سعودی عرب کا 1967ء سرحدوں پر فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ

تاثیر،۸مارچ ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

ریاض ،07مارچ:سعودی عرب نے ایک بار پھر آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطینیوں کے خلاف جاری جنگ روکنے پر زور دیا ہے۔مملکت کی وزارت خارجہ نے گزشتہ روز شام ایک بیان میں کہا کہ ہم فلسطینی عوام کے مصائب کو ختم کرنے کا پر زور مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ سنہ1967ء کی جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر عرب علاقوں میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے۔ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر مشرق وسطیٰ اور خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی۔
سعودی پریس ایجنسی ’ایس پی اے‘ کی طرف سے شائع ہونے والے ایک بیان میں وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ “مملکت مغربی کنارے میں تقریباً 3500 نئی بستیوں کی تعمیر کی منظوری دینے کے اسرائیلی قابض ریاست کے فیصلے اور مغربی کنارے کے بڑے حصوں کو یہودیانے کی کوشش کی شدید مذمت کرتی ہے۔ یروشلم میں غیرقانونی آباد کاری تمام بین الاقوامی قراردادوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔ آباد کاری اقوام متحدہ کے کنونشنز اور خطے میں امن اور استحکام کے مواقع کے حصول کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے”۔
وزارت خارجہ کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ فلسطینی عوام کے مصائب کا خاتمہ کیا جائے، فلسطینی عوام کے لیے امید کے راستے کھولے جائیں، انہیں محفوظ زندگی گذارنے کے حقوق حاصل کرنے کے قابل بنایا جائے اور 1967ء کی سرحدوں کے اندر مشرقی یروشلم کے پر مشتمل فلسطینی ریاست قائم کی جائے۔ یہ نہ صرف فلسطینیوں کا مطالبہ ہے بلکہ عرب ممالک، عالم اسلام اور عالمی برادری کا بھی پر زور مطالبہ ہے۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے زور دے کر کہا کہ سعودی عرب غزہ نے رفح کے خلاف کسی بھی جارحیت کے خطرناک نتائج سے خبردار کرتا ہے اور غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کو مسترد کرنے پر زور دیتا ہے۔