تاثیر 17 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن
مہاراشٹرا کے حالیہ بلدیاتی انتخابات نے ریاست کے سیاسی منظر نامے کو ایک نئی جہت دی ہے۔انتخابات میں بی جے پی کی قیادت میں مہایوتی اتحاد نے زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے بھی اپنی طاقت بڑھائی ہے۔ یہ انتخابات 15 جنوری کو 29 بلدیاتی کارپوریشنوں کی 2,869 نشستوں پر منعقد ہوئے تھے۔ان کے نتائج کل 17 جنوری تک مکمل طور پر سامنے آ گئے۔ بی جے پی نے 1,425 نشستیں حاصل کر کے سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس کے اتحادی شیو سینا (ایکناتھ شندے گروپ) نے 399 نشستیں جیتی ہیں۔اس طرح مہایوتی کا مجموعی اعداد و شمار 1824 تک پہنچ گیا ہے۔ دوسری جانب، اے آئی ایم آئی ایم نے 125 نشستیں حاصل کر کے اب تک کا بہترین مظاہرہ کیا ہے۔یہ تعداد 2017 کے انتخابات میں حاصل کل 56 نشستوں سے دگنی سے بھی زیادہ ہے۔
بی جے پی کی اس غالب جیت کو ریاست میں ترقیاتی ایجنڈے کی عوامی توثیق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اسے ’’بھاری جنادیس‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام نے ایمانداری، ترقی اور اچھی حکمرانی کو ترجیح دی ہے، جبکہ اس کے اتحادی شیو سینا نے 29 نشستیں جیتی ہیں۔ یہ جیت شیو سینا کی 25 سالہ حکمرانی کا گویا خاتمہ ہے، جو ٹھاکرے خاندان کے لئے ایک بڑا دھچکا ہے۔ بی جے پی کی کامیابی کا کریڈٹ اس کی تنظیمی طاقت، مقامی سطح پر ترقیاتی کاموں جیسے انفراسٹرکچر، صفائی، پانی کی فراہمی اور ٹریفک مینجمنٹ پر توجہ، اور پی ایم نریندر مودی کی قومی اپیل کو دیا جا رہا ہے۔ تاہم، اپوزیشن نے الزام لگایا ہے کہ یہ جیت پیسے کی تقسیم اور دھاندلی کے ذریعے حاصل کی گئی ہے۔
دوسری جانب، اے آئی ایم آئی ایم کی کامیابی سے ریاست کے بلدیاتی حلقوں میں نئے سیاسی تانے بانے اجاگرہوئے ہیں۔ چھترپتی سمبھاجی نگر میں 33 نشستیں، مالیگاؤں میں 21، ناندیڑ میں 14، امراوتی میں 12، دھولی میں 10، سولاپور میں 8، بمبئی میں 8 اور تھانے میں 5 نشستیں حاصل کر کے پارٹی نے مقامی سطح پر اپنی گرفت مضبوط کی ہے۔ ظاہر ہے،یہ جیت صرف مسلمان ووٹ بینک کی حمایت سے ممکن نہیں ہوئی ہے۔ غیر مسلم، بالخصوص دلت، قبائلی اور خواتین ووٹروں کی شمولیت کا بھی اس میں ہاتھ ہے۔پارٹی کے ترجمان وارث پٹھان بھی مانتے ہیں روایتی پارٹیوں کی کارکردگی سے غیر مطمٔن عوام نے اس بار اے آئی ایم آئی ایم پر اعتماد کیا ہے۔بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ یہاں کی فتح و شکست میں مقامی عوامل کا بھی عمل دخل رہا ہے۔مثال کے طور پر مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے انتخابی نتائج کو دیکھا جا سکتا ہے۔یہاں کل 84 نشستیں ہیں۔ ان میں سے اے آئی ایم آئی ایم نے 21 نشستیں حاصل کی ہیں۔ اس کے مقابلے میں، ایک نئی مقامی پارٹی جس کا نام ’’انڈین سیکولر لارجسٹ اسمبلی آف مہاراشٹر‘‘ یعنی مختصراََ ’’اسلام ‘‘ ہے، نے 35 نشستیںجیتی ہیں۔چنانچہ وہاں مسلم ووٹوں کے بکھراؤ سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔کیوں کہ، دونوں پارٹیاں مسلمان ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔کانگریس کو 3 نشستیں ملی ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے ووٹ متحد نہیں رہ سکے ہیں۔
بلدیاتی انتخابات کے نتائج مہاراشٹرا کی سیاسی تقسیم کو بھی واضح کرتے ہیں۔ شیو سینا (اودھو ٹھاکرے گروپ) نے بی ایم سی میں 65 نشستیں جیتی ہیں، لیکن ریاست بھر میں اس کی کارکردگی مایوس کن یعنی 155 نشستوں تک محدود رہ گئی ہے۔ کانگریس نے 324 نشستوں کے ساتھ چند علاقوں جیسے لاتور اور چندرپور میں نسبتاََ بہتر مظاہرہ ضرور کیا ہے۔حالانکہ مجموعی طور پر وہ کافی کمزور ہوئی ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے دونوں دھڑوں کو شدید نقصان ہوا ہے۔ شرد پوار گروپ کو صرف 36 نشستیں اور اجیت پوار گروپ کو 167 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ مہاراشٹرا نو نرمان سینا (ایم این ایس) کو صرف 13 نشستیں ملیں، جو راج ٹھاکرے کے کم ہوتے ہوئے اثر کو ظاہر کرتی ہے۔
مجموعی طور پر، یہ انتخابات مقامی مسائل جیسے پانی، صفائی، ٹریفک اور ہاؤسنگ پر مرکوز رہے ہیں۔اس طرح بی جے پی کی جیت شہری ترقی کی طرف اشارہ کر رہی ، جبکہ اے آئی ایم آئی ایم کی کامیابی اقلیتی اور پسماندہ طبقات کی آواز کو طاقت دیتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ سیاسی مبصرین مانتے ہیں کہ بی جے پی کی یہ جیت ریاست میں استحکام لائے گی، لیکن اپوزیشن کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کو اب اپنی نشستوں کو ترقیاتی کاموں میں تبدیل کر کے ثابت کرنا ہو گا کہ وہ صرف اپوزیشن نہیں بلکہ حکمرانی بھی کر سکتی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ انتخابات مہاراشٹرا کی سیاست میں ترقی اور شمولیت کی نئی لہر ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ تمام پارٹیاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھیں۔

