علم و حکمت کے بغیر کامیابی ناممکن: مولانا مستقیم اسحاقی

تاثیر  28  اکتوبر ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

مظفرپور:28/ اکتوبر(نمائندہ)شریف سیوائی پٹی مظفر پور میں محبوب المشائخ پیر طریقت نور بزم تیغیت صوفی باصفا حضرت الحاج الشاہ محمد اسحاق تیغی قادری براہمی  علیہ الرحمہ کا  پانچواں سالانہ عرس کا انعقاد کیا گیا جس کی سرپرستی و صدارت  پیر طریقت رہبر شریعت ترجمان تیغیت شہزادئے اسحاق ملت حضرت حافظ و قاری محمد مستقیم حسین اسحاقی تیغی سجادہ نشیں خانقاہ اسحاقیہ تیغیہ ہرہیاں شریف سیوائی پٹی مظفر پور نے فرمائی جلسے میں ہندوستان کے مشہور و معروف علمائے کرام و شعراء اسلام کی آمد ہوئی۔ عرس اسحاق ملت کے موقع سے خانقاہ اسحاقیہ کے سجادہ نشیں پیر طریقت نے کہا کہ علم و حکمت کے بغیر ہم کسی بھی محاذ پر کامیاب نہیں ہو سکتے ہیں۔ حصول تعلیم ہمارا بنیادی حق ہے۔ سرکار مدینہ نے حصول تعلیم کو فرض قرار دیا ہے۔ دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی کے لیے علم کی تحصیل نہایت ضروری ہے۔ سیکھنے سکھانے کا سلسلہ ماں کی گود سے لے کر گور تک چلتا ہے۔ علم کے حصول کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔ لیکن بہتر انسان وہ ہے جو خود سیکھے اور دوسروں کو سکھائے اور دوسروں کو فائدہ پہنچائے اس لیے حدیث پاک میں علم نافع کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اور پھر خطیب ذیشان حضرت قاری روح الامین صاحب قبلہ جبل پور ایم پی نے بھی خطاب کیا اور کہا۔ وقت کا تقاضا ہے کے ہم اپنے گھر کے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کریں جب ہمارا گھر تعلیم یافتہ ہوگا تو پھر ہمارا معاشرہ بھی خوشگوار ہوگا  انہوں نے مزید کہا کہ جہاں ہم اپنے بچوں کو دنیا کی تعلیم دیں وہیں دین کی بھی تعلیم دیں جب ہمارے بچے دین و دنیا کی تعلیم حاصل کریں گے تو وہ دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی کامیاب ہوں گے۔ اور مفکر اسلام جانشین سبحان ملت حضرت مولانا سلطان رضا ممبئی نے بھی خطاب کیا اور کہا سلسلۂ تیغیہ کے سچے ترجمان تھے اسحاق ملت پوری زندگی انہوں نے سرکار تیغ علی کے مشن کو فروغ دیا۔ شاعر اسلام شہنشاہ ترنم جناب اسد اقبال کلکتوی نے نعت و منقبت کے ایسے اشعار پڑھیں کہ  محفل میں ایک الگ کیفیت طاری ہو گئی اور شاعر انقلاب توقیر ملت جناب توقیر الہ آبادی نے بھی اپنی شاعری کا جوہر دیکھاتے ہوئے جب یہ شعر پڑھا کہ۔ اختر حسین نے ہے کچھ اس طرح پچھاڑا۔ ڈپلومہ والا ان سے حیران آج بھی ہے۔ تو اسٹیج اور مجمع سے خوب  نوازے گئے  نقیب آعظم ہندوستان حضرت ضمیر الدین زمزم کلکتوی و رستم علی قادری مظفر پور نے نظامت کی  شاعر اسلام نازش مظفرپوری نے  منقبت کے اشعار پیش کیا اور ہمدم بھاگلپوری مولانا معراج القادری  مولانا جمشید عالم نظامی مولانا نوشاد القادری نظامی حافظ توصیف رضا صاحب توقیر صاحب  قاری تنویر تیغی مولانا عبد المجید صاحب مولانا توصیف صاحب حافظ افروز صاحب حافظ فیروز صاحب مولانا عرفان اسماعیلی کے علاوہ درجنوں علماء کرام نے شرکت کی۔