تاثیر 15 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
پٹنہ سیٹی 15نومبر : قرآن مجید اور حفاظ کی عظمت و رفعت اور ان کے مقام بلند کا کیا کہنا، اللہ تعالیٰ نے کس قدر واضح اور دو ٹوک انداز اور الفاظ میں یہ اعلان کیا ہے کہ’’انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون‘‘ اس نصیحت نامہ اور کتاب ہدایت یعنی قرآن کو ہم نے ہاں ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ و نگہبان ہیں اور بارگاہ ربانی کی اس عطا کی کوئی حد ہے کہ جو صفت اللہ نے اپنے لئے مخصوص رکھی تھی۔
اسے بندہ کو بھی نواز دیا، یعنی اللہ حافظ الذکر یعنی قرآن کا محافظ و نگہبان ہے تو بندہ کو توفیق بخش دی کہ وہ تیس پاروں کو حفظ کرکے حافظ قرآن کا مبارک و مسعود لقب حاصل کر لے حافظ قرآن کا درجہ اور مقام و رتبہ اسلام کی نظر میں بہت ہی بلند ہے اسی قرآن مجید کو محمد شکیل احمد کے فرزند حافظ محمد شہروز شکیل لودی کٹرہ( نتیا نند کا کنواں ) پٹنہ سیٹی نے حافظ تقی انور صاحب قبلہ کی نگرانی میںتکمیل قرآن حفظ کے مبارک موقع پر عرس قلندری و جلسہ عظمت حدیث کے موقع پر حضور رئیس المشائخ حضرت سید شاہ مصباح الحق عمادی صاحب سجادہ نشیں خانقاہ عمادیہ قلندریہ منگل تالاب پٹنہ سیٹی نے اپنے مقدس ہاتھوں سے حافظ محمد شہروز شکیل کو دستار قرآن حفظ سے نوازا اس موقع پر شہر کے علماء کرام کی بڑی جماعت موجود تھی اس موقع محمد شکیل احمد اور حافظ محمد شہروز شکیل مبارک باد پیش کرنے والوں میں حافظ محمد شہروز شکیل کے نانا جان محمد رشید صاحب دادا جان محمد علیم الدین ( المعروف ننھے صاحب ) محمد شفیع جان صاحب بڑے ابو محمد تنویر عالم ( تنو) محمد شبیر احمد ڈاکٹر محمد جمیل احمد محمد رضوان عالم بھائی شہباز شکیل حافظ محمد عارض محمداریب حافظ محمد اسماعیل احمد اسحاق احمد ادریس محمد مصباح تنویر محمد وسیم الدین محمد عظیم الدین محمد بلال احمد محمداقبال محمد جاوید محمد پرویز محمد فیروز ذ محمد راشد محمد شاہد والقر نین محمد نعمان ڈاکٹر وقار عالم وغیرہ کے نام شامل ہیں یاد رہے کہ قرآن مجید کی تعلیم و تعلم میں مصروف رہنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں اچھے اور پسندیدہ ہیں، چنانچہ ارشاد نبوی ہے کہ تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن کریم سیکھے اور دوسروں کو سکھائے،

