بہار کی سیاست میں اقربا پروری کا ہنگامہ

تاثیر 16 جون ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بہار کی سیاسی زمین پر اس وقت ایک نیا ہنگامہ برپا ہے۔ یہ ہنگامہ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے بڑے لیڈروں کے دامادوں کو مختلف نو تشکیل شدہ کمیشنوں اور بورڈز میں اہم عہدوں پر تعینات کرنے کے گرد گھوم رہا ہے۔ یہ تعیناتیاں، جو حالیہ دنوں میں منظر عام پر آئیں، نہ صرف سیاسی بحث کا مرکز بن گئی ہیں بلکہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت والی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی کھڑا کر رہی ہیں۔ اپوزیشن، خاص طور پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنما تیجسوی یادو، نے اس معاملے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے نتیش حکومت پر اقربا پروری کے الزامات عائد کیے ہیں۔ تیجسوی کے طنزیہ تبصرے، جس میں انہوں نے ’جمائی آیوگ‘‘ کے قیام کی تجویز پیش کی ہے،نے اس تنازع کو مزید ہوا دےدی ہے۔ دوسری جانب، اقتدار میں موجود این ڈی اے نے ان تعیناتیوں کا دفاع کرتے ہوئے انہیں سیاسی حکمت عملی اور قابلیت کی بنیاد پر درست قرار دیا ہے۔
حال ہی میں نتیش کمار کی حکومت نے کئی بورڈوں اور کمیشنوں کی تشکیل نو کی ہے۔اس کے نتیجے میں کئی ایسی نامزدگیاں سامنے آئیں جو سیاسی حلقوں میں ہلچل کا باعث بن گئی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں نام آنجہانی رام ولاس پاسوان کے داماد اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان کے بہنوئی دھنجے عرف مرنال پاسوان کا ہے، جنہیں بہار ریاستی انوسوچت جاتی (ایس سی) کمیشن کا چیئرمین بنایا گیا ہے۔ اسی کمیشن میں مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی کے داماد دیویندر مانجھی کو نائب صدر کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس کے علاوہ، جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے سینئر لیڈر اور ریاستی وزیر اشوک چودھری کے داماد ساین کنال، جو بی جے پی کے قریب سمجھے جاتے ہیں، کو بہار ریاستی دھارمک نیاس بورڈ کا رکن نامزد کیا گیا ہے۔ یہ بورڈ، جو 4800 سے زائد مندروں اور مٹھوں کی املاک کی نگرانی کرتا ہے، ایک اہم ادارہ ہے۔ اس میں تعیناتی سیاسی اثر و رسوخ کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ ان تعیناتیوں نے ہی اپوزیشن کو حملہ آور ہونے کا موقع فراہم کیا ہے بلکہ این ڈی اے کے اندرونی اتحاد پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
تیجسوی یادو نے ان تعیناتیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے نتیش کمار پر طنز کیا کہ وہ ایک ’جمائی آیوگ‘ تشکیل دیں تاکہ تمام دامادوں کو ’ایڈجسٹ‘ کیا جا سکے۔ ان کے اس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ہلچل مچائی بلکہ بہار کی سیاسی فضا کو بھی گرم کر دیا۔ تیجسوی کا الزام ہے کہ نتیش حکومت اقربا پروری کو فروغ دے رہی ہے اور عوامی مفادات کے بجائے اپنے اتحادی لیڈروں کے رشتہ داروں کو نواز رہی ہے۔ تیجسوی یادو نے الزام عائد کیا ہے کہ ریاستی ویمن کمیشن میں ایک سبکدوش آئی اے ایس کے اہلیہ کو ایڈ جسٹ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ برسوں کی سینئریٹی کونظر انداز کر کے جے ڈی یو کے ایک لیڈر کی، حال ہی میں وکالت پاس دو بیٹیوں کو سپریم کورٹ کے وکیلوں کے پینل میں رکھا گیا ہے۔ یہ تنقید اس تناظر میں اور بھی اہم ہو جاتی ہے کہ بہار میں 2025 کے اسمبلی انتخابات قریب ہیں اور اپوزیشن اس معاملے کو عوام تک لے جا کر این ڈی اے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تیجسوی کے حملوں کا جواب دیتے ہوئے، اشوک چودھری نے اپنے داماد کی تعیناتی کا دفاع کیا اور کہا کہ ساین کنال کی نامزدگی جے ڈی یو کے کوٹے سے نہیں بلکہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے کوٹے سے ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ساین کنال کو ان کے والد، مرحوم آچاریہ کشور کنال کی سماجی خدمات کے اعتراف میں یہ عہدہ دیا گیا، نہ کہ ان کے داماد ہونے کی حیثیت سے۔
دوسری جانب این ڈی اے کی جانب سے ان تعیناتیوں کو سیاسی حکمت عملی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ نتیش کمار، جو سیاست کے ’چانکیہ‘ کے طور پر مشہور ہیں، ممکنہ طور پر ان تعیناتیوں کے ذریعے اتحادی جماعتوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چراغ پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) اور جیتن رام مانجھی کی ہندوستانی عوام مورچہ، دونوں ہی این ڈی اے کے اہم اتحادی ہیں، اور ان کے رشتہ داروں کو اہم عہدوں پر تعینات کر کے نتیش کمارنے ان کی وفاداری کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم، اس حکمت عملی نے اپوزیشن کو ایک بڑا ہتھیار فراہم کر دیا ہے، جو اسے انتخابی مہم میں خاندانی سیاست کے خلاف ایک بیانیہ بنانے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔
اس تنازع نے بہار کی سیاست میں کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ کیا یہ تعیناتیاں واقعی قابلیت پر مبنی ہیں، یا یہ محض سیاسی مصلحت کا نتیجہ ہیں؟ کیا نتیش کمار اس تنقید کو عوامی رائے میں اپنے حق میں موڑ سکیں گے، یا یہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا؟ مزید یہ کہ، کیا اپوزیشن اس معاملے کو عوام کے درمیان ایک بڑے انتخابی ایشو کے طور پر پیش کر پائے گی؟ فی الحال، یہ واضح ہے کہ بہار کی سیاسی لڑائی اب صرف ترقی اور گورننس کے ایشوز تک محدود نہیں رہی بلکہ خاندانی سیاست اور اقربا پروری کے الزامات اسے ایک نیا رخ دے رہے ہیں۔ جیسے جیسے انتخابات قریب آ رہے ہیں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ تنازع کس طرح این ڈی اے اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی داؤ پیچ کو متاثر کرتا ہے۔
*********