شفیع مسلم ہائی اسکول لہریا سرائے کی انتظامیہ میں تبدیلی ضروری: نظرعالم

تاثیر 12 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

اہل علم اساتذہ کی بجائے پیسے لیکر غیرمسلم اساتذہ بحال کرنے کا شاخسانہ
دربھنگہ(فضاامام): آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے صدرنظرعالم نے کہا ہے کہ ہمارے اسلاف نے بڑی قربانیاں دے کر تعلیمی ادارے قائم کئے تاکہ ملت کو اس کے فوائد حاصل ہوں، لیکن بعد کی نسلوں نے اسے ترقی دینے کی بجائے تجارت بنالیا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہویا دربھنگہ کا شفیع مسلم ہائی اسکول ہر جگہ ملت کے ساتھ دھوکہ ہورہا ہے۔ شفیع مسلم ہائی اسکول کی بنیاد بیرسٹر محمدشفیع صاحب نے 1932ء میں رکھی۔ اس کے ہزاروں فارغین ملک و بیرون ملک ہرمیدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔ یہ ایک اقلیتی ادارہ ہے اور اسی کے تحت چلتا ہے اور اسی لئے مسلم اساتذہ کی تقرری ہوتی رہی ہے۔لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے اسکول کی مینیجنگ کمیٹی نے پیسے لیکر غیرمسلم اساتذہ کی تقرری شروع کردی ہے اور باصلاحیت مسلم امیدواروں کو نظرانداز کررہی ہے۔ اس سلسلہ میں جب کمیٹی سے پوچھا جاتا ہے یا مراسلہ کے ذریعہ اساتذہ کی تفصیل مانگی جاتی ہے تو کمیٹی اس کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھتی۔ حالیہ دنوں میں جتنے اساتذہ بحال کئے گئے ہیں ان میں زیادہ ترغیرمسلم ہیں اور موٹی رقم لیکر ان کی بحالی عمل میں آئی ہے۔اگر اقلیتی ادارہ سے اقلیت کے افراد کو فائدہ نہ ملے تو پھر ایسے اداروں کی کیا ضرورت ہے،کیا اقلیت میں باصلاحیت اساتذہ کی کمی ہے؟ نظرعالم نے کہا کہ کمیٹی اسکول کو ذاتی ملکیت سمجھتی ہے اور یہ لوگ اساتذہ کے تقرری میں تین لاکھ سے دس لاکھ تک کی موٹی رقم وصول کرتے ہیں اور چونکہ غیرمسلم اس معیار پر پورے اترتے ہیں اس لئے انہیں ہی بحال کیا جاتا ہے۔ اگر مسلم اسکول کو اسی طرح مسلم اساتذہ سے پاک کیا جاتا رہا تو اس کے نام میں مسلم شامل کرنا بیکار ہے۔کارواں کے صدرنے کہا کہ لگاتار کمیٹی کی شکایتیں مل رہی ہیں۔ جب ہمارے لوگوں نے اس سلسلہ میں کمیٹی سے سوال کیا تو کوئی جواب نہیں ملا۔ نظرعالم نے سوال کیا ہے کہ کمیٹی کی میعاد کیا ہوتی ہے، کیا جو ایک بار صدر یا سکریٹری بن گیا وہ تاحیات برقرار رہے گا۔ آخر کس ضابطہ کے تحت جو شخص ایک بار عہدہ حاصل کرلیتا ہے وہ تاحیات برقرار رہ کر من مانی کرتا ہے اور اقلیتی طبقہ کے حقوق سے کھلواڑ کرتا ہے۔نظرعالم نے کہا کہ اگر موجودہ صدر اور سکریٹری نے اس معاملہ پر توجہ نہیں دی اور یہ گھناؤنا کاروبار بند نہیں کیا تو ان کے خلاف عوامی تحریک چلائی جائے گی اور کمیٹی میں تبدیلی کے لئے اقدام کیا جائے گا۔