ستائیس ممالک کا اسرائیل سے غزہ میں امداد پہنچانے اور جارحیت بند کرنے کا مطالبہ

تاثیر 13 اگست ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

پیرس،13اگست:فرانس اور برطانیہ سمیت 27 ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کی تمام امدادی قافلوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دے اور امدادی مقامات پر کسی قسم کی طاقت کا استعمال بند کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ شہریوں اور طبی و انسانی کارکنوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے تاکہ غزہ میں بڑھتی ہوئی بھوک کا بحران کم کیا جا سکے۔یہ مطالبہ ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب اسرائیل پر دباؤ ہے کہ وہ فوری اور مستقل اقدامات کرے اور اقوام متحدہ سمیت تمام امدادی اداروں کو آسان رسائی فراہم کرے تاکہ غزہ میں امداد بروقت پہنچائی جا سکے۔دوسری جانب اسرائیل کی حکومت اور فوج کے درمیان اس وقت غیر معمولی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے غزہ پر مکمل قبضے اور اسے تباہ کرنے کی حکمت عملی پیش کی ہے، جسے حکومت کے سخت گیر ونگز سختی سے حمایت کرتے ہیں۔
تاہم فوج کے سینئر افسران نے اس منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بغیر بعد از جنگ حکمت عملی کے وسیع کارروائی لبنان 1982ء جیسے مشکل اور خطرناک جنگی اور سیاسی گڑھے میں بدل سکتی ہے۔اسرائیل کی اس جارحیت پر سعودی عرب، خلیجی اور دیگر عرب ممالک نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سعودی کابینہ نے غزہ پر قبضے کو فلسطینی عوام کے خلاف ایک سنگین جرم قرار دیتے ہوئے بھوک مری اور نسل کشی کی مہم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔اس کے علاوہ، سعودی حکومت نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس جارحیت کو روکنے کے لیے فعال کردار ادا کرے۔