تاثیر 28 اپریل ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ 1960 کو معطل کرنے کا فیصلہ، جو22 اپریل 2025کو پہلگام حملے کے بعد کیا گیا، خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی اور سیکورٹی کی صورتحال میں ایک جائز اور ناگزیر قدم ہے۔مانا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ، جو عالمی بینک کی ثالثی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے لئے طے پایا تھا، اب بھارت کے قومی مفادات اور سلامتی کے تقاضوں کے مطابق نہیں رہا۔ پہلگام میں28 معصوم افراد کی ہلاکت نے بھارت کو مجبور کیا کہ وہ پاکستان کی سرحد پار دہشت گردی کی مبینہ حمایت کے جواب میں سخت اقدامات کرے۔ سندھ طاس معاہدے کی معطلی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس فیصلے پر واویلا اور عالمی فورمز پر شکایات خطے کے امن کے لئے قطعی مناسب نہیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں سے باز آئے گا، یا بھارت کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مزید سخت فیصلے لینا ہوں گے؟
بھارت ایک تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معاشی طاقت ہے، جس کی آبادی اور توانائی کی ضروریات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت، بھارت کو مشرقی دریاؤں (راوی، ویاس اور ستلج) پر مکمل اختیار دیا گیا، جبکہ مغربی دریا (سندھ، جھیلم اور چناب) پاکستان کے حصے میں آئے۔ تاہم، یہ معاہدہ 60 سال قبل کے حالات کے مطابق طے کیا گیا تھا، جب بھارت کی معاشی اور آبی ضروریات آج کے مقابلے میں کہیں کم تھیں۔ آج، بھارت کو اپنی زرعی، شہری اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ پانی اور ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کی ضرورت ہے۔ کشمیر میں کشن گنگا اور رتلے جیسے منصوبے، جو’’رن آف دی ریور‘‘ اصول پر مبنی ہیں، معاہدے کی روح کے مطابق ہیں اور پانی کے بہاؤ کو نہیں روکتے۔ پاکستان کی جانب سے ان منصوبوں پر بے جا اعتراضات اور عالمی بینک میں شکایات درج کروانا محض سیاسی دباؤ کی کوشش ہے، جو بھارت کے جائز حقوق کو چیلنج کرتی ہے۔
پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس کی زرعی معیشت، جو 2023کے اعداد و شمار کے مطابق اس کی جی ڈی پی کا 24 فیصد ہے، دریائے سندھ پر منحصر ہے۔ تاہم، پاکستان کی معاشی مشکلات کا ذمہ دار بھارت کو ٹھہرانا سراسر ناانصافی ہے۔ پاکستان کی ناقص واٹر مینجمنٹ، پانی کے ضیاع اور زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے فقدان جیسے مسائل اس کی اپنی ناکامیوں کا نتیجہ ہیں۔ بھارت، جو خود زرعی اور شہری ضروریات کے لئے پانی پر انحصار کرتا ہے، اپنے حصے کے پانی کو مؤثر طریقے سے استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھارت کے اقدامات کو’’آبی جارحیت‘‘ کا نام دینا اور ایٹمی دھمکیوں جیسے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینا خطے کے استحکام کے لیے خطرناک ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت کا معاہدے کی معطلی کا فیصلہ پاکستان کو پانی کی فراہمی یکایک روکنے کے مترادف نہیں ہے، کیونکہ بھارت کے پاس فی الحال مغربی دریاؤں کا پانی روکنے کے لئے بڑے پیمانے پر ذخائر بنانے کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔ بھارت زیادہ سے زیادہ پانی کے بہاؤ میں 5 سے 10 فیصد کمی کر سکتا ہے، جو پاکستان کے واویلا سے کہیں کم ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے اور اسے دہشت گردی کی حمایت ترک کرنے پر مجبور کرنے کی حکمت عملی ہے، جیسا کہ بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے واضح کیا کہ معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا، جب تک پاکستان سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کے خاتمے کے ناقابل تردید ثبوت فراہم نہیں کرتا۔
بھارت کا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں، بلکہ اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کا جائز حق ہے۔ سندھ طاس معاہدہ ایک پرانا ڈھانچہ ہے، جو آج کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ بھارت نے ہمیشہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی خواہش ظاہر کی ہے، لیکن پاکستان کی ہٹ دھرمی اور دہشت گردی کی مبینہ سرپرستی نے بھارت کو سخت فیصلے لینے پر مجبور کیا ہے۔ عالمی بینک، جو معاہدے کا ضامن ہے، کو چاہئے کہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈالے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے، نہ کہ بھارت کے جائز اقدامات پر سوال اٹھائے۔پاکستان کو چاہئے کہ وہ اپنی داخلی ناکامیوں پر توجہ دے اور پانی کے تحفظ، زرعی اصلاحات اور توانائی کے متبادل ذرائع پر کام کرے۔ بھارت کے خلاف واویلا مچانے کے بجائے، پاکستان کو سفارتی مذاکرات کے ذریعے ایک حقیقت پسندانہ حل تلاش کرناچاہئے۔ بھارت نے واضح کر دیا ہے کہ معاہدے کی بحالی پاکستان کے تعاون پر منحصر ہے۔
بہر کیف، سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھارت کا اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لئے ایک جرات مندانہ اور ضروری فیصلہ ہے۔ پاکستان کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیاں اور بے جا واویلا خطے کے امن کے لئے خطرہ ہے۔ بھارت کو اپنی معاشی ترقی اور قومی سلامتی کو ترجیح دیتے ہوئے اپنے وسائل کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدام کرنا چاہئے۔ عالمی برادری کو بھارت کے موقف کی حمایت کرنا چاہئے اور پاکستان پر زور دیناچاہئے کہ وہ اپنی جارحانہ پالیسیوں سے باز آئے۔بلا شبہ پانی کو ترقی کا ذریعہ ہوناچاہئے اور بھارت اسے خطے کی خوشحالی کے لئے استعمال کرنے کا خواہشمند بھی ہے، بشرطیکہ پاکستان خاطرخواہ تعاون کرے۔
****************

