گورنمنٹ اردو لائبریری میںسیمینار اور مشاعرہ کا انعقاد

تاثیر،۱۵فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

پٹنہ : گورنمنٹ اردو لائبریری کے زیراہتمام بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر بشیر بدر کی یوم پیدائش کے موقع پر)پر انکی شاعری کے تعلق سے ایک سیمینار اور مشاعرہ کا انعقاد آج گورنمنٹ اردو لائبریری میں چیرمین ارشد فیروزکی صدارت میں منعقد ہوئی ۔ گورنمنٹ اردو لائبریری کے چیرمین ارشد فیروز نے ڈاکٹر بشیر بدر کو انکی یوم پیدائش کے موقع پر انہیں مبارکباد پیش کی اور کہا کہ موجودہ دور کے سب سے کامیاب سب سے مشہورشاعروںمیں بلا شبہ بشیر بدر صاحب کا نام نہیات ادب اور احترام سے لیا جاتا ہے۔بشیر بدر صاحب کی شاعری ایک ایسی شاعری ہے جو بر جستہ دِل کو اثر کرتے ہوے دماغ میں جگہ بنا لیتی ہے ۔اْنکی شخصیت بے مثال ہے مشاعروں کی کامیابی کی ضمانت مانے جاتے ہیںاْنکے چہرے پر ہروقت ایک مسکراہٹ رہتی ہے۔مشاعروںمیںبھی آپ مسکراتے ہو ے شعر کہاکرتے تھے ۔اْنکی ایک الگ منفرد اسٹائل ہے۔اْنکی غزل اْنکے اشعار میں ایسے الفاذ کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ ہم جیسے عام سمجھ والے انسان کو بھی آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے۔اْنکے لہجے میں نیا پن کے ساتھ ہی احساس وفکر تازہ نظرآتا ہے اْنکی شاعری نے نہ صرف بھارت بلکہ عالمی سطح پربھی غزل کے لئے محبت اور عزت پیدا کی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ شاعر کتنے سچے کتنے حساس ہوتے ہیںجہاں تک عام خیال جا نہیںپا تے ہیں ایک شعر میں شاعر کتنی بڑی بات کتنے گمبھیر خیال کا اظہار آسانی سے کر دیتا ہے۔بلا شبہ ڈاکٹر بشیربدر نے اردو اور خاص کر شاعروںکی عزت بڑھائی ہے۔ڈاکٹر بشیر بدر صاحب بیمارہیںاور اْنکی یاداشت بھی کمزور ہو گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بشیربدر کی غزل سننے اور پڑھنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف شاعرکے دِل کی آواز نہیں ،ہمارے دل کی بھی آوازہے اْنکی غزلیںتازہ ہوا کے نرم جھونکے کی طرح ذہن کوچھوتے ہوئے دل میں اْترجا تی ہیں۔انہوں نے غزل کو ایک نیالہجہ وقار عطاکیا ہے۔بشیربدرصاحب اردو کے وہ شاعرہیں جنہوںنے کامیابی کی بلندیوںکو چھوا اْنہیں ۱۹۹۹ میں پدم شری ایوارڈ سے نوازاگیااسکے علاوہ اْنہیںکئی دوسرے ایوارڈوںسے بھی نوازا جا چکا ہے ۔بشیربدر صاحب کایہ خاص کارنامہ ہے کہ انہوںنے غزل میں ایسے ان گِنت الفاظ کو شامل کیاہے جسکا چلن پہلے اردو کے غزلوںمیں نہیںتھا۔ہمیںیہ جانکر حیرانی ہوئی کہ بشیربدر صاحب نے پولیس کی نوکری بھی کی ہے ۔حلانکہ۱۹۶۷ میںہی انہوںنے پولیس کی نوکری چھوڑدی تھی ۔بشیر بدر صاحب کو بچپن سے ہی شا عری کا شوق تھا ساتویںجمات سے اْنکی غزل میگزین میںچھپنے شروع ہوگئے تھے دھیرے دھیرے اْنکی شاعری مقبول ہوئی اور بہت جلد ہی بشیر بدر صاحب دنیا ے اردو ادب کاجانا مانا نام اوربہت ہی قابلِ احترام شاعرکے طور پر پوری دنیا میں ابھر کر سامنے آئے ۔
مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے سابق ڈسٹرکٹ اور سیشن جج اور کئی کتابوں کے مصنف اکبررضا جمشیدکہا کہ گرچہ میں بشیر بدر صاحب سے بہت زیادہ متعارف رہا پھر بھی انکی مقبولیت سے آشنا ہوں ۔ ان کی شاعری موجودہ زمانے میں ان کو ممتاز کرتی ہے ۔ ان کے کچھ اشعار عوام کے ذہن و دماغ میں رچے بسے ہیں
گورنمنٹ اردو لائبریری کے ممبر ڈاکٹر انوارالہدیٰ نے کہا کہ شاعر اپنے دور کے زمانے کی عکاسی کرتا ہے ۔ بشیر بدر ان شاعروں میں شامل ہیں جنہوں نے زمانے کے پیچ و خم کو محسوس کرتے ہوئے ایسے چبھتے ہوئے اشعار کہے ہیں جس کے معنی و مطالب کافی گہرے ہیں ، ان کا شعری سرمایہ اردو ادب کیلئے کافی مفید ہیں ۔ وہ اس وقت بھوپال میں ایسے حالات میں جس میں ان کا ذہن ودماغ اور یادداشت نے کام کرنا بند کردیا ہے ۔ اللہ سے دعا ء ہے ان کوصحت کاملہ عطا کرے
مہمان اعزازی کی حیثیت سے فخر الدین عارفی نے اس موقع پر کہا کہ ڈاکٹر بشیر بدر 56 سالوں سے ہندی اور اردو میں ملک کے سب سے مشہور شاعر ہیں۔ دنیا کے دو درجن سے زائد ممالک میں مشاعروں میں شرکت کر چکے ہیں۔ بشیر بدر ایک عام آدمی کے شاعر ہیں۔ زندگی کی عام باتوں کو اپنی غزلوں میں نہایت خوبصورتی اور عمدگی سے بیان کرنا بشیر بدر صاحب کا خاصہ ہے۔ انہوں نے اردو غزل کو ایک نیا لہجہ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سامعین اور قارئین کے دلوں میں اپنا خاص مقام بنایا ہے۔بشیر بدر ایک نئی شکل میں غزل کہنے اور لکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں، مرزا غالب کے بعد بشیر بدر سب سے زیادہ پڑھے جاتے ہیں۔ بشیر بدر نے عاشقوں کے لیے روحانیت سے بھرپور غزلیں لکھی ہیں جنہیں پڑھ کر دل کو سکون ملتا ہے، بشیر بدر کی شاعری میں دنیا، محبت، غربت اور کل کی ہم آہنگی دیکھی جاسکتی ہے۔


ہندی اور اردو کے معروف ادیب ڈاکٹر شاہد جمیل خاں نے مہمان اعزازی کی حیثیت سے بولتے ہوئے کہا کہ
محبت کے روحانی شاعر، ڈاکٹر بشیر بدر کی شاعری آج کے دور میں سب سے زیادہ مقبول ہے، ان کی لکھی ہوئی نظمیں چاہنے والوں کو ایک نئی راہ دکھاتی ہیں۔ بشیر بدر کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا، اسی لیے انھوں نے اردو اور عربی کی تربیت حاصل کی اور شاعری اور غزلیں لکھنا شروع کر دیں۔جب بشیر بدر 20 سال کے ہوئے تو ان کی شہرت میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں کی زندگیوں پر اپنا اثر چھوڑنا شروع کیا، بشیر بدر شاعری میں ہم ان کی محبت اور روحانیت کا بہترین اظہار دیکھ سکتے ہیں۔بہار اردو اکادمی کے سابق وائس چیرمین پروفیسر عبد الواحد انصاری نے ڈاکٹر بشیر بدر کے حیات و خدمات پر مدلل روشنی ڈالی ۔ اس موقع پر ڈاکٹر ایمن عبید، ڈاکٹر عشرت صبوحی، روشن پروین نے اپنا اپنا مقالہ پیش کیا ۔ جس میں ڈاکٹر بشیر بدر کی شعری خدمات پر کئی اہم نکات پر روشنی ڈالی گئی ۔
سیمینار کے بعد مشاعرہ کی محفل آراستہ کی گئی ۔ جس میں ڈاکٹر شمع ناسمین نازاں، سہیل فاروقی ، اصغر حسین کامل،ڈاکٹر فرحت یاسمین، صدف اقبال، میر سجاد، میم اشرف، معین گریڈیہوی، پریتی سمن ، یاور راشد ، فردوس گیاوی اور ظفر صدیقی نے اپنا اپنا کلام پیش کیا ۔ پرویز عالم نے محفل کی نظامت کی ۔ جبکہ شکریہ کی تجویز محمد اظہر الحق نے پیش کئے
اس موقع پر شاہد الحق ، عرفان بلہاری، کلیم اللہ کلیم دوست پوری ، اسرار سیفی، اثر فریدی، ڈاکٹر محمد مظاہر الحق، کاظم رضا، نسیم اختر، ڈاکٹر نوشاد الباری، سوبیر احمد افضل حسین،شگفتہ پروین، شاہینہ پروین، جمال کاکوی، ڈاکٹر اعجاز رسول، شمع کوثر شمع، نور صبا، ڈاکٹر سید ابراہیم، ڈاکٹر عامرہ فردوسی، وغیرہ بھی موجود تھے