کنگنا اور وکرمادتیہ کے درمیان لفظوں کی جنگ تیز، ایک دوسرے پر طنز کیا

تاثیر،۱۳       اپریل ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

شملہ، 13 اپریل: ملک میں موضوع بحث بنی ہماچل پردیش کی منڈی لوک سبھا سیٹ پر بی جے پی نے بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت کو میدان میں اتارا ہے ۔ ہماچل میں پہلی بار کوئی مشہور شخصیت انتخابات میں قسمت آزمائی کر رہی ہے۔ کانگریس نے ابھی تک اس سیٹ کے لیے اپنے امیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے۔ کانگریس یہاں سے کابینی وزیر وکرمادتیہ سنگھ کو اپنا امیدوار بنا سکتی ہے۔ کنگنا اور وکرمادتیہ کے درمیان لفظوں کی جنگ تیز ہوگئی ہے اور دونوں ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے باز نہیں آرہے ہیں۔ جہاں کنگنا انتخابی جلسوں میں وکرمادتیہ سنگھ پر تند و تیز حملے کر کے طعنہ زنی کر رہی ہیں، وہیں وکرمادتیہ سنگھ ویڈیو پیغامات کے ذریعے کنگنا رناوت پر جوابی وار کر رہے ہیں۔
ایک دوسرے پر شدید حملے کر رہے ہیں
کنگنا نے جمعہ کو منڈی پارلیمانی حلقہ کے کلو میں ایک انتخابی ریلی میں کہا کہ وکرمادتیہ سنگھ ان کے چھوٹے بھائی ہیں اور وہ ان سے ناراض رہتے ہیں۔ کنگنا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ میں نے انہیں راجہ بیٹا اور راجہ بابو جیسے پیارے نام دیئے لیکن وہ اس سے ناراض ہوگئے۔ ہم نے ان کو چھوٹا پپو کیا بول دیا، وہ تو منھ پھلا کر بیٹھ گئے۔ کنگنا یہیں نہیں رکیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی ان کا موازنہ اعلیٰ قیادت سے کرے تو وہ بے حد خوش ہوں گی۔ لیکن انہوں نے وکرمادتیہ کا ان کے اعلی رہنما سے موازنہ کیا کر دیا ، وہ ناراض ہو گئے۔
کنگنا نے کہا کہ وکرمادتیہ سنگھ کانگریس حکومت میں وزیر ہیں۔ کانگریس نے ریاست میں پنشن اسکیم شروع کرنے کا وعدہ کیا تھا، کانگریس حکومت نے یہ اسکیم کیوں شروع کی؟ موبائل اسپتال بنانے کی بات کہی گئی تھی ، موبائل وین گھر گھر جا کر مفت علاج کریں گی، منڈی میں ایسی وین کسی نے نہیں دیکھی۔ کانگریس نے 5 سے 6 لاکھ نوکریوں کا اعلان کیا تھا اور خواتین اور بیٹیوں کو ہر ماہ 1500 روپے دینے کی بات کی تھی۔ لیکن خواتین کو نہ نوکری دی گئی اور نہ ہی 1500 روپے۔ باغبانوں کو امدادی قیمت نہیں مل رہی۔
کنگنا نے کہا کہ وکرم بھیا اگرآپ سے کام کی بات کریں تو آپ الٹی بات کرتے ہیں اور جب وہ آپ سے الٹی بات کریں ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں سیدھی بات کرنی ہے تو آپ سے بات کون سی کریں؟ کنگنا نے کہا کہ کام کی بات اگر اس ملک میں کوئی کرتا ہے ، کر کے دکھاتا ہے اور ڈنکے کی چوٹ پر گارنٹی بول کر شروع کرتا ہے اور گارنٹی سے ڈلیور کرتا ہے ، تو وہ ایک ہی ہے نریندر مودی ۔
دوسری طرف، کانگریس رہنما وکرمادتیہ سنگھ نے کنگنا رناوت پر جوابی حملہ کیا اور کنگنا کو ہماچل کے مسائل پر ہوم ورک کرنے کا مشورہ دیا۔ شملہ سے جاری ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ کنگنا اپنا ہوم ورک کرکے نہیں آتیں۔ انہیں ہماچل کے مسائل کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنی چاہئیں۔ ان کے ساتھ آنے والی میڈیا ٹیم اسے ان مسائل سے آگاہ کرے۔ وکرمادتیہ نے کہا کہ اگر کنگنا نے اپنی تقریر میں او پی ایس کے بارے میں بات کی ہے تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہماچل حکومت نے او پی ایس کو نافذ کر دیا ہے اور ہماچل ایسا کرنے والی پہلی ریاست بن گئی ہے۔ اگر کنگنا ملازمین کی اتنی ہی خیر خواہ ہیں تو انہیں مرکز زکے پاس پھنسا ملازمین کا 9000 کروڑ روپے ریاست کو فراہم کرانے میں اپنا تعاون دیں۔
وکرمادتیہ سنگھ نے کہا کہ ہماچل انتخابات گلیمرس کے بجائے یہاں کے مدعوں پر لڑے جائیں گے۔ کنگنا نے کل ہمارے آباؤ اجداد کے بارے میں بات کی، لیکن ہمیں ان سے کوئی سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ وکرمادتیہ سنگھ نے مزید کہا کہ ان کے والد مرحوم ویربھدر سنگھ کو راجہ اس لئے نہیں کہا جاتا کیونکہ وہ کسی ریاست کے راجہ تھے۔ وہ چھ بار ریاست کے وزیر اعلی رہے، مرکزی وزیر رہے اور انہوں نے طویل عرصے تک ریاست کی خدمت کی۔
کنگنا کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہبے مطلب باتوں سے لوگوں کا دل نہیں جیتا جاتا بلکہ اس کے لیے زمین پر کام کرنا پڑتا ہے۔