بہار میں سیاسی دھوپ چھاؤں کا کھیل

تاثیر 23 جولائی ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

 الیکشن کمیشن کے ذریعہ بہار میں 25 جون سے جاری ووٹر لسٹ کے خصوصی عمیق رویزن (ایس آئی آر)  سے جو سیاسی طوفان اٹھا ہے وہ اندر ہی اندر زور پکڑتا جا رہا ہے۔ یہ عمل، جو بظاہر ووٹروں کی فہرست کو درست اور اپ ڈیٹ کرنے کی کوشش ہے، اپوزیشن کےلئے ایک ’’خفیہ ایجنڈا‘‘ بن چکا ہے۔اپوزیشن اسے شہریت کی جانچ کا ایک غیر اعلانیہ ہتھکنڈہ قرار دے رہی ہے۔ جیسے جیسے بہار اسمبلی انتخابات کے دن قریب آرہے ہیں، یہ تنازع سیاسی دھوپ چھاؤں کا ایک نیا کھیل بنتا جا رہا ہے۔ ہر فریق اپنے مفادات کےلئے شہ مات کی چال چلنے میں مصروف ہے۔
الیکشن کمیشن نے اپنے 88 صفحات پر مشتمل ایک حلف نامے میں سپریم کورٹ کو یقین دلایا کہ ایس آئی آرکے تحت کسی شخص کی شہریت صرف اس بنیاد پر ختم نہیں کی جائے گی کہ اسے ووٹر لسٹ میں رجسٹریشن کے لئے نااہل قرار دیا گیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اسے آئین کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ شہریت سے متعلق دستاویزات طلب کر سکے تاکہ ووٹنگ کا حق یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم، اپوزیشن کا الزام ہے کہ یہ عمل دراصل شہریت کی جانچ کا ایک غیر اعلانیہ طریقہ ہے، جو بہار کے کروڑوں ووٹروں کے حقوق کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
24 جون، 2025 کو جاری ایک نوٹیفکیشن کے تحت، الیکشن کمیشن نے بہار کے تقریباً 8 کروڑ ووٹروں کو 25 جولائی تک        ’’امیونریشن فارم‘‘ جمع کرانے کی ہدایت دی تھی۔ اس عمل کے اگلے مرحلے کے طور پر یکم اگست کو ایک ڈرافٹ ووٹر لسٹ شائع کی جائے گی۔اس میں صرف انھی افراد کے نام شامل ہوں گے، جنھوں نے آن لائن یا بی ایل او ز کے توسط سے فارم جمع کیا ہے۔ خواہ انھوں نے مطلوبہ دستاویزات پیش کیے ہوں یا نہیں۔ اس عمل نے ریاستی سطح پرسیاسی تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، اس جائزے سے 52.3 لاکھ ایسے  ووٹروں کی شناخت کی گئی ہے، جن میں سے 18 لاکھ کی موت ہو چکی ہے، 26 لاکھ دوسرے علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں، اور7 لاکھ نے دو مقامات پر اپنا نام  رجسٹر کرایا ہے۔ مزید 21.36 لاکھ ووٹروں کی معلومات ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ بھارت کا آئین (آرٹیکل 324-329) منصفانہ اور شفاف انتخابات کے لئے ایک جامع ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 326 ہر 18 سال سے زائد عمر کے شہری کو ووٹنگ کا حق دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 325 مذہب، نسل، ذات یا جنس کی بنیاد پر ووٹر لسٹ سے نام کے اخراج پر پابندی لگاتا ہے۔ تاہم، الیکشن کمیشن کی جانب سے طلب کردہ 11 دستاویزات میں آدھار کارڈ، ووٹر کارڈ، یا راشن کارڈ شامل نہیں ہیں۔اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ عمل واقعی ووٹر لسٹ کو اپ ڈیٹ کرنے کے لئے ہے، یا اس کا کوئی اور مقصد ہے؟
سپریم کورٹ نے 10 جولائی کو ایس آئی آر کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سماعت کی اور اس عمل پر پابندی لگانے سے انکار کر دیا۔مگر آدھار، ووٹر آئی ڈی اور راشن کارڈ کو ان دستاویزات کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز دی۔ الیکشن کمیشن نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آدھار شہریت کا ثبوت نہیں ہے، جیسا کہ متعدد ہائی کورٹس بھی تسلیم کر چکی ہیں۔ آئین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کا حق ایک آئینی حق ہے، لیکن اس کے لئے مخصوص شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ شرائط پوری نہ ہوں تو یہ حق از خود حاصل نہیں ہو جاتا۔
اپوزیشن کی تشویش اس بات پر مرکوز ہے کہ ایس آئی آرکے ذریعے لاکھوں ووٹروں کے نام و ووٹر لسٹ سے ہٹائے جا سکتے ہیں۔اس کی وجہ سے بہار اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ کے تانے بانے ٹوٹ سکتے ہیں۔حالانکہ الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ یکم اگست سے یکم ستمبر تک ووٹر لسٹ میں ترامیم کےلئے شکایات درج کرائی جا سکتی ہیں۔ حتمی فہرست 30 ستمبر کو شائع ہوگی۔ اس دوران، تقریباً ایک لاکھ بوتھ لیول افسران(بی ایل اوز) ، 4 لاکھ رضاکار، اور 12 سیاسی جماعتوں کے 1.5 لاکھ ایجنٹس مل کر اُن ووٹروں کی تلاش کر رہے ہیں، جو ابھی تک رابطے میں نہیں آسکے ہیں۔ویسے مجموعی طور پر یہ تنازعہ ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایس آئی آر واقعی ووٹر لسٹ کی درستگی کے لئے ہے، یا اس کے پیچھے کوئی گہرا سیاسی مقصد بھی پوشیدہ ہے؟  الیکشن کمیشن کی شفافیت اور اپوزیشن کے خدشات کے درمیان توازن قائم کرنا ہی در اصل ایس آئی آر کی کامیابی ہے۔اب سب کی نظریں 28 جولائی کو سپریم کورٹ میں ہونے والی  اگلی سماعت پر مرکوز ہیں۔ فی الحال، بہار کی سیاسی فضا میں جو ہلچل ہے، اسے سبھی محسوس کر رہے ہیں۔یہ ہلچل در اصل جمہوری اقدار کے تحفظ ، انتخابی عمل کی شفافیت اور انصاف کے تقاضوں کے تئیں عوامی بیداری کا پیش خیمہ ہے۔