جے ڈی یو کے استحکام کی نئی کوشش

تاثیر 16 جنوری ۲۰۲۶:- ایس -ایم- حسن

اِن دِنوںبہار کی سیاست میں ایک نئی لہر اٹھی ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار اپنی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کو ری اسٹرکچر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ نتیش کمار کے اس قدم کو پارٹی کی اندرونی طاقت کو مزید مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ بہار کی ترقی اور عوامی فلاح کے ایجنڈے کو نئی جہت دینے کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے تحت ابتدائی مرحلے میں نتیش کمار کے صاحبزادے نشانت کمار کی سیاست میں انٹری اور سابق مرکزی وزیر آر سی پی سنگھ کی گھر واپسی بالکل طے ہے۔ اس پیش رفت کو ایک شانت مزاج کے نوجوان کی توانائی اورانتظامی امور میں ماہر ایک سیاستداں کے تجربے کا امتزاج کہا جا سکتا ہے۔
بلا شبہہ نتیش کمار کی قیادت میں جے ڈی یو نے بہار کی سیاست کو ایک نئی سمت دی ہے۔نتیش کمار کی سیاست میں سماجی انصاف، ترقی اور ہم آہنگی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ری اسٹرکچرنگ سے متعلق ان کا منصوبہ پارٹی کی بنیادوں کو مزید مضبوط کرنے کا ایک دانشمندانہ قدم ہے۔ اپنی حالیہ’’ سمردھی یاترا ‘‘کے دوران نتیش کمار عوامی تاثرات اکٹھا کر رہے ہیں۔اس سے پارٹی کی پالیسیوں کو مزید عوام دوست بنانے میں مدد ملے گی۔دو ماہ بعدیعنی مارچ میں، دہلی میں پارٹی کی مجوزہ قومی ایگزیکٹو میٹنگ میں اس منصوبے کو عملی شکل دی جانے والی ہے ۔اسی موقع سے پارٹی کے رہنماؤں کو نئی ذمہ داریاں دی جائیں گی۔ ایک رپورٹ کے مطابق نتیش کمار کی یہ حکمت عملی بہار کی حکومت کو مزید مؤثر اور جوابدہ بنانے والی ہوگی۔اس سے ریاست کی ترقیاتی رفتار مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔
ریاست کی سیاست میںنشانت کمار کی انٹری اِس ری اسٹرکچرنگ کا ایک اہم پہلو ہے۔مانا جا رہا ہے ، ایک پڑھے لکھے نوجوان کے طور پر نشانت پارٹی کو نئی توانائی اور جدید سوچ فراہم کریں گے۔ انہیں قومی ایگزیکٹو کا رکن یا پارٹی کے جنرل سکریٹری کی ذمہ دی جا سکتی ہے۔ نشانت کی انٹری سے پارٹی،نئی نسل کے ووٹرز کے درمیان اپنی گرفت مضبوط کر سکے گی، جو ڈیجیٹل دور کی سیاست میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔ تاہم، اس انٹری کے ساتھ کچھ ہلکے پھلکے چیلنجز بھی سامنے آ سکتے ہیں، جیسے پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور کارکنان کے ساتھ   ابتدائی ایڈجسٹمنٹ۔مگر یہ بھی طے ہے کہ یہ چیلنجزباکل عارضی نوعیت کے ہوں گے، جنھیں نتیش کمار کی زیر نگرانی آسانی سے حل کیا جا سکے گا۔
آر سی پی سنگھ کی گھر واپسی بھی پارٹی کے لئے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ان کا آئی اے ایس پس منظر اور نتیش کمار کے ساتھ طویل تعلق پارٹی کو انتظامی مہارت اور تجربہ فراہم کرے گا۔سیاسی تانے بانے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آر سی پی سنگھ کی واپسی کوئری کمیونٹی میں پارٹی کی بنیاد کو مزید مستحکم کرے گی اور بہار کی ترقیاتی پالیسیوں کو تقویت دے گی۔ یہ قدم نتیش کمار کی جامع قیادت کی مثال ہے، جو پرانے اتحادیوں کو دوبارہ شامل کر کے پارٹی کو متحد رکھنے کی بھر پور صلاحیت کا کھلا اظہار ہے۔ ماضی کے چھوٹے موٹے اختلافات کو درگز ر کرکے نئی طاقت کے ساتھ آگے بڑھتے رہنا نتیش کمار کی سیاست کا بنیادی اصول ہے۔ نتیش کمارجیسے ماہر سیاست داں اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ اس طرح کی واپسیاں پارٹی کو متنوع تجربات سے مالا مال کریں گی۔اس سے حکومت بہار کی کارکردگی بھی مزید بہتر ہو سکے گی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ پارٹی کی  ری اسٹرکچرنگ سے متعلق نتیش کمار کا منصوبہ   بہار کی سیاست کو ایک نئی جہت دے گا۔اس سے  نتیش کمار کی قیادت میں جے ڈی یو نہ صرف اپنی اندرونی کمزوریوں کو دور کرے گا، بلکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ریاست کی خدمت کو جاری رکھے گا۔ اپوزیشن کی طرف سے اٹھنے والے الزامات، جیسے وراثت کی سیاست یا بیرونی مداخلت وغیرہ سیاسی بیان بازی سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہیں۔اس طرح کی بیان بازی سے نتیش کمارکے ترقیاتی سفر کو روکا جا سکتا ہے اور نہ ان کے عزائم کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔ بہار کی حالیہ انتخابی کامیابیوں اور ترقیاتی کام اس کی گواہی دیتے ہیں کہ نتیش کمار کی حکمت عملی عوام کی توقعات کے عین مطابق ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ طے ہے کہ ری اسٹرکچرنگ سے پارٹی کو نئی نسل کی قیادت ملے گی، جو 2025 کے انتخابات میں کامیابی کو برقرار رکھنے میں مدد دے گی۔ ساتھ ہی اس سے پارٹی کی وحدت اور قیادت کا سلسلہ باوقار ڈھنگ سے جاری رہے گا، جو ریاست میں اور خوشحالی کا ضامن ہوگا۔ تاہم پارٹی قیادت کو چاہئے کہ یہ تبدیلیاں شفاف اور جامع انداز میں ہو، تاکہ پارٹی کی بنیاد مزید مضبوط ومستحکم ہو سکے۔یقین ہے کہ نتیش کمار کی سیاسی دانشمندی سے بہار کی سیاست میں جے ڈی یو کا وقار مزید بلند ہوگا۔