اروند کیجریوال 2جون کو واپس جیل جائیں گے

تاثیر،۳۱       مئی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی،31 مئی:دہلی کے وزیر اعلی اور عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے جمعہ (31 مئی) کو کہا کہ وہ اتوار (2 جون) کوخود سپردگی کریں گے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سپریم کورٹ نے مجھے 21 دن کا وقت دیا تھا۔ کل 21 دن مکمل ہو رہے ہیں۔ پرسوں (اتوار) ہمیں سرینڈر کرنا ہے۔ میں تہاڑ جیل جاؤں گا، مجھے نہیں معلوم کہ وہ مجھے کب تک تہاڑ جیل میں رکھیں گے۔ لیکن میرے حوصلے بلند ہیں۔ ملک کو آمریت سے بچانے کے لیے جیل جا رہا ہوں۔دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ مجھے 2 جون کوخود سپردگی کو کہا گیا ہے۔ وہ 2 جون کو 3 بجے گھر سے خود سپردگی کے لیے نکلیں گے۔ کیجریوال نے کہا کہ انہیں جیل میں بند رہتے ہوئے بھی لوگوں کی فکر ہے۔ دہلی کا کام جیل کے اندر سے بھی جاری رہے گا۔ دہلی کا کام نہیں رکنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اہل خانہ نے والدین کے لیے دعاؤں کی درخواست کی ہے۔ ان کے والدین کی صحت ٹھیک نہیں ہے۔کیجریوال نے مزید کہا کہ جیل میں انسولین نہیں دی گئی۔ جس کی وجہ سے گردے اور جگر متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے جیل میں 50 دنوں کے اندر اپنا وزن کم کیا ہے۔ وزن 74 کلو سے گھٹ کر 64 کلو ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر نے انہیں کسی بڑی بیماری کی علامت قرار دیا ہے۔ 2 جون کو میں تہاڑ جیل واپس جاؤں گا۔ میں نہیں جانتا کہ اس بار میں کب تک جیل میں رہوں گا، لیکن میرے حوصلے بلند ہیں۔ جب میں جیل میں تھا تو مجھے کئی طرح سے اذیتیں دی گئیں۔دوسری طرف کیجریوال نے بی جے پی سے اپیل کی ہے کہ وہ دہلی میں پانی کے بحران پر سیاست نہ کرے، یوپی اور ہریانہ سے دہلی کو پانی فراہم کرے۔ کیجریوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرکے اپیل کی ہے۔ دہلی کے سی ایم نے ٹویٹر پر لکھا، اس بار پورے ملک میں بے مثال گرمی پڑ رہی ہے، جس کی وجہ سے پورے ملک میں پانی اور بجلی کا بحران ہے۔ پچھلے سال دہلی میں بجلی کی سب سے زیادہ مانگ 7438 میگاواٹ تھی۔اس کے مقابلے میں اس سال سب سے زیادہ طلب 8302 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے لیکن اس کے باوجود دہلی میں بجلی کی صورتحال قابو میں ہے، یہاں دیگر ریاستوں کی طرح بجلی کی کٹوتی نہیں ہے۔ کیجریوال نے مزید لکھا، لیکن اتنی شدید گرمی میں پانی کی مانگ بہت بڑھ گئی ہے۔ اور پڑوسی ریاستوں سے جو پانی دہلی کو ملتا تھا وہ بھی کم کر دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ طلب بہت بڑھ گئی اور سپلائی کم ہو گئی۔ ہم سب کو مل کر اس کا حل نکالنا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ بی جے پی کے دوست ہمارے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔میں سب سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں کہ اس وقت سیاست کرنے کے بجائے ہم سب مل کر دہلی کے لوگوں کو راحت فراہم کریں۔ اگر بی جے پی ہریانہ اور یوپی کی اپنی حکومتوں سے بات کرتی ہے اور ایک ماہ تک دہلی کو پانی فراہم کرتی ہے تو دہلی کے لوگ بی جے پی کے اس قدم کی بہت تعریف کریں گے۔ اتنی شدید گرمی کسی کے بس سے باہر ہے۔ لیکن اگر ہم سب مل کر کام کریں تو عوام کو ریلیف فراہم کر سکتے ہیں۔