تاثیر 11 اکتوبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
جموں، 11 اکتوبر :بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے ایک سینئر افسر نے کیا کہ فورس نے پورے جموں سیکٹر کے لیے موسمِ سرما کی حکمتِ عملی تیار کر لی ہے تاکہ پاکستان کی جانب سے دھند کے موسم کا فائدہ اٹھا کر دراندازی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔ بی ایس ایف جموں فرنٹیئر کے انسپکٹر جنرل ششاک آنند نے بتایا کہ خفیہ اطلاعات کے مطابق لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد جیسے دہشت گرد گروپ آپریشن سندور کے دوران ہونے والے بھاری نقصان کے بعد دوبارہ منظم ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سردیوں میں سب سے بڑا چیلنج دھند کی وجہ سے دراندازی کے امکانات بڑھ جانا ہوتا ہے، جس کے لیے ہمارے جوانوں کو ہر وقت محتاط رہنا ضروری ہے۔ ہماری سرما حکمتِ عملی تیار ہے اور ہم سرحدوں پر اپنی نگرانی مزید سخت کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی دراندازی کی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔ آئی جی نے کہا کہ دشمن جانب سے مسلسل دراندازی کی کوششیں ہو رہی ہیں، مگر اب تک وہ اپنے مذموم ارادوں میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ بی ایس ایف دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، اور ہم ہر ممکن انٹیلی جنس شیئرنگ کر رہے ہیں۔ بھارتی فورسز پوری طرح تیار ہیں اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، ہماری افواج سرحد پار ہونے والی ہر سرگرمی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مئی میں آپریشن سندور کے دوران بھارتی افواج نے سرحد پار میزائل حملے کر کے دہشت گردوں کے نو ٹھکانے تباہ کیے، جن میں لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد کے اہم کیمپ بھی شامل تھے، جبکہ بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول کے قریب متعدد لانچ پیڈ ختم کیے۔انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں نے اپنی پناہ گاہیں تبدیل کر لی ہیں اور دوبارہ منظم ہو رہے ہیں، ہم کسی بھی نئی کوشش کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

