تاثیر ۴ اکتوبر ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
ہریانہ اور جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات کے نتائج 8 اکتوبر کو آنے والے ہیں۔ اس کے بعد مہاراشٹر اور جھارکھنڈ میں اسمبلی انتخابات ہوں گے۔ نومبر میں ان دونوں ریاستوں میں انتخابات متوقع ہیں۔ مہاراشٹر میں دو مرحلوں میں ووٹنگ ہوگی۔ جھارکھنڈ اور مہاراشٹر میں این ڈی اے اور انڈیا الائنس کی سیاسی جماعتوں نے انتخابی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ ابھی سیٹوں کی تقسیم پر بات ہو رہی ہے۔ جہاں بی جے پی نے اپنے انچارجوں کی تقرری کی ہے وہیں اپوزیشن پارٹیاں اپنے اتحاد کو مضبوط کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔ان دونوں ریاستوںمیں انتخابات کرانے کے لیے الیکشن کمیشن نے بھی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے مہاراشٹر کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی سے اسمبلی انتخابات سے قبل افسران کے تبادلے کے سلسلے میں دیے گئے حکم کی عدم تعمیل پر جواب طلب کیا ہے۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن نے جھارکھنڈ کا بھی دورہ مکمل کر لیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ مہاراشٹر اورجھارکھنڈ اسمبلی انتخابات 2024 کا اعلان جلد ہی کیا جانے والا ہے۔حالانکہ زیادہ تر سیاسی پارٹیاں یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ تہواروں کے موسم کے مدنظر دونوں ریاستوں میں ایک ہی مرحلے میں انتخابات کرائے جائیں۔ حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن کو ہی کرنا ہے۔
اِدھر بی جے پی نے جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات 2024 کے لیے اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے۔ اسمبلی انتخابات میں سیٹوں کی تقسیم کو لے کر پچھلے ہفتے دہلی میں ایک اہم میٹنگ ہوئی تھی۔ بی جے پی جھارکھنڈ میں آل جھارکھنڈ اسٹوڈنٹس یونین( اےجے ایس یو) اور جے ڈی یو کے ساتھ تال میل کرنے جا رہی ہے۔ سیٹوں کی تعداد اور کون کس سیٹ پر الیکشن لڑے گا اس پر بات چیت جاری ہے۔ اے جے ایس یو نے الیکشن لڑنے کے لیے11 سے 12 سیٹیں مانگی ہیں۔ وہیں جے ڈی یو 4 سے 5 سیٹوں پر الیکشن لڑنا چاہتی ہے۔ بی جے پی جھارکھنڈ میں جیتن رام مانجھی اور چراغ پاسوان سے بھی ہاتھ ملا سکتی ہے۔ اگر اتحاد ہوتا ہے تو بی جے پی مانجھی اور چراغ کی پارٹی کو بھی کچھ سیٹیں دے سکتی ہے۔ انڈیا الائنس سے وابستہ جماعتیں بھی جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کے لیے سیٹوں کی تقسیم پر مسلسل گفت و شنیدکر رہی ہیں۔ انتخابات جیتنے کے لیے کانگریس نے ایک خاص حکمت مرتب کی ہے۔اس کے تحت پارٹی کارکنان ریاستی حکومت میں شروع کی گئی عوامی بہبود اور فلیگ شپ اسکیموں کو عام کرنے میں جٹے ہو ئے ہیں۔ اس کے لیے پچھلے ہفتے رانچی میں ایک بہت بڑی ورکرز کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔اس میں حکومت کی اسکیموں کے بارے میں معلومات کے ساتھ ساتھ حکومت کی کامیابیوں کی دستاویزات بھی عام کی گئی تھیں۔ تاکہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں سرکاری اسکیموں کے بارے میں لوگوں کو معلومات فراہم کرسکیں۔کانگریس کے ریاستی صدر کیشو مہتو کملیش کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ جھارکھنڈ کے عوام کے لیے وقف ،انتخابی منشور کی تیاری، رائے شماری کی بنیاد پر اسمبلی انتخابات میں ہر سیٹ پر جیتنے والے امیدوار کے انتخاب کا شفاف عمل اپنایا جائے گا۔اس کے ساتھ پارٹی تمام اسمبلی حلقوں کے مقامی مدعوں کو بھی اپنی ترجیحات میں رکھے گی۔
واضح ہو کہ جھارکھنڈ اسمبلی میں کل 81 سیٹیں ہیں۔ اس کی میعاد 4 جنوری، 2025 کو ختم ہو رہی ہے۔ فی الحال جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کی مخلوط حکومت ہے۔ کانگریس، راشٹریہ جنتا دل اور سی پی آئی (ایم ایل) اس اتحاد میں شامل ہیں۔ جے ایم ایم نے 2019 کے انتخابات میں 29 سیٹیں جیتی تھیں۔ آر جے ڈی نے ایک سیٹ حاصل کی تھی۔ کانگریس نے 17 سیٹیں جیتی تھیں۔ جبکہ سی پی آئی (ایم ایل) کو صرف ایک سیٹ ملی۔ دوسری طرف، بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے اتحاد نے 32 سیٹیں جیتی تھیں۔ بی جے پی نے 26، این سی پی (اے پی) نے 1، اے جے ایس یو نے 3 سیٹیں جیتی تھیں۔ 2 آزاد ایم ایل اے کی حمایت بھی این ڈی اے کو حاصل ہے۔
ہیمنت سورین کے جیل جانے اور چمپئی سورین کے سی ایم بنائے جانے کے بعد جے ایم ایم میں بغاوت کی آوازیں اٹھ رہی تھیں۔ پھر ہیمنت سورین کی بھابھی سیتا سورین پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوگئیں۔ سیتا سورین ،شیبو سورین کے فوت شدہ بیٹے درگا سورین کی بیوی ہیں۔ پھر جب ہیمنت سورین ضمانت پر جیل سے باہر آئے اور دوبارہ سی ایم بنے تو چمپئی سورین نے بھی بغاوت کا بگل بجا دیا تھا۔ بعد میں وہ بی جے پی میں بھی شامل ہو گئے۔ پچھلے لوک سبھا انتخابات میں ،جھارکھنڈ کی 14 سیٹوں میں سے بی جے پی نے 8 سیٹیں جیتیں۔ اے جے ایس یو کو ایک سیٹ ملی ۔جب کہ انڈیا الائنس کی کانگریس نے 2 نشستیں حاصل کیں۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے 3 سیٹیں جیتی تھیں۔
کیا جھارکھنڈ میں صرف ایک مرحلے میں انتخابات ہو سکتے ہیں؟ اس سوال کے الگ الگ جواب ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جھارکھنڈ میں ایک مرحلے میں انتخابات کرانا ممکن نہیں ہے۔ بے شک حکومت کا دعویٰ ہے کہ ریاست سے نکسل ازم ختم ہو گیا ہے۔ لیکن یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ نکسلی آج بھی کہیں نہ کہیں ایسے واقعات کو انجام دیتے ہی رہتے ہیں۔ چونکہ جھارکھنڈ ایک پہاڑی علاقہ ہے اس لیے کم از کم2مرحلوں میں انتخابات ہو سکتے ہیں۔اسی دوران یہ بھی قیاس آرائی ہو رہی ہے کہ ریاست کے اسمبلی انتخابات 2024 کی تاریخوں کا اعلان 8 اکتوبر کے بعد ہو سکتا ہے۔ یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ ریاست میں 15 نومبر کے بعد ووٹنگ ہو سکتی ہے اور نومبر کے تیسرے ہفتے تک نتائج آنے کا امکان ہے۔ویسے جھارکھنڈ کے عوام کو امید ہے کہ انتخابات تو اپنے وقت پر ہونگے ہی ، مگر الیکشن کمیشن صاف ستھرا اور بد عنوانی سے پاک انتخابی عمل کو یقینی بنا نے میں کوئی کور کسر باقی نہیں چھوڑے گا۔

