تاثیر ۶ اکتوبر ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
باران نگر،60 اکتوبر(اے یوایس) راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے مختلف پروگراموں میں تقریریں کیں اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہندو سماج کو ایک خاص پیغام دیا ہے۔ بھاگوت نے کہا کہ اگر ہم محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں زبان، ذات پات اور علاقے کی بنیاد پر اختلافات اور تنازعات کو ختم کرکے متحد ہونا پڑے گا۔باران نگر کی کرشی اپاج منڈی میں آر ایس ایس کے رضاکاروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ نظم و ضبط، ریاست کے تئیں فرض اور مقصد پر مبنی ہونے کی خصوصیات سماج میں ضروری ہیں۔ ہمیں اس کے ساتھ متحد ہونا ہوگا، تب ہی ہم محفوظ رہ سکتے ہیں۔جب کہ ایک دوسرے پروگرام میں اس سے پہلے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہاتھا کہ خواتین وہ تمام کام کر سکتی ہیں جو مرد کر سکتے ہیں۔ یہ بھی کہا کہ عورتیں وہ کام کر سکتی ہیں جو مرد نہیں کر سکتے۔ بھاگوت نے خواتین کی کثیر ریاستی کوآپریٹو سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک تقریب میں ”خواتین کی آزادی” کی اصطلاح کے استعمال پر بھی بات کی تھی۔انہوں نے کہا، ’’خواتین کی آزادی‘‘ کی زبان غلط معلوم ہوتی ہے۔ اگر خواتین کو آزادی دی جائے کہ وہ جو چاہیں کریں تو سب خود بخود آزاد ہو جائیں گے۔ ایک الگ تقریر میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے کولکتہ کے آر جی کار میڈیکل کالج اور اسپتال میں ایک خاتون ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کے معاملے میں کہا کہ ایسے معاملات میں مجرموں کو سخت سزا دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

