تاثیر 22 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
بہارشریف22 اگست(محمددانش) پٹنہ یونیورسٹی (پاتلی پتر یونیورسٹی) کے سینیٹ ممبر منّا صدیقی نے ضلع کے واحد ملحقہ خواتین کالج نالندہ ویمنز کالج کی خستہ حالی پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت اور عوامی نمائندوں سے جواب طلب کیا ہے۔منّا صدیقی نے کہا کہ نالندہ — وہ دھرتی ہے جس نے قدیم دور میں علم کا ایسا چراغ روشن کیا جس کی روشنی پوری دنیا میں پھیلی، آج اپنے ہی ہیڈکوارٹر بہار شریف میں غفلت اور بدحالی کا شکار ہے۔ یہ خواتین کالج جو ہزاروں بیٹیوں کی تعلیم اور مستقبل کا مرکز ہونا چاہئے تھا، آج کھنڈر میں تبدیل ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ کالج کی حالت اتنی بدتر ہے کہ ٹُوٹی چھتیں، خستہ پلاسٹر، بارش میں رساؤ، نہ مناسب کلاس روم، نہ لائبریری، نہ کامن روم اور نہ کھیل کا میدان — یہی اس کی اصل تصویر ہے۔ طالبات کو روزانہ حادثے کے خوف میں تعلیم حاصل کرنی پڑتی ہے۔ مسٹر صدیقی نے کہا کہ ہر سال ہزاروں طالبات داخلہ لیتی ہیں لیکن تعلیمی ماحول نہ ہونے کی وجہ سے یہ کالج صرف داخلہ اور فارم بھرنے کا مرکز بن کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ 20 برسوں سے ایم ایل اے رہنے والے معزز نمائندہ نے اسمبلی میں کبھی اس کالج کی خستہ حالی پر سوال کیوں نہیں اٹھایا؟ بیٹیوں کی تعلیم اور سلامتی کو ترجیح کیوں نہیں دی گئی؟ اگر بہار شریف کی ترقی کے دعوؤں اور تشہیر کا صرف 1 فیصد بھی اس کالج کو ملا ہوتا تو آج یہ کھنڈر نہیں بلکہ ایک جدید تعلیمی مرکز ہوتا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ نالندہ کی بیٹیوں کی عزت و وقار اور ان کے خوابوں کا سوال ہے۔ ہر سال داخلہ لینے والی طالبات یہ اُمید لے کر آتی ہیں کہ انہیں تعلیم، سلامتی اور احترام ملے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہیں ملتی ہیں ٹُوٹی دیواریں، رسنے والی چھتیں اور سرکاری بے رُخی۔

