تاثیر 13 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
بہار کی سرزمین صدیوں سے علم، فن، ادب اور محنت کش انسانوں کی پیداوار رہی ہے۔ آج دنیا بھر میں لاکھوں بہاری النسل لوگ خلیجی ممالک، امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا اور یورپ میں آباد ہو کر نہ صرف اپنی تقدیر سنوار رہے ہیں بلکہ اپنی ریاست کا نام بھی روشن کر رہے ہیں۔ یہ تارکین وطن بہاری حضرات(نن ریزیڈنشیل بہاریز یا پرواسی بہاری) ہر سال اربوں روپیے کا ریمیٹنس بہار بھیجتے ہیں، جو ریاستی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔ریزرو بینک کی رپورٹس کے مطابق بہار کو ملنے والا ریمیٹنس کیرالہ کے بعد دوسرا یا تیسرا سب سے بڑا ہے۔ یہ پرواسی بہاری ریاست کی معیشت کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، مگر ان کی خاطر خواہ تعداد اور اہمیت کے باوجود بہار حکومت کے پاس ان کے مسائل حل کرنے کے لئے کوئی مخصوص محکمہ اب تک قائم نہیں کیا جا سکا ہے۔
ان پرواسی بہاریوں کے مسائل بہت ہیں۔ جائیداد کے تنازعات، زمین پر قبضے، وراثت کے جھگڑے، عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی دشواریاں، پاسپورٹ اور ویزا کی پریشانیاں، وفات پر لاش واپس لانے میں دشواریاں، انشورنس اور پنشن کے دعوے کے نپٹارے کے مسائل، بچوں کی تعلیم اور شادی بیاہ میں رکاوٹیں وغیر۔اس طرح کے مسائل یونہی برسوں لٹکتے رہتے ہیں۔ متاثرین کو نہ صحیح رہنمائی ملتی ہے نہ فوری انصاف۔ دوسری طرف گجرات، کیرالہ، پنجاب، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو جیسی ریاستیں برسوں سے این آر آئی یا پراواسی کلیان محکمے قائم کر چکی ہیں۔ کیرالہ کا ’’پراواسی کلیان بورڈ ‘‘دنیا میں ایک مثال ہے، جہاں ایک فون کال پر قانونی، معاشی اور انتظامی مدد بلا تاخیر مل جاتی ہے۔ گجرات نے تو این آر آئی کے لئے الگ تھانے تک کھول رکھے ہیں۔ بہار میں بھی پراواسیوں کا حصہ کسی سے کم نہیں ہے، تاہم انھیں ملنے والی سہولیات نہیں کے برابر ہیں۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ حال ہی میں 9 دسمبر 2025 کو کابینہ کی ہوئی ایک میٹنگ میں حکومت بہارنے تین نئے محکموں ’یووا روزگار اینڈ اسکل ڈیولپمنٹ‘، ’ہائر ایجوکیشن ‘ اور’ سول ایوی ایشن‘ کے قیام کی منظوری دی ہے ۔ظاہر ہے، یہ فیصلے نوجوانوں کو روزگار، اعلیٰ تعلیم اور ہوائی رابطوں کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ بہار کی ترقی کی سمت میں اہم قدم ہیں۔ البتہ پرواسی بہاریوں کو یقین ہے کہ حکومت بہار بھی جلد ہی ان کے لئے ایک الگ محکمہ کا قیام عمل میں لائے گی۔
واضح رہے کہ برسوں سے غیر ممالک میں رہ رہےکچھ ذمہ دار بہاریوں نے پچھلے دنوں وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار کو ای۔میل کے ذریعے اپنی درخواست بھیج کر ان سے اس سلسلے میں ضروری کارروائی کی گزارش کی ہے۔ان میں سے چند افراد نے بذریعہ فون ہمارے دفتر سے بھی رابطہ قائم کر کےپرواسی بہاریوں کو ضروری سہولیات فراہم کرنے کے لئے الگ محکمے کی تشکیل کی ضرورت کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کرانے کی اپیل کی ہے۔اپیل کرنے والوں میں جناب اعجاز الحق (سعودی عربیہ)، جناب ظفرالحسن مجیب ( سعودی عربیہ)،پروفیسر ڈاکٹر محمد جمالی (دبئی)، انجنیئر محمد ارشد خان (سعودی عربیہ)، انجنیئر محمد مرتضیٰ(سعودی عربیہ)،جناب مسعود اعظم خان (سعودی عربیہ)،انجنیئرسید فرحان(سعودی عربیہ)،جناب محمد اشفاق بزمی (سعودی عربیہ)،جناب سید طالب احمد ( سعودی عربیہ)،جناب محمد فیروز( سعودی عربیہ)، حافظ محمد محمود (سعودی عربیہ )،جناب ابرار عرف جمن خان (سعودی عربیہ)، ڈاکٹر فیاض احمد (امریکہ)، انجینئر مشتاق عالم (کویت)، جناب محمد ارشد (قطر)، جناب تنویر عالم (دبئی)، ایروناٹکس انجینئر نیرج کمار (دبئی) اورڈاکٹر سہیل اختر (کینیڈا) وغیرہ شامل ہیں۔ ظاہر ہے،یہ آواز کسی سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ لاکھوں پرواسی بہاریوں اور ان کےاہل خانہ کی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ پرواسی بہاریوں کے لئے الگ محکمہ قائم ہونے سے ان کے مسائل کا فوری حل ممکن ہوسکےگا۔ پرواسی سرمایہ کاری لانے میں راغب ہوں گے، حکومت ان سے براہ راست رابطہ قائم کر سکے گی، ان کےبچوں کے لئے اسکالرشپ، انٹرن شپ اور اسٹارٹ اپ پروگرام بن سکیں گے، دھوکے میں پھنسے بہاری مزدوروں کو بر وقت امداد پہنچائی جا سکے گی اور بہار کا سافٹ پاور مضبوط ہوگا۔ اس محکمے میں ایک وزیر، ایک آئی اے ایس سکریٹری کے ساتھ این آر آئی سیل ، قانونی امداد سیل اور سرمایہ کاری ہیلپ لا ئن کا قیام اورہر ضلع میں ایک نوڈل آفیسرکی ماموری ضروری ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار بذات خود دلچسپی لے کر بلاتاخیر کے’پرواسی بہاری کلیان محکمہ‘ یا کسی دوسرے مناسب نام سے ایک علیٰحدہ محکمہ قائم کرنے کی سمت میں ضروری اقدام کریں۔بہار کابینہ کے حالیہ فیصلوں سے پرواسی بہاریوں کی یہ امید یںبڑھی ہے کہ جلد ہی ان کا یہ دیرینہ خواب شرمندۂ تعبیر ہوگا۔واقعی جس دن یہ محکمہ وجود میں آئے گا، بہار سچے معنوں میں اپنے ان لاکھوں سپوتوں کا دل جیت لے گا، جو دور دراز ممالک میں رہتے ہوئے اپنی ریاست کی معیشت کو مستحکم اور نام کو بلند کر نے میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ انھیں اس بات کا پختہ یقین ہے کہ بہت جلد ان کے اپنے بہار کا نام بھی ملک کی نمایاں’’ پرواسی کلیان ریاستوں ‘‘کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔

