تاثیر 01 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
غزہ،یکم اگست:فلسطینی مزاحمتی گروپ اسلامی جہاد کے مسلح ونگ نے جمعرات کو ایک اسرائیلی-جرمن قیدی کی ایک ویڈیو شائع کی جسے اکتوبر 2023 میں اسرائیل پر حملے کے دوران اغوا کیا گیا تھا۔چھے منٹ کی ویڈیو میں مرد قیدی عبرانی زبان میں بات کرتے ہوئے غزہ میں بھوک کے بحران کی حالیہ خبروں کی فوٹیج دیکھ رہا ہے۔ وہ اپنی شناخت ظاہر کرتا ہے اور اسرائیلی حکومت سے اپنی رہائی کو یقینی بنانے کی درخواست کرتا ہے۔اے ایف پی فوری طور پر اس ویڈیو کی صداقت اور اسے فلمانے کی تاریخ کی تصدیق نہیں کر سکا لیکن کئی اسرائیلی خبر رساں اداروں کے ہمراہ وہ روم براسلاوکسی کے طور پر اس قیدی کی شناخت کرنے میں کامیاب رہا جو دوہری شہریت کا حامل جرمن-اسرائیلی ہے۔اسلامی جہاد نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اس کا قیدی سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا اور تازہ ترین ویڈیو کے آغاز میں تبصرے میں یہ بات دہرائی گئی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ویڈیو ایک ہفتہ سے زیادہ پہلے فلمائی گئی تھی۔براسلاوکسی کی ایک سابقہ ویڈیو 16 اپریل کو جاری کی گئی تھی۔اصل میں یروشلم سے تعلق رکھنے والا براسلاوسکی نووا میوزک فیسٹیول میں سکیورٹی ایجنٹ تھا جو اکتوبر 2023 میں حماس اور دیگر مزاحمتی گروپوں بشمول اسلامی جہاد کے اراکین کے حملے کی زد میں آنے والے مقامات میں سے ایک تھا۔تقسیم کردہ فوٹیج میں نوجوان قیدی عربی زبان کے ایک ٹیلی ویڑن چینل پر غزہ میں بھوک سے متعلق نشر ہونے والی رپورٹ دیکھ رہا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق اپنے اغوا سے پہلے براسلاوکسی نے میوزک فیسٹیول کے کئی شرکاء کو بچایا جو وہاں سے بھاگ جانے میں کامیاب ہو گئے۔

