پیپلز کانفرنس اس بار سیاحت اور ترقی کے معاملے پر انتخابی میدان میں : سجاد غنی لون

تاثیر،۱۱       مئی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 11 مئی: علیحدگی پسندی سے منہ موڑ کر مرکزی دھارے کی سیاست میں سرگرم ہوئے پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد گنی لون اس بارہمولہ لوک سبھا سیٹ سے انتخابی میدان میں ہیں۔ ان کا مقابلہ نیشنل کانفرنس (این سی) کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور پی ڈی پی کے فیاض میر سے ہے۔ آرٹیکل 370 کے بعد وادی میں یہ پہلا لوک سبھا الیکشن ہے۔ سجاد لون جیت کا دعویٰ کر رہے ہیں ۔ وہ کشمیر کے لوگوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے مقصد سے انتخابی میدان میں ہیں۔ ہندوستھان سماچار نے انتخابی ریلیوں کے درمیان سجاد گنی لون سے خصوصی بات چیت کی۔

سوال- اس بار وادی میں امن و سکون کے درمیان انتخابات ہو رہے ہیں۔ پیپلز کانفرنس کن ایشوز پر الیکشن لڑ رہی ہے؟

جواب: کشمیر کی ترقی بنیادی مسئلہ ہے۔ ہم کشمیر میں سیاحت کے شعبے کو ترقی دینا چاہتے ہیں۔ اس وقت صرف 10 فیصد سیاحت نے ترقی کی ہے۔ اسے 100 فیصد تک لے جانا ہوگا تاکہ نوجوانوں کو اس کے ذریعے روزگار مل سکے۔ دوسرا مسئلہ کشمیر کی جو شبیہ بنائی گئی ہے، اسے بہتر بنانا ہے۔ لوگ دہشت گردی اور پتھربازی کو لے کر لوگوں کو خدشہ رہتا ہے، اس امیج کو بہتر کر اسے دوبارہ جنت کی طرح بننا ہے ، جہاں ہر کوئی سکون سے رہ سکے۔

سوال- آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد کشمیر میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں؟

جواب – دیکھئے، کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی یہاں کے لوگوں کے لیے ایک غلط فیصلہ تھا۔ کون چاہے گا کہ اسے دیا گیا خصوصی درجہ اس سے چھین لیا جائے۔ اس سے بھی بڑی نا انصافی کشمیر کو یونین ٹیریٹری بنا کر کی گئی۔ لوگ ہمارے پاس آ رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ ملے۔ اگر ہمیں ریاست کا درجہ مل جاتا ہے تو شاید لوگ آرٹیکل 370 کے خاتمے کو بھول جائیں گے۔ لیکن اگر یہاں ترقی کرنی ہے تو ریاست کا درجہ جلد بحال کیا جانا چاہیے۔ ہم اسی مدعے کو لے کر کشمیری عوام کے درمیان ہیں اور انہیں سمجھا رہے ہیں۔

سوال- آپ نیشنل کانفرنس کے عمر عبداللہ کے خلاف الیکشن لڑ رہے ہیں۔ آپ ان سے مقابلہ کرنے کے لیے کس طرح تیار ہیں؟

جواب- 2019 کے بعد کشمیر میں یہ پہلا لوک سبھا الیکشن ہے۔ نیشنل کانفرنس کے لیڈران گزشتہ 40 سالوں سے پارلیمنٹ میں جا رہے ہیں لیکن کشمیر کی عوام کو ہمیشہ مایوس کیا ہے۔ کشمیر کے نوجوان، خواتین، تاجر ، ان کی آوازپارلیمنٹ میں نہیں پہنچا سکے۔ اسی لیے کشمیر ایسا ہو گیا ہے۔ اب نئی ہوا چلی ہے اور اس بار تبدیلی آئے گی اور کشمیر کے عوام کے حقوق کی آواز پارلیمنٹ میں گونجے گی۔

سوال- لوگ پیپلز کانفرنس کو بی جے پی کی بی ٹیم کے طور پر دیکھ رہے ہیں، یہ کس حد تک درست ہے؟

جواب- جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں ،وہ خود بی جے پی سے ملے ہوئے ہیں۔ کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹا دیا گیا۔ اس کے پیچھے بھی باپ- بیٹے کی جوڑی ہے۔ پورے ملک کے لیے یہ فیصلہ درست ہو سکتا ہے، لیکن کشمیری عوام کے لیے نہیں ہے۔