شدید سرد لہر کی زدمیں شمالی بھارت

 

تاثیر 24 دسمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

شمالی بھارت ان دنوں شدید سرد لہر اور گھنے کوہرے کی زد میں ہے۔ بہار سمیت پنجاب، ہریانہ، دہلی، اتر پردیش اور دیگر ریاستوں میں موسم کی شدت نے روزمرہ زندگی کو متاثر کر رکھا ہے۔ بھارت کے محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے 29 دسمبر تک کئی ریاستوں میں گھنے سے انتہائی گھنے کوہرے کا الرٹ جاری کیا ہے، جبکہ بہار اور اتر پردیش میں کولڈ ڈے کی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔ کشمیر اور ہماچل پردیش میں برفباری نے موسم کو مزید سرد کر دیا ہے، جبکہ شمالی بھارت کے میدانی علاقوں میں کوہرے اور ٹھنڈ کا اثر مسلسل جاری ہے۔ بہار میں تو حالت یہ ہے کہ متعدد اضلاع میں اورنج الرٹ جاری ہے اور بعض علاقوں میں درجہ حرارت 7 سے 8 ڈگری سیلسیس تک گر چکا ہے۔
بہار میں ٹھنڈ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ پٹنہ سمیت کئی اضلاع میں شیٹ ڈے جیسے حالات ہیں، جہاں دن میں بھی سورج کی کرنیں دھندلی پڑ جاتی ہیں۔ مغربی چمپارن، سیوان، گیا، نالندہ اور بھاگلپور سمیت 17 اضلاع میں گھنے کوہرے کی وارننگ ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں درجہ حرارت 7.8 ڈگری تک گر گیا، جبکہ گیا میں سب سے کم 7.8 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ کوہرے نے ریل اور ہوائی سفر کو شدید متاثر کیا ہے؛ درجنوں ٹرینیں 10 گھنٹے سے زائد تاخیر کا شکار ہوئیں ہیں اور پروازیں بھی لیٹ ہو رہی ہیں۔ آئی ایم ڈی کے مطابق، 26 دسمبر تک شیٹ ڈے اور گھنا کوہرا برقرار رہے گا، البتہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں معمولی اضافہ ممکن ہے۔
دہلی۔این سی آر اور شمالی بھارت کے دیگر حصوں میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت 8 سے 10 ڈگری کے آس پاس رہنے کا امکان ہے، جبکہ گڑگاؤں اور نوئیڈا میں یہ 8 سے 12 ڈگری تک گر سکتا ہے۔ کوہرے کی وجہ سے ویزیبلٹی کم ہو رہی ہے، جو ٹریفک اور صحت دونوں کے لئے خطرناک ہے۔ دہلی میں آلودگی کا لیول بھی 400 سے اوپر ہے، جو ٹھنڈ کے ساتھ مل کر سانس کی بیماریوں کو بڑھا رہا ہے۔ پنجاب اور ہریانہ میں بھی سرد لہر کی وارننگ ہے، جہاں کم سے کم درجہ حرارت 5 ڈگری تک پہنچ چکا ہے۔
سرد موسم نہ صرف موسم کی تبدیلی لاتا ہے بلکہ انسانی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ شدید ٹھنڈ، گھنا کوہرا اور خشک ہوا جسم کے لئے متعدد چیلنجز پیدا کرتی ہے، جن میں ہائپوتھرمیا (جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک کم ہونا)، فراسٹ بائٹ (جلد کا منجمد ہونا)، سانس کی بیماریاں، دل کے مسائل اور جوڑوں کے درد شامل ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق، سردی جسم کی شریانوں کو سکڑنے کا باعث بنتی ہے، جس سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور دل پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، خشک ہوا جلد کو خارش اور پھٹنے کا سبب بنتی ہے، جبکہ بند ماحول میں وائرسز تیزی سے پھیلتے ہیں۔
سرد موسم سانس کی بیماریوں کو بھی بڑھاوا دیتا ہے۔ خشک اور ٹھنڈی ہوا سانس کی نالیوں کو تنگ کرتی ہے، جس سے دمہ، برونکائٹس اور نمونیا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ فلو اور نزلہ زکام عام ہو جاتے ہیں کیونکہ وائرس سردی میں زیادہ زندہ رہتے ہیں اور بند جگہوں پر تیزی سے پھیلتے ہیں۔ دل کے مریضوں کے لئے سردی خاص طور پر خطرناک ہے کیونکہ شریانیں سکڑنے سے ہارٹ اٹیک کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ جوڑوں کے درد (آرتھرائیٹس) اور جلد کی خشکی بھی سردی میں شدت اختیار کر لیتی ہے۔
ان اثرات سے بچاؤ کے لئے چند آسان تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں۔ گرم کپڑے پہنیں، خاص طور پر سر، ہاتھ اور پاؤں کو ڈھانپ کر رکھیں۔ گھر کو مناسب گرم رکھیں اور ہوا کی نمی برقرار رکھنے کے لئے ہیومیڈیفائر استعمال کریں۔ پانی خاطر خواہ مقدار میں پیتے رہیں کیونکہ سردی میں پیاس کم لگتی ہے مگر جسم کو ہائیڈریشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ متوازن غذا لیں، وٹامن سی اور ڈی سے بھرپور پھل و سبزیاں کھائیں تاکہ قوت مدافعت مضبوط رہے۔ ورزش کریں مگر شدید سردی میں باہر نکلنے سے گریز کریں۔ بوڑھوں اور بچوں کا خاص خیال رکھیں اور اگر علامات نظر آئیں تو فوراََ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔سرد موسم خوبصورت ضرور ہے مگر صحت کا خیال نہ رکھا جائے تو یہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ احتیاط اور بیداری سے ہی ہم اس موسم کو صحت مند اور پرلطف بنا سکتے ہیں۔