مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے والوں کو بے نقاب کرنا ضروری : یوگی آدتیہ ناتھ

تاثیر،۲۴       مئی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

لکھنؤ ، 24 مئی:وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے او بی سی مسلم ریزرویشن سے متعلق کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے جمعہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان کا آئین مذہب کی بنیاد پر کسی کو ریزرویشن کی اجازت نہیں دیتا۔
مغربی بنگال کی ٹی ایم سی حکومت نے سیاسی تسکین کے عروج کو عبور کرتے ہوئے 2010 میں 118 مسلم ذاتوں کو زبردستی او بی سی زمرہ میں شامل کرکے یہ ریزرویشن دیا تھا۔ انڈیا اتحاد کی طرف سے ملک کی قیمت پر چلائی جا رہی سیاست کی اس پالیسی کو مسترد کر کے بے نقاب کیا جانا چاہیے۔وزیر اعلیٰ یوگی نے کہا کہ مغربی بنگال کی ممتا حکومت او بی سی کے حقوق کو زبردستی غصب کر رہی ہے۔ اس غیر آئینی اقدام پر ہائی کورٹ نے ٹی ایم سی حکومت کے فیصلے کو پلٹتے ہوئے ایک زوردار طمانچہ دیا ہے۔ یہ اقدام غیر آئینی تھا ، اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر نے دستور ساز اسمبلی میں یہ بات بارہا کہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں اور منڈل کمیشن کے بعد او بی سی کی سماجی اور معاشی پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے لیے ریزرویشن کا انتظام کیا گیا تھا۔ ہندوستان کا آئین مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی کبھی اجازت نہیں دیتا۔ بابا صاحب نے ملک کو بارہا تنبیہ کی تھی کہ ملک کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کیا گیا اور ہمیں ایسی کوئی صورتحال پیدا نہیں کرنی چاہیے جو ملک کو تقسیم کی طرف دھکیلے۔
کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو ایک مثال قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کرناٹک میں بھی کانگریس حکومت نے مسلمانوں کو ریزرویشن دے کر او بی سی کے حقوق پر اسی طرح کی مداخلت کی ہے۔ اس کے علاوہ آندھرا پردیش میں بھی ایسی ہی شرارت کی گئی۔ اس سب کی سختی سے مخالفت ضروری ہے۔ کوئی بھی غیر آئینی عمل ، جو ہندوستان کی تقسیم کی بنیاد رکھتا ہو ، یا جو ہندوستان کو کمزور کرتا ہو، ہر گز قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔