سردی کی شدید لہر میں ایس کے ایم سی ایچ کے مریضوں کی حالت ناگفتہ بہ، ہیٹر بند اور کمبل کی قلت پر سنگین سوالات

تاثیر 2 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

مظفرپور (نزہت جہاں)بہار بھر میں جاری شدید سردی کی لہر نے عام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، وہیں مظفرپور واقع شری کرشن میڈیکل کالج و اسپتال (SKMCH) میں زیرِ علاج مریضوں کی مشکلات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ الزام ہے کہ کڑاکے کی سردی کے باوجود اسپتال کے کئی وارڈز میں ہیٹر تاحال بند ہیں اور مریضوں کو مناسب تعداد میں کمبل بھی میسر نہیں ہو پا رہے۔
مریضوں اور ان کے احباب کا کہنا ہے کہ کئی دنوں سے وہ شدید سرد موسم میں علاج کرانے پر مجبور ہیں۔ کچھ مریضوں کو اگرچہ کمبل فراہم کیے گئے ہیں، لیکن بڑی تعداد اب بھی اس بنیادی سہولت سے محروم ہے، جس کے باعث انہیں گھروں سے کمبل منگوانے پڑے۔ وارڈز میں ٹوٹی کھڑکیاں اور کھلے حصے سرد ہوا کو اندر آنے دیتے ہیں، جس سے بیمار اور کمزور مریضوں کی تکلیف دوچند ہو گئی ہے۔
متاثرہ مریضوں نے الزام عائد کیا کہ جب وہ اس مسئلے کو لے کر اسپتال عملے سے شکایت کرتے ہیں تو انہیں تسلی بخش جواب نہیں ملتا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت بہتر صحت سہولیات کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہے، مگر زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ شمالی بہار کا سب سے بڑا سرکاری اسپتال ہونے کے ناطے SKMCH لاکھوں مریضوں کے لیے آخری امید سمجھا جاتا ہے، ایسے میں یہاں بنیادی سہولیات کی کمی سنگین تشویش کا باعث ہے۔ اس معاملے پر اسپتال کے انچارج سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ستیش کمار سنگھ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اب تک ان کے پاس اس حوالے سے کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ تاہم اگر واقعی ایسے حالات ہیں تو یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال کے اسٹور روم میں کمبل کی وافر مقدار موجود ہے اور ہر مریض کو سردی سے بچاؤ کے لیے کمبل دیا جانا لازمی ہے۔
ڈاکٹر ستیش کمار سنگھ نے مزید بتایا کہ وہ اس معاملے میں اسپتال مینیجر سے تفصیلی رپورٹ طلب کریں گے اور اگر شکایات درست پائی گئیں تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ کسی بھی مریض کو علاج یا بنیادی سہولیات سے محروم نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ یہ حکومت کا واضح حکم ہے۔