امریکی انٹیلی جنس کاایران پر خفیہ مہم کے ذریعہ ٹرمپ کا راستہ روکنے کا انکشاف

تاثیر۳۰  جولائی ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

واشنگٹن،30جولائی:امریکی انٹیلی جنس کی ایک ذمے دار کے مطابق ایران سوشل میڈیا کے ذریعے ایک “خفیہ مہم” چلا رہا ہے جس کا مقصد امریکی صدارتی انتخابات کے لیے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بطور امیدوار نامزدگی سبوتاڑ کرنا ہے۔نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر ایورل ہینس کے دفتر کی جانب سے پیر کے روز جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ “انٹیلی جنس حکام نے نوٹ کیا ہے کہ تہران صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے کام کر رہا ہے، شاید اس لیے کہ ایرانی قیادت ایسے نتیجے سے گریز چاہتی ہے جو ان کے نزدیک امریکا کے ساتھ کشیدگی بڑھا دے گا۔انٹیلی جنس ڈائریکٹر کے دفتر کے ایک ذمے دار نے پریس ریلیز میں بتایا کہ “اس بات کا انکشاف سوشل میڈیا پر خفیہ اکاؤنٹس کی سرگرمی اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں میں ہوا”۔ ذمے دار کے مطابق ایران کے لیے امریکی صدارتی امیدوار کی ترجیح میں 2020 کے بعد سے کوئی تبدیلی نہیں آئی۔دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کا کہنا ہے کہ “ایران ایسی کسی سرگرمی میں شریک نہیں ہے جس کا مقصد امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونا ہے۔ امریکی نیوز چینل سی این این سے گفتگو میں مشن نے کہا کہ “ان الزامات کا بڑا حصہ وہ نفسیاتی کارروائیاں ہیں جن کا مقصد مصنوعی صورت میں انتخابی مہم کو مضبوط بنانا ہے۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری 2020 میں ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کو ہلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔ ٹرمپ اس جوہری معاہدے سے بھی نکل گئے تھے جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام پر روک لگانا ہے۔گذشتہ ہفتوں کے دوران میں امریکی حکام کو انٹیلی جنس معلومات ملی تھیں کہ ایران ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش تیار کر رہا ہے جس کے نتیجے میں سابق صدر کی سیکورٹی کے حوالے سے سیکرٹ سروس کی خدمات میں اضافہ کر دیا گیا۔ تاہم ایران نے قاتلانہ حملے کی سازش کے دعوے کی تردید کر دی۔امریکی نیوز چینل سی این این کے مطابق ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو کہ پنسلوینیا میں انتخابی ریلی میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کرنے والے تھامس میتھیو کروکس کا ایرانی سازش سے کوئی تعلق تھا۔
اس سے قبل امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر ایورل ہینس یہ بتا چکی ہیں کہ ایران … اسرائیل اور غزہ کے بیچ تنازع سے متعلق امریکا میں احتجاج بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے انٹرنیٹ کے ذریعے دعوت دی جا رہی ہے اور بعض حالات میں احتجاج کرنے والوں کو مالی سپورٹ پیش کی جاتی ہے۔ایورل ہینس کے دفتر نے پیر کے روز جاری بیان میں کہا کہ “تہران گمراہ کن معلومات پھیلانے کے لیے انٹرنیٹ پر وسیع نیٹ ورکوں کا سہارا لے رہا ہے۔ وہ اسرائیل اور غزہ کے بیچ تنازع کے حوالے سے کشیدگی کو ابتر بنانے میں قابل ذکر طور پر متحرک ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ “روس امریکی انتخابات کے لیے مستقل خطرہ رہے گا۔امریکی ذمے داران کے مطابق ماسکو امریکی عوام کے لیے مواد تیار کرنے کے لیے ایسی کمپنیوں کا استعمال کر رہا ہے جن کے صدر دفاتر روس میں ہیں۔ دوسری جانب ماسکو انتخابات پر اثر انداز ہونے کے حوالے سے امریکی دعوؤں کی تردید کر رہا ہے۔انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق چین غالبا صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہا ہے تاہم امریکی انٹیلی جنس اس امکان پر نظر رکھ رہی ہے کہ چین سے منسلک بعض با اثر افراد کم مقبول صدارتی امیدواروں کی ساکھ خراب کر رہے ہیں۔چینی صدر شی جن پنگ نے سابقہ ملاقات میں امریکی صدر جو بائیڈن کو آگاہ کر دیا تھا کہ چین انتخابات میں مداخلت نہیں کرے گا۔