یہ ٹیس آئندہ بھی باقی رہے گی

 

بہار کی موجودہ این ڈی اے حکومت میں جے ڈی یو بڑے بھائی او ر بی جے پی چھوٹے بھائی کے کردار میں ہے۔چنانچہ بہار کے عوام کو اس بات کا یقین ہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کبھی بھی کسی دوسرے ماڈل کو بہار میں اپنے گڈ گورننس کے ماڈل پر حاوی نہیں ہونے دیں گے۔ ملک بھر میں نتیش کمار کی شبیہ گڈ گورننس کے علمبردار کے طور پر بن گئی ہے۔ نتیش کمار خود بہار سے جرائم اور جنگل راج کو ختم کرنے کا کریڈٹ لیتے رہے ہیں۔ 2005 اور 2010 کے درمیان ایک ایسا دور تھا جب انھوں نے 75 ہزار سے زیادہ چھوٹے بڑے مجرموں کو جیل بھیج دیا تھا۔سلاخوں کے پیچھے جانے والوں میں کئی’’ باہوبلی نیتا ‘‘ بھی شامل تھے۔ ہر ضلع میں فاسٹ ٹریک کورٹس قائم کی گئیں، جن کے ذریعے 5 سال میں تقریباً 52 ہزار مجرموں کو سزائیں دی گئیں۔ کبھی کسی انکاؤنٹر یا بلڈوزر کی ضرورت نہیں پڑی۔
نتیش کمار گزشتہ 17 سالوں سے بہار کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ وہ اب تک رکارڈ 9 مرتبہ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھا چکے ہیں۔  9ویں بار کی حلف برداری کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب وزراء کے درمیان محکموں کی تقسیم میں 6 دن لگ گئے۔ محکموں کی تقسیم میں اتنی  تاخیر کیوں ہوئی، یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ بی جے پی اور جے ڈی یو کے درمیان محکموں کی تقسیم میں توازن کو برقرار رکھنا کسی چیلنج سے کم نہیں تھا۔ بہت سی افواہیں اور قیاس آرائیاں تھیں، لیکن سب کے سب ہوا ہو گئے۔محکموں کی تقسیم کچھ اس ڈھنگ سے ہوا کہ نتیش کمار کی ’’گڈ گورننس ‘‘ یعنی قانون کی بالا دستی والی حکومت پر ’’بلڈوزر ‘‘ یا ’’انکاؤنٹر‘‘ کلچر حاوی نہیں ہو سکا۔
سیاسی مبصرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ محکموں کی تقسیم میں تاخیر ہوئی تو ہوئی، لیکن آخر کار نتیش کمار ہی غالب رہے۔ انہوں نے تعداد  ( (23  کے اعتبار سے بھلے ہی زیادہ محکمے بی جے پی کو سونپے ہوں، لیکن محکموں کی تعداد( 19 ) کے باوجود پاور اور پیسہ کے اعتبار سے اپنی پارٹی جے ڈی یو کو ہی مضبوط بنایا ہے۔طاقت کے اعتبار سے سب سے اہم’’محکمہ‘‘ تھا۔اسے حاصل کرنے کے لئے  بی جے پی میں بڑی بے چینی دکھائی دے رہی تھی۔ ڈپٹی سی ایم سمراٹ چودھری اسے اپنے پاس رکھنے کے لئے بضد تھے۔ اس کے پیچھے بہار میں یوپی اور ایم پی ماڈل (مجرموں کا انکاؤنٹر کرنا اور اور ان کے مکانات پر بلڈوزر چلانا)  کی طرز پر کام کر کے عوام میں بی جے پی کا مضبوط پیغام دینا تھا،لیکن نتیش کمار نے فی الحال بی جے پی کی منصوبہ بندی کو خاک میں ملا دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اس بار بھی محکمہ داخلہ اپنے ہی پاس رکھا ہے۔ویسے بھی بہار کی روایت رہی ہے کہ یہاں جو بھی وزیراعلیٰ بنے، انھوں نےمحکمہ داخلہ کو اپنے پاس ہی رکھا۔اس بار بھی بحیثیت وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے محکمہ داخلہ کو اپنے پاس رکھ کربہار میں بلڈوزر چلانےوالے بی جے پی کے خواب چکنا چور کر دیا۔ایسا کرنا نتیش کمار کی مجبوری بھی تھی۔بی جے پی بھلے ہی اپنے ایجنڈے کے مطابق بہار میں حکمرانی کرنے کا ارادہ دل و دماغ میں پالے ہوئی تھی ،لیکن نتیش جو خود کو جے پی، لوہیا اور کرپوری جیسے سماجوادیوں کا سپاہی کہتے ہیں، کبھی بھی یہ پسند نہیں کر سکتے ہیں کہ کسی بھی قیمت پر، قانون کی بالادستی کو نظر اندازکرنے اور ’’انکاؤنٹرو بلڈوزر ‘‘ کی بنیاد پر حکمرانی کا الزام ان پر لگے۔
  قابل ذکر ہے کہ محکموں کی تقسیم اور کابینہ کی تقسیم میں صرف اس وجہ سے 6 دنوں کی تاخیر ہوئی کہ ’’محکمہ داخلہ‘‘ کے معاملے میں بات نہیں بن پا رہی تھی ۔جبکہ اس سے قبل نتیش کمار 8 بار بہار کے وزیر اعلیٰ بن چکے ہیں،لیکن ہر بار انہوں نے حکومت بنانے کے بعد ایک ہی دن یا زیادہ سے زیادہ 4 دن کے اندر محکموں کو تقسیم کیا تھا۔اس تاخیر کی وجہ سےتھوڑی دیر کے لئے اپوزیشن کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ بہار میں ’’اصلی کھیلا‘‘ ابھی باقی ہے۔اپوزیشن کا اشارہ فلور ٹیسٹ کی جانب تھا۔ اپوزیشن لیڈروں کی اس طرح باتوں کو اس وقت مزید ہوا ملی جب این ڈی اے میں شامل جیتن رام مانجھی نے دو وزارتی عہدوں کا مطالبہ کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر ان کی پارٹی کو ایک اور وزارتی عہدہ نہیں ملے گا تو یہ ناانصافی ہوگی ، کیوں کہ میں نےعظیم اتحاد کی طرف سے دیے گئے وزیراعلیٰ کے عہدے کو مسترد کر دیا ہے۔
اِدھر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ محکموں کی تقسیم کے ذریعہ نتیش کمار نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ جب تک وزیر اعلیٰ رہیں گے، بہار کی سیاست میںجو چاہیں گے وہی ہوگا۔ اس بار بھی تین محکموں کو چھوڑ کر تقسیم اسی طرح کی گئی ہے جس طرح 2020 میں این ڈی اے حکومت کے دوران ہوئی تھی۔ اب کی بار کی تقسیم میں بی جے پی کے 23 محکموں کا بجٹ 69 ہزار 432 کروڑ روپے ہے، جب کہ جے ڈی یو کے 19 محکموں کا بجٹ 1 لاکھ 17 ہزار 529 کروڑ روپے ہے۔ اسی لئے یہ مانا جا رہا ہے کہ  اس بار بھی بی جے پی کو چھو ٹے بھائی کے ہی کردار میں ر ہنا پڑے گا۔ویسے یہ مانا جا رہا ہے  لوک سبھا انتخابات تک دونوں پارٹیوں کے درمیان سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ابھی چونکہ مرکزی قیادت کا زور بہار کی سبھی 40 لوک سبھا سیٹوں پر ہے، اس لئے انتخابات تک سب کچھ ٹھیک رہنا بھی چاہئے، لیکن اس کے بعدکھٹ پٹ ہونے کا اندیشہ ضرور ہے۔کیوں کہ محکموں کی تقسیم کے بعد ایک وزیر کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ ’’ہم ہر توہین کے باوجود بہار کی ترقی کریں گے‘‘ ۔ ظاہر ہے ’’محکمہ داخلہ ‘‘ نہیں ملنے کی ٹیس کہیں نہ کہیں ابھی باقی ہے۔ اور ایسا لگتا ہے یہ ٹیس آئندہ بھی باقی رہے گی۔
********