تاثیر 7 اکتوبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
سپریم کورٹ کے اندر چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی۔آر۔گوئی پر جوتا پھینکنے کی کوشش محض ایک شخص کی جذباتی حرکت نہیں بلکہ ہمارے جمہوری اور عدالتی نظام کے لئے ایک سنگین انتباہ ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ آئین، انصاف اور آئینی اداروں کے وقار پر حملہ ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ شرمناک حرکت ایک ایسے شخص نے کی ہے جو خود وکیل ہے، یعنی اس طبقےسے وابستہ فرد ،جو عدلیہ کے احترام اور اس کے تقدس کا محافظ سمجھا جاتا ہے۔
گزشتہ سوموار کی صبح جب چیف جسٹس بی۔آر۔گوَئی اور جسٹس کے۔ونود چندرن کی بنچ میں ایک مقدمہ زیرِ سماعت تھا۔اسی وقت دہلی کے میور وہار سے تعلق رکھنے والے، راکیش کشور نام کے ایک 71 سالہ وکیل نے اچانک اپنا جوتا نکال کر چیف جسٹس کی جانب پھینکنے کی کوشش کی۔ اگرچہ جوتا ان تک نہیں پہنچا اور سکیورٹی اہلکاروں نے فوراً اسے قابو میں کر لیا، لیکن اس عمل نے پورے ملک میں حیرت، غم اور غصے کی لہر دوڑا دی ۔سکیورٹی اہلکاروں کے ذریعہ کورٹ روم سے باہر لے جاتے وقت عینی شاہدین نے راکیش کشورکو یہ کہتے سنا کہ ’’سناتن کا اپمان نہیں سہے گا ہندوستان‘‘ ۔سننے میں آیا ہے کہ وکیل دراصل حالیہ دنوں میں چیف جسٹس کے ایک عدالتی تبصرے سے ناراض تھا۔ لیکن اس ناراضگی کا ایسا اظہار نہ صرف قانون کے دائرے سے باہر تھا بلکہ اس نے خود عدالتی نظام کی بنیادوں پر سوال کھڑا کر دیا۔
پی ایم نریندر مودی نے واقعہ کے فوراََ بعد چیف جسٹس سے فون پر بات کی اور اس سانحہ کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا، ’’ہمارے سماج میں ایسے نندنیہ (قابلِ مذمت) اعمال کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ چیف جسٹس نے جو صبر و تحمل دکھایا، وہ انصاف کے اصولوں اور ہمارے آئینی اقدار کے لئے ان کی گہری وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘اسی طرح اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، سونیا گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ صرف چیف جسٹس پر نہیں بلکہ ’’بھارت کے آئین پر حملہ‘‘ ہے۔
بار کونسل آف انڈیا نے تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے راکیش کشور کی وکالت کا لائسنس فوری طور پر معطل کر دیا۔ بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا نے واضح کیا کہ یہ عمل ’’عدالت کی عظمت اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی کھلی خلاف ورزی‘‘ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے وکیل کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کرنے اور 15 دن میں شوکاز نوٹس کا جواب طلب کرنے کا حکم دیا۔ ظاہرہے کہ کسی بھی عدالتی ادارے کو اپنے وقار پر کسی قسم کی آنچ برداشت نہیں کرنی چاہئے،کیوں کہ یہ واقعہ محض ایک وقتی اشتعال یا کسی مخصوص عقیدے کی حمایت کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور مذہبی جنونیت کا عکاس ہے۔ جب کوئی شخص یا گروہ اپنے نظریے کو ’’حقیقتِ مطلق‘‘ سمجھنے لگتا ہے اور اختلافِ رائے کو جرم یا توہین کے زمرے میں رکھنے لگتا ہے، تو یہی کیفیت تشدد کو جنم دیتی ہے۔ عدالتیں انصاف کی علامت ہیں، اگر وہاں بھی اس طرح کی حرکات ہونے لگیں تو معاشرتی نظم و ضبط کے بکھرنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔
اس واقعے کی ایک اور تشویشناک جہت یہ ہے کہ حملہ آور خود ایک وکیل تھا۔ اگر عدالتی تربیت یافتہ شخص ہی قانون اپنے ہاتھ میں لینے لگے تو عام شہری سے قانون پسندی کی کیا امید کی جا سکتی ہے؟ وکالت صرف پیشہ نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ایک وکیل سے یہ امید ہوتی ہے کہ وہ قانون کی بالادستی اور انصاف کی بقا کے لئے لڑے گا، نہ کہ اداروں کو کمزور کرنے کے لئے۔حالانکہ اس سانحے کے باوجود چیف جسٹس بی۔آر۔گوئی نےقابل تحسین تحمل اور وقار کا مظاہرہ کیا۔انھوں نے فوراً کورٹ روم میں کہا، ’’اس سے ہم دل برداشتہ نہیں ہوتے۔‘‘ یہ جملہ صرف ان کی ذاتی بردباری کی مثال نہیں بلکہ عدلیہ کے بلند اخلاقی معیار کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
یہ لمحہ ہمیں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر ملک میں یہ غصے، تعصب اور مذہبی انتہاپسندی کی فضا کہاں سے پیدا ہو رہی ہے؟ سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی غلط معلومات، سیاسی مفادات کے لئے مذہب کا استعمال، اور مذہبی جذبات کو بھڑکانے کی منظم کوششیں معاشرے میں زہر گھول رہی ہیں۔ اس زہر کا اثر اب عدالتوں کی دیواروں کے اندر تک پہنچ گیا ہے، جو کسی بھی جمہوریت کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی قیادت، مذہبی رہنما، اور سول سوسائٹی سب مل کر اس پیغام کو عام کریں کہ اختلاف کا حق ہر شہری کو ہے، مگر تشدد، توہین اور عدم برداشت کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اگر ہم نے اپنے اداروں کے احترام کو کھونا شروع کر دیا تو نہ صرف عدلیہ کمزور ہوگی بلکہ پورا جمہوری نظام متزلزل ہو جائے گا۔آخر میں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ’’عدلیہ پر حملہ دراصل عوام کے اعتماد پر حملہ ہے‘‘۔ جب تک عدالتوں کی کرسی محفوظ ہے، انصاف زندہ ہے۔ اور جب انصاف پر جوتا اٹھے، تو ہر شہری کو آواز اٹھانی چاہئے،کیونکہ یہ مذہبی منافرت کا جوتا کسی ایک شخص پر نہیں، بلکہ پوری قوم کے وقار پر پھینکا گیا ہے۔
***********

