تاثیر،۱۵ اپریل ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
وزیر اعظم نریندر مودی کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے ملک بھر کی اپوزیشن جماعتیں متحد ہو گئی ہیں۔’’انڈیا‘‘ اتحاد کی مدد سے اپوزیشن پارٹیاں مودی کی قیادت والی این ڈی اے کو روکنا چاہتی ہیں۔ اس مہم میں اتر پردیش بھی کسی سے کم نہیں ہے۔اتر پردیش کی علاقائی جماعت بہوجن سماج پارٹی ( بی ایس پی) سمیت کئی دیگر پارٹیاں تنہا الیکشن لڑ رہی ہیں۔ بی ایس پی اپنی تیاریوں میں زوردار ڈھنگ سے مصروف ہے۔یہاں ایک بڑا سوال یہ بھی گشت کر رہا ہے کہ بی ایس پی اس الیکشن میں ’’ایکلا چلو‘‘ کے راستے پر آگے بڑھ کر سب سے زیادہ کس کو نقصان پہنچا نے والی ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ چرچا ہے کہ بی ایس پی ’’انڈیا‘‘ اتحاد کو نسبتاََ زیادہ نقصان پہنچاسکتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ 4 بار یوپی کی وزیر اعلیٰ رہنے والی مایاوتی نے اپنی سیاست کی شطرنج کی چالوں سے بی جے پی کے لئے بھی مشکلات پیدا کرنے میں کوئی کور کسر نہیں چھور رکھی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس بار مایاوتی نے پی ایم مودی کو ایک بار پھر اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے مکمل حکمت عملی تیار کر لی ہے۔
مایاوتی نے یوپی کی 13 سیٹوں پر ایسے امیدواروں کے نام کا اعلان کیا ہے، جو بھارتیہ جنتا پارٹی اور این ڈی اے اتحاد کے لئے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ بی ایس پی سپریمو نے مسلم امیدواروں کی ابتدائی فہرست کے ذریعہ’’انڈیا‘‘ اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش ضرور کی ہے، لیکن اگر بی جے پی کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بی ایس پی نے 13 لوک سبھا سیٹوں پر اس کے سامنے بڑا چیلنج پیش کر دیا ہے۔ اگر غازی آباد سیٹ کی بات کریں تو مایاوتی نے نند کشور پنڈیر کو میدان میں اتار کر بی جے پی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ بی ایس پی نے متھرا سیٹ کے لیے دیوورت تیاگی کو اپنا امیدوار قرار دے کر بی جے پی کے تیاگی ووٹ بینک کو سیدھا نقصان پہنچایا ہے۔ ساتھ ہی بجنور سیٹ پر جاٹ امیدوار کھڑا کرکے بی جے پی کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ پارٹی نے یہاں سے جاٹ امیدوار چودھری ویریندر سنگھ کو ٹکٹ دیا ہے۔ مایاوتی بھی اس سیٹ سے الیکشن جیت چکی ہیں۔ 2019 میں بی ایس پی کے ملوک نگر نے الیکشن جیتا تھا۔ اس سیٹ پر دلت ووٹروں کی بڑی تعداد ہے۔
مظفر نگر سیٹ پر بی ایس پی نے مسلم امیدوار کھڑا نہ کرکے بی جے پی امیدوار سنجیو بالیان سے سیدھا مقابلہ کیا ہے۔ ایس پی ہریندر
ملک کو امیدوار بنایا گیا ہے۔ ایسے میں اگر ہریندر ملک کو یکطرفہ طور پر مسلم ووٹ ملتے ہیں تو بی جے پی کی پریشانی بڑھ سکتی ہے ۔ کیونکہ بی ایس پی نے یہاں سے دارا سنگھ پرجاپتی کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جو پسماندہ ووٹ بی جے پی کو مل سکتے تھے وہ پرجاپتی کے ساتھ بھی جا سکتے ہیں۔ بی ایس پی نے باغپت سیٹ کے لیے پروین بنسل کو اپنا امیدوار قرار دیا ہے۔ پروین کا تعلق بنیا برادری سے ہے اور وہ بنیا بی جے پی کا کٹر ووٹر ہے۔ایسے میں بی ایس پی نے ووٹ بینک کو توڑ کر بی جے پی کو بڑا جھٹکا دیا ہے۔ اسی طرح لکھیم پور کھیری ضلع کی دھورہارا سیٹ پر بی ایس پی نے برہمن کارڈ کھیلا ہے۔ بی ایس پی نے بی جے پی کے باغی شیام کشور اوستھی کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ جبکہ بی جے پی نے ریکھا ورما کو ٹکٹ دیا ہے اور ایس پی نے آنند بھدوریا کو ٹکٹ دیا ہے۔ واضح ہو کہ لکھیم پور کھیری ایک برہمن اکثریتی علاقہ ہے، ایسے میں بی ایس پی نے برہمن چہرے کو ہٹا کر بی جے پی کا کھیل خراب کر دیا ہے۔ اسی طرح بی ایس پی نے اناؤ میں بھی برہمن چہرے پر شرط لگائی ہے۔ اناؤ سے اشوک پانڈے کو امیدوار بنایا گیا ہے۔ ضلع میں تقریباً 11 فیصد برہمن ووٹر ہیں اور 24 فیصد دلت ہیں۔ اگر دونوں ایک ساتھ آتے ہیں تو 35 فیصد ووٹر بی ایس پی کے ساتھ آسکتے ہیں۔ اسی طرح مایاوتی نے علی گڑھ سیٹ سے ہتیندر کمار عرف بنٹی اپادھیائے کو ٹکٹ دیا ہے۔ اس سیٹ پر بھی برہمن اور دلت مل کر 35 فیصد کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ اس سے بی جے پی کو براہ راست نقصان ہو سکتا ہے۔
مرزا پور سیٹ پر بہوجن سماج پارٹی نے منیش ترپاٹھی کو ٹکٹ دیا ہے۔ یہاں دلت اور برہمن مل کر تقریباً 30 فیصد ووٹر ہیں۔ اسی طرح بی ایس پی نے راجیش کمار دویدی کو اکبر پور سیٹ کے لیے اپنا امیدوار قرار دیا ہے۔ یہاں بھی دلت اور برہمن سیٹوں پر ووٹ شیئر تقریباً 34 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ اس سے بی ایس پی کو براہ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بی ایس پی نے اعظم گڑھ سیٹ پر بھیم راج بھر کو اپنا امیدوار قرار دے کر مقابلہ کو سہ رخی بنا دیا ہے۔ تاہم، بی ایس پی لیڈر شاہ عالم عرف گڈو جمالی کے ایس پی میں شامل ہونے سے سماج وادی پارٹی مضبوط ہوئی ہے،لیکن فی الحال اس سیٹ سے بی جے پی کے دنیش لال نیرہوا ایم پی ہیں۔
اس کے ساتھ ہی گھوسی سیٹ پر بی ایس پی نے سابق ایم پی بال کرشن چوہان کو میدان میں اتار کر مقابلہ سخت کر دیا ہے۔ بستی سے دیا شنکر مشرا اور فیض آباد سیٹ سے سچیدانند پانڈے نے برہمن کارڈ کھیل کر بی جے پی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔بلا شبہہ ملک کے دلت ووٹروں نے سیاست کو کافی متاثر کیا ہے۔ آزادی کے بعد دلت سماج پر کانگریس پارٹی کی اجارہ داری تھی۔ دلتوں، مسلمانوں اور برہمنوں کے اٹوٹ اتحاد نے کانگریس کو مضبوط پوزیشن دی تھی۔ بعد میں ریاستوں میں کانشی رام اور مختلف دلت مفکرین نے اس طرح کام کیا کہ دلت ووٹ بینک جو کبھی متحد تھا بکھر گیا۔اسی وجہ سے بی ایس پی سپریمو مایاوتی ایک دو بار نہیں بلکہ چار بار اتر پردیش کی وزیر اعلیٰ بنیں۔یوپی کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا ماننا ہے کہ اس بار کے الیکشن میں مایا و تی کو کتنا فائدہ ہوگا یہ کہنا مشکل ہے ، لیکن یہ بات تو طے ہے کہ وہ اپنے دلت ووٹ بینک کی مدد سے این ڈی اے کے خلاف بھی بڑا کھیلا کر سکتی ہیں۔
******************

