تاثیر،۲۴مارچ ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
بہار میں سیاسی لیڈروں کے ذریعہ پارٹی بدلنے کا سلسلہ تو بہت پہلے سے ہی شروع ہو گیا تھا، لیکن دھیرے دھیرے اب اس کی رفتار میں تیزی آتی جا رہی ہے۔ اس دوران جے ڈی یو نے اپنے16 لوک سبھا امیدواروں کی فہرست جاری کی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ اب لیڈروں کے اِدھر سے اُدھار جانے اور آنے کی رفتار مزید تیز ہو جائے گی۔ اب تک جے ڈی یو ڈیڑھ درجن سے زائد لیڈر پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔سال 2022 میں جب نتیش کمار نے بی جے پی چھوڑ کر آر جے ڈی کے ساتھ حکومت بنائی تھی تو ا س وقت جے ڈی یو سے لیڈروں کی علیحدگی کا سلسلہ اوپیندر کشواہا سے شروع ہوا تھا۔ مینا سنگھ، سہیلی مہتا، شمبھوناتھ سنہا نے پارٹی چھوڑ دی تھی۔ بعد میں بیگوسرائے کے سابق ایم پی مناظرحسن نےجے ڈی یو کو الوداع کہا۔پارٹی چھوڑنے والے لیڈروں کا الزام تھا کہ جے ڈی یو اب آر جے ڈی کی گود میں بیٹھ گیاہے۔ اِدھر حال میں علی اشرف فاطمی نے جے ڈی یو کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ وہ سابق مرکزی وزیر کے ساتھ ساتھ جے ڈی یو کے قومی جنرل سکریٹری بھی تھے۔ ابھے کشواہا اور فراز فاطمی نے بھی جے ڈی یو سے خود کو الگ کر لیا ہے۔
روپولی سے جے ایل اے بیما بھارتی نے بھی جے ڈی یو سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ کئی اور ایم ایل اے ہیں، جو جے ڈی یو چھوڑنے کا اشارہ دے رہے ہیں۔ ان میں ایم ایل اے گوپال منڈل اور ڈاکٹر سنجیو کے نام بھی شامل ہیں۔ گوپال منڈل بھاگلپور سے لوک سبھا الیکشن لڑنے کے خواہشمند ہیں۔ وہ پہلے سے ہی کہہ رہے ہیں کہ لوک سبھا کا ٹکٹ ان کی جیب میں ہے۔ وہ یہ نہیں بتا رہے ہیں کہ ان کے پاس کس پارٹی کا ٹکٹ ہے۔ اب جے ڈی یونے بھاگلپور سے امیدوار اجے منڈل کے نام کا اعلان کیا ہے۔ اسی طرح جے ڈی یو ایم ایل اے ڈاکٹر سنجیو بھی لوک سبھا الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔ بہار کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے بتاتے ہیں کہ بیما بھارتی اور ڈاکٹر سنجیو، جو نتیش کی کابینہ میں وزیر تھے، اعتماد کے ووٹ کے دوران ہی نتیش سے الگ ہونا چا ہ رہے تھے۔بیما بھارتی لیسی سنگھ کو وزیر بنائے جانے سے ناراض ہیں۔ بیما نے پہلے ہی کہا تھا کہ اگر لیسی سنگھ کو وزیر کے عہدے سے نہیں ہٹایا گیا تو وہ استعفیٰ دے دیں گی۔جے ڈی یو سے استعفیٰ دیتے ہوئے بیما بھارتی نے الزام لگایاتھا کہ پارٹی میں انتہائی پسماندہ لوگوں کو عزت نہیں مل رہی ہے۔
در اصل بیما بھارتی پورنیہ سے لوک سبھا الیکشن لڑنا چاہتی ہیں۔ اسی وجہ سےانہوں نے جے ڈی یو سے استعفیٰ دے کر آر جے ڈی کی رکنیت حاصل کر لی ہے۔ حالانکہ آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو انھیں پورنیہ سے میدان میں اتاریں گے ہی ، ایسا ابھی ممکن نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پپو یادو اپنی جن ادھیکار پارٹی کو کانگریس میں ضم کرکے پورنیہ سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔ انضمام سے پہلے پپو یادو نے لالو پرساد یادو اور سابق ڈپٹی سی ایم تیجسوی یادو سے بھی ملاقات کی تھی۔ وہ پورنیہ میں اپنی چناوی مہم’’پرنام پورنیہ‘‘ شروع بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں پورنیہ میں ایک بڑی ریلی منعقد کی تھی ۔ مانا جا رہا ہے کہ لالو پرساد یادو پپو یادو کو مدھے پورہ سے الیکشن لڑنے کے لئے راضی کریں گے اس کے بعد ہی بیما بھارتی کو پورنیہ سے اپنا امیدوار بنائیں گے، لیکن پپو یادو پورنیہ کی سیٹ کسی بھی قیمت پر چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔لالو پرساد یادو کے مطابق مدھے پورہ بھی پپو یادو کے لئے ساز گار ہوگا۔ مدھے پورہ کے بارے میں یہ مشہور بھی ہے کہ ’’روم پوپ کا ہے اور مدھے پورہ گوپ کا۔‘‘
لوک سبھا ٹکٹ کی یقین دہانی پر آر جے ڈی میں جس طرح سے لوگوں کو پارٹی میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے یااتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لئے بغیر لالو پرساد جس طرح ’’انڈیا‘‘ اتحاد میں شامل پارٹیوں کے درمیان ٹکٹوں کی تقسیم کے بغیر اپنے امیدواروں میں سمبل بانٹ رہے ہیں، اس سے ’’انڈیا‘‘ اتحاد میں شامل پارٹیوں کا پریشان ہونا فطری ہے۔ سی پی آئی (ایم ایل) پانچ سیٹوں کا مطالبہ کر رہی ہے۔ لالو نے اس کے لئے تین سیٹیں طے کی ہیں۔مالےکی پانچ سیٹوں کی مانگ میں سیوان، مہاراج گنج اور پاٹلی پتر کی سیٹیں بھی شامل ہیں۔ لیکن آر جے ڈی ان میں سے کوئی بھی سیٹ دینے کو تیار نہیں ہے۔ ایسے میںکانگریس کو ابھی تک یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ آخر کا ر اسے کتنی اور کون کون سی سیٹیں دی جائیں گی۔ اوّل تو سیٹوں کی تعداد کا مسئلہ ہے، دوسرا یہ کہ کانگریس کے رہنما جو سیٹیں چا ہتے ہیں وہ دستیاب نہیں ہیں، ان پر آر جے ڈی نے پہلے سے ہی اپنا دوعویٰ ٹھوکرکھا ہے۔
بہر حال ابھی ’’انڈ‘‘ اتحاد سے وابستہ جماعتوں کے درمیان سیٹوں کی باقاعدہ تقسیم کے لئے سرد جنگ جاری ہے۔ آر جے ڈی نے پارٹی کے 10 سے زیادہ امیدواروں کو نشانات سونپے ہیں، جس کی وجہ سے بہار کانگریس لیڈروں بالخصوص ممکنہ امیدواروں میں ناراضگی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ آر جے ڈی نے کانگریس کی روایتی سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارنے کا من بنایا ہے۔کچھ سیٹوںپر اپنے امیدواروں کوسمبل بھی دے چکے ہیں۔کانگریس کے سابق ایم پی نے اورنگ آباد سیٹ کو لے کر کھل کر اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے۔ کانگریس کنہیا کمار کے لئے بیگوسرائے سیٹ چاہتی ہے، لیکن آر جے ڈی نے یہ سیٹ سی پی آئی کو دے دی ہے۔ اس کے علاوہ پورنیہ سیٹ کو لے کر بھی آر جے ڈی اور کانگریس کے درمیان کشمکش کی صورتحال ہے۔ آر جے ڈی وہاں بیما بھارتی کو امیدوار بنانا چاہتا ہے، لیکن پپو یادو نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر پونیہ کو نہیں چھوڑیں گے۔ اسی طرح کٹیہار سمیت دیگر کئی سیٹوں کو لے کر بھی تنازعہ ہے۔اس میں ایک اہم پیچ یہ ہے کہ کانگریس اور دیگر بائیں بازو کی جماعتوں کو خاطر خواہ تعداد میں سیٹیں دینے کے بجائے زیادہ سے زیادہ سیٹوں پر آر جے ڈی خود الیکشن لڑنا چاہتا ہے۔یہی وہ پیچ ہے جو سلجھتا ہوا نہیں دِکھ رہا ہے۔ویسے آج دہلی میں آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو اور تیجسوی یادو کی ملاقا ت بہار پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اور ’’ انڈیا‘‘ اتحاد کے سنیئر لیڈروں کے ساتھ ہونے والی ہے۔ اسی ملاقات میں سارے گلے شکوے دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سیٹوں کی تقسیم کا باضابطہ اعلان ہوسکتا ہے۔حالانکہ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ سیٹوں اور امیدواروں کے نام کا اعلان ہو نے کے بعد پارٹی بدلنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔
*********************

