،۵فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
ممبئی، 05 فروری: گجرات پولیس کے انسداد دہشت گردی دستے(گجرات اینٹی ٹیرریسٹ اسکواڈ’اے ٹی ایس‘) نے اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں مذہبی رہنما مولانا مفتی سلمان ازہری کو ممبئی کے گھاٹ کوپر علاقے سے گرفتار کر لیا۔ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اظہری کو گھاٹ کوپر پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا ہے۔ فی الحال انہیں گجرات لے جانے کی قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔گجرات اے ٹی ایس کے ایک اہلکار کے مطابق سلمان پر 31 جنوری کو گجرات کے جوناگڑھ میں اشتعال انگیز تقریر کرنے کا الزام ہے۔ اس تقریر کی ویڈیو وائرل ہونے پر مقدمہ درج کر لیا گیا اور پروگرام کے منتظمین ملک اور حبیب کو گرفتار کر لیا گیاتھا۔ ایک مقامی پولیس افسر کے مطابق اتوار کو گجرات اے ٹی ایس کی ٹیم سلمان اظہری کو گرفتار کرنے کے لیے گھاٹ کوپر میں ان کے گھر پہنچی۔ ان کے حامیوں کی بڑی تعداد گھر کے باہر جمع تھی۔ گجرات اے ٹی ایس نے سمجھداری سے سلمان ازہری کو حراست میں لے لیا۔ انہیں گھاٹ کوپر پولیس اسٹیشن لایا گیا اور مقدمہ درج کرنے کے بعد گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق اظہری کے حامی کافی دیر تک گھاٹ کوپر پولیس اسٹیشن کے آس پاس موجود رہے ۔ سب کو سمجھانے کی کوششیں کی گئیں۔ لوگوں کو متنبہ کیا گیا کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کریں۔
کون ہیں مفتی ازہری ؟
مولانا مفتی سلمان ازہری اسلامی ریسرچ اسکالر ہیں۔ وہ جامعہ ریاض الجنہ، الامان ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ اور دارالامان کے بانی ہیں۔ انہوں نے قاہرہ کی الازہر یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ اپنی اشتعال انگیز تقریروں کی وجہ سے کئی بار سرخیوں میں رہے ہیں۔ انہوں نے کئی بار اسلامی طلبا میں تبلیغ کی۔ جوناگڑھ میں مولانا مفتی سلمان ازہری نے 31 جنوری کی رات ‘بی’ ڈویژن پولیس اسٹیشن کے قریب کھلے میدان میں منعقد ہ ایک پروگرام میں اشتعال انگیز تقریر کی۔ ازہری اور مقامی منتظمین محمد یوسف ملک اور عظیم حبیب اوڈیدرا کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 153بی اور 505 (2) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ جوناگڑھ میں مولانا مفتی سلمان ازہری نے کہا تھا کہ کربلا کا آخری میدان ابھی باقی ہے۔ کچھ دیر خاموشی ہے ،پھر شور آئے گا۔ آج وقت ہے ،ہمارا دور آئے گا…!الزام ہے کہ اس دوران انہوں نے کئی قابل اعتراض الفاظ کا بھی استعمال کیا تھا۔

