اسرائیل غزہ میں امداد پہنچانے کا مرکزی ذریعہ بننے کا خواہاں: اقوام متحدہ

تاثیر 12 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

ویانا،12جولائی:عالمی خوراک پروگرام کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل سکاؤ نے جمعہ کے روز بتایا کہ اسرائیلی حکام نے ان سے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ ہی غزہ کی پٹی میں امداد پہنچانے کا مرکزی ذریعہ بنی رہے۔سکاؤ نے گزشتہ ہفتے غزہ اور اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ انھوں نے جمعہ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن” (جس پر تنازع جاری ہے) کی سرگرمیوں پر بات نہیں ہوئی۔سکاؤ نے اْن اسرائیلی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جن سے وہ ملاقات کر چکے تھے “وہ چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ امداد پہنچانے کی مرکزی جماعت بنی رہے، خاص طور پر اگر جنگ بندی طے پا جائے۔ انھوں نے ہم سے کہا کہ ہم امدادی کام کو وسعت دینے کے لیے تیار رہیں”۔
واضح رہے کہ امریکہ، مصر اور قطر غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں۔ حماس نے بدھ کے روز کہا تھا کہ امداد کی روانی ان نکات میں سے ہے جن پر اختلاف باقی ہے۔اسرائیل اور امریکہ نے کھلے عام اقوام متحدہ پر زور دیا تھا کہ وہ امداد کی ترسیل کے لیے نئی ’’غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن‘‘ کے ذریعے کام کرے، لیکن اقوام متحدہ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔