تاثیر 2 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
اندور، جو مدھیہ پردیش کا ایک اہم شہر اور ملک کا سب سے صاف ستھرا شہر کہلاتا ہے، آج ایک سنگین بحران کا شکار ہے۔وہاں آلودہ پانی کی سپلائی نے کم از کم 15 انسانی زندگیوں کو نگل لیا ہے۔متعدد زیرعلاج ہیں۔ یہ واقعہ دسمبر 2025 کے آخر میں شروع ہوا تھا اور 3جنوری ،2026تک، مختلف ذرائع کے مطابق مرنے والوں کی تعداد 10 سے 15 تک بتائی جا رہی ہے، جبکہ ہسپتالوں میں داخل مریضوں کی تعداد 200 سے بڑھ کر 1400 تک پہنچ گئی ہے۔ شہر کےبھاگیرتھ پورہ محلہ کے رہائشیوں نے گندے اور بدبو دار پانی کی شکایات بار بار کی تھیں،لیکن انتظامیہ کی غفلت نے اسے ایک سانحہ میں تبدیل کر دیا۔
یہ بحران محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ نظام کی مجرمانہ ناکامی کا نتیجہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق، پانی کے نمونوں میں خطرناک بیکٹیریا کی موجودگی ثابت ہوئی ہے، جو ڈائریا اور ممکنہ طور پر ہیضہ جیسی بیماریوں کا سبب بنی۔بتایا جاتا ہے کہ 25 دسمبر سے مریض ہسپتالوں میں داخل ہونے لگے تھے، اور 29 دسمبر تک اموات شروع ہو گئی تھیں۔ اس کے باوجود، سیوریج کا پانی ،پینے کی لائن میں ملنے کے باوجود سپلائی کو فوری طور پر روکا نہیں گیا۔ نگر نگم کے افسران نے تسلیم کیا ہے کہ پانی پینے کے لائق نہیں تھا، لیکن ایک ماہ سے یہ سپلائی جاری تھی۔ یہ غفلت نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ’’جل جیون مشن‘‘ اور ’’سوچھ بھارت ابھیان‘ جیسے سرکاری پروگراموں کی قلعی اتارنے والی ہے۔
سیاسی سطح پر، یہ بحران ایک شدید تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اسے’’پانی نہیں، زہر کی تقسیم‘‘ قرار دیتے ہوئے بی جے پی کی ڈبل انجن حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے پوچھا ہے کہ سیوریج سپلائی کے پانی میں کیسے ملا، سپلائی کیوں نہیں روکی گئی، اور افسران پر کارروائی کب ہوگی؟ اسی طرح، کانگریس صدر ملکاارجن کھڑگے نے حکومت کو آڑے پاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ’’ ملک 11 سال سے خالی دعوؤں کا شکار ہے۔ جل جیون مشن میں بدعنوانی عروج پر ہے۔‘‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ اوما بھارتی نے بھی موجودہ حکومت پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے یہاںتک کہہ دیا ہے کہ’’ یہ واقعہ صوبے کے لئے شرمناک ہے ۔اس کے لئے ذمہ دار افسران سے لے کر لیڈروں تک سب کو سزا دی جانی چاہئے۔ زندگی کی قیمت دو لاکھ روپے نہیں ہے۔ موجودہ وزیر اعلیٰ موہن یادو کو اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔‘‘ مدھیہ پردیش کانگریس صدر جیتو پٹواری نے بھی الزام لگایا ہے کہ’’ افسران پر الزام ڈال کر حکومت اپنا بدعنوان سسٹم چھپا رہی ہے۔اس کے لئے وزیر کیلاش وجے ورگیہ سمیت ذمہ داروں پر ایف آئی آردرج ہونی چاہئے۔حالانکہ وزیر کیلاش وجے ورگیہ نے ذمہ داری قبول کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ شہر کے نمائندہ ہونے کے ناطے خود کو قصوروار مانتے ہیں۔ انہوں نے افسران کی ناکامی کو تسلیم کیا ہے اور کہا ہے کہ شکایات پر کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے یہ سانحہ پیش آیا ہے۔ تاہم، ان کا ایک وائرل ویڈیو ،جس میں ایک صحافی کے سوال کا جواب دینے کے بجائے وہ قابل اعتراض الفاظ کے ساتھ غصے کا اظہار کرتے ہوئےنظر آ رہے ہیں،حکومت کے رویہ پر سوال کھڑا کرتا ہے۔دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی بھی سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس سے پتہ چلتا ہے کہ شہر کے کئی علاقوں میں احتجاج جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ہیضہ جیسی بیماری پھوٹ پڑنے کا خدشہ ہے، اور متاثرین کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ بحران غریب اور پسماندہ طبقات کے لئے قیامت سے کم نہیں ہے۔ متاثرین کی کہانیاں دل دہلا دینے والی ہیں۔مرنے اور بیمار پڑنے والوں میں تقریباََ سب کے سب غریب ہیں۔ ان کے لئے پانی زندگی کا بنیادی حق ہے، لیکن انتظامی غفلت نے انہیں موت کی طرف دھکیل دیا ہے۔ صحت کے ماہرین کے مطابق، ایسے بحرانوں سے بچاؤ کے لئے باقاعدہ پانی کی فوری جانچ اور ضروری کارروائی ہے۔ کارروائی کے نام پر اب تک جتنا کچھ بھی ہوا ہے، وہ ناکافی ہے۔
اس بحران سے نکلنے کے لئے جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔ پہلے، ذمہ دار افسران اور لیڈروں پر سخت کارروائی ہو، جیسا کہ اوما بھارتی نے مطالبہ کیا ہے۔ دوسرا، پانی کی بہتر سپلائی اور عوامی شکایات پر فوری کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ تیسرا، متاثرین کے خاندانوں کو معقول معاوضہ اور بیماروں کوبہتر علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔سیاسی جماعتوں کو اسے انتخابی ایشو بنانے کے بجائے مسئلہ کے مشترکہ حل پر توجہ دی جانی چاہئے۔ یہ سانحہ ہمیں یہ باور کرانے کے لئے کافی ہے کہ انسانی زندگیاں سیاسی دعوؤں سے بالاتر ہیں۔ اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو ایسے بحران مزید علاقوں کو اپنا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اندور کی یہ تباہی متنبہ کرتی ہے کہ صفائی کے سرکاری دعوے، حقیقت میں تبدیل ہوں، بصورت دیگر اس کی قیمت عوام کو ادا کرنی پڑے گی۔
*********

